03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میت کے گھر حلال و حرام کمائی والوں کے بھیجے ہوئے کھانے کا حکم
83987جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے گاؤں میں اکثر لوگوں کی کمائی حرام ہے، جس کا اقرار وہ خود بھی کرتے ہیں۔ گاؤں میں جب کوئی فوتگی ہوتی ہے تو لوگ چائے وغیرہ لے جاتے ہیں اور مرحوم کے گھر والوں کو دیدیتے ہیں۔ مرحوم کے گھر والے تعزیت کے لیے آنے والوں کو چائے پلاتے ہیں، جس میں یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ حرام کمائی والوں کی چائے ہے یا حلال کمائی والوں کی۔ اس طرح کی چائے پینا درست ہے یا نہیں؟

تنقیح: سائل نے "گاؤں کے اکثر لوگوں کی کمائی حرام ہونے" کی وضاحت کرتے ہوئے فون پر بتایا کہ ہمارے گاؤں کے اکثر لوگ پیٹرول، تیل اور ڈیزل کے کام سے وابستہ ہیں، اس میں وہ دھوکہ دہی کرتے ہیں، پیٹرول، تیل اور ڈیزل کم ڈالتے ہیں، جبکہ میٹر تیز چلاتے ہیں اور پیسے اسی حساب سے زیادہ وصول کرتے ہیں۔ میت کے گھر یہ لوگ بھی چائے، پراٹھے وغیرہ لاتے ہیں اور جائز کام کاج کرنے والے لوگ بھی۔ تعزیت والوں کو جب کچھ کھلایا پلایا جاتا ہے تو ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ یہ کس کے گھر کا کھانا یا چائے ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ ناپ تول میں کمی کرنا سخت ناجائز اور حرام ہے، قرآنِ کریم اور احادیثِ طیبہ میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں۔ لہٰذا جو لوگ پیٹرول اور تیل کم ڈال کر پیسے زیادہ وصول کرتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور گڑ گڑا کر توبہ و استغفار کریں، آئندہ کے لیے یہ کام نہ کرنے کا پکا عزم کریں، نیز اب تک انہوں نے جن جن لوگوں کے ساتھ اس طرح دھوکہ کیا ہے، اگر وہ سب یا ان میں سے کچھ متعین طور پر معلوم ہوں تو ان کا جتنا حق بنتا ہو (اگر یقینی طور پر ان کا حق معلوم نہ ہو تو غالب گمان کے مطابق ان کا جتنا حق بنتا ہو) وہ کسی بھی طریقے سے ان کو دیدیں، جو لوگ معلوم نہ ہوں اور ان تک پہنچنا ممکن نہ ہو تو ان کا حق ان کی طرف سے بغیر نیتِ ثواب کے فقراء کو بطورِ صدقہ دیدیں۔

اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے:

  • اگر تعزیت کرنے والوں کو یقین یا غالب گمان کے ساتھ معلوم نہ ہو کہ ہمیں پیش کی جانے والی چائے اور کھانا وغیرہ کس کے گھر سے آیا ہے تو ان کے لیے وہ کھانا کھانا اور چائے پینا جائز ہے، اس کی تحقیق میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔
  • اور اگر یقین یا غالب گمان سے معلوم ہو کہ یہ اس شخص کے گھر سے آیا ہے جو پیٹرول، تیل اور ڈیزل کے ناپ تول میں کمی کرتا ہے تو بھی کھانے پینے کی گنجائش ہے، کیونکہ ان لوگوں کا اصل کاروبار جائز ہے، وہ گاہک کو جتنا پیٹرول، تیل یا ڈیزل دیتے ہیں، اس کے بقدر ان کا مال حلال ہے اور یہی غالب ہوگا، البتہ جو زیادہ جو پیسے لیتے ہیں، وہ حرام ہیں اور یہ اصل مال کے مقابلے میں مغلوب یعنی کم ہوگا۔ نیز وہ جتنی چائے یا کھانا لے کر آتے ہوں گے، وہ ان کے حلال مال سے زیادہ کا نہیں ہوگا، اس لیے ایسے لوگوں کا کھانا کھانے اور چائے پینے کی بھی گنجائش ہے۔ تاہم اگر کسی کو یقینی طور پر معلوم ہو کہ مجھے پیش کی گئی چائے یا کھانا ناپ تول میں کمی کرنے والے کے گھر سے آیا ہے تو اس سے بچنا بہتر ہے، بالخصوص اہلِ علم اور مقتدا حضرات کو۔  
حوالہ جات

شعب الإيمان للبيهقي (5/ 67):

أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق ثنا أبو مسلم ثنا عبد الله بن رجاء ثنا مسلم بن خالد عن زيد بن أسلم عن سمي عن أبي صالح عن أبي هريرة قال قال النبي صلى الله عليه وسلم: "إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم فليأكل من طعامه ولا يسأل ويشرب من شرابه ولا يسأل."  قال الشيخ:  ورواه سفيان بن عيينة عن ابن عجلان عن سعيد عن أبي هريرة رواية.  قال: "وهذا إن صح فلأن الظاهر أن المسلم لا يطعمه ولا يسقيه إلا ما هو حلال عنده."

مرقاة المفاتيح (10/ 167):

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم فليأكل من طعامه ولا يسأل أي من أين هذا الطعام ليتبين أنه حلال أم حرام ويشرب بالجزم من شرابه ولا يسأل فإنه قد يتأذى بالسؤال،  وذلك إذا لم يعلم فسقه كما ينبىء عنه قوله على أخيه المسلم.

فتح الباري (9/ 584):

قوله: "وقال أنس: إذا دخلت على مسلم لا يتهم فكل من طعامه واشرب من شرابه"  وصله ابن أبي شيبة من طريق عمير الأنصاري سمعت أنساً يقول مثله، لكن قال: " على رجل لاتتهمه"

وجاء نحو ذلك عن أبي هريرة مرفوعا أخرجه أحمد والحاكم والطبراني من طريق أبي صالح عن أبي  هريرة بلفظ "إذا دخل أحدكم على أخيه المسلم فأطعمه طعاما فليأكل من طعامه  و  لا يسأله عنه،   قال الطبراني: تفرد به مسلم بن خالد، قلت: وفيه مقال لكن أخرج له الحاكم  شاهداً من رواية بن عجلان عن سعيد المقبري عن أبي هريرة رواية بنحوه أخرجه بن أبي شيبة من هذا الوجه موقوفاً.  ومطابقة الأثر للحديث من جهة كون اللحام لم يكن متهما وأكل النبي صلى الله عليه و سلم من طعامه ولم يسأله.  وعلى هذا القيد يحمل مطلق حديث أبي هريرة، والله أعلم.

فقه البیوع (2/1054):

4- إن خلط الغاصب المال المغصوب أو الحرام بمال نفسه الحلال، فالصحیح فی مذھب الحنفیة أنہ یجوز لہ الانتفاع من المخلوط بقدر حصتہ فیہ، وکذلك یجوز للآخذ منہ ھبةً أو شراءً أو إرثاً أن ینتفع بہ بذلك القدر….. الخ

  5- إن لم یعرف فی المخلوط من الحلال و الحرام أنھما متمیزان أو مختلطان، وکم حصة الحلال فی المخلوط؟ فالأولیٰ التنزہ، ولکن یجوز التعامل بذلك المخلوط إذا غلب علی الظن أن المتعامَل بہ لا یتجاوز قدرَ الحلال.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        23/ذو القعدۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب