03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
معمَّر امام (جس سے عذر کی وجہ سےبعض سنتیں رہ جاتی ہوں) کی امامت کا حکم
83968نماز کا بیانامامت اور جماعت کے احکام

سوال

ہماری مسجد کے امام صاحب اپنی عمر کے بڑے حصے میں ہیں، ضعف طاری ہو چکا ہے، بیماری کے سبب اپنی ذاتی نمازیں کرسی پر ادا کرتے ہیں، لیکن امامت کرنے پر بضد ہیں۔ مسجد میں امامت کے علاوہ اسکول میں ٹیچر کے طور پر ملازمت سے ریٹائر ہو چکے ہیں اور اب پینشن  لے رہے ہیں۔ اپنا ذاتی فلیٹ کرایہ پر دیا ہوا ہے اور فیملی کے ساتھ مسجد کے مکان میں قیام پذیر ہیں۔ ان سے امامت کے دوران کچھ واجبات اور سنن متروک ہو جاتی ہیں، جیسے کہ:

قیام: قیام اس طرح کرتے ہیں کہ دیکھنے والا محسوس کرتا ہے کہ جیسے قب نکلا ہوا ہے۔

قراءت: قراءت بڑی مختصر کرتے ہیں، مثلا سورۃ الضحی جیسی سورتوں کو بھی آدھا کر کے پڑھتے ہیں۔

رکوع: رکوع بھی ادنیٰ حالت پر کرتے ہیں، اگر ہاتھ کو بڑھایا جائے تو گھٹنے پکڑ میں آجائیں، یعنی صرف اتنا جھکنے کی زحمت کرتے ہیں کہ ہاتھ گھنٹوں تک پہنچ جائیں۔

سجدہ اولیٰ: سجدہ میں جاتے وقت پہلے ہاتھ، پھر گھٹنے، پھر چہرہ زمین پر رکھتے ہیں، دورانِ سجدہ  ایک پاؤں  ہوا میں معلّق ہوتا ہے، کبھی دونوں،کبھی ایک پاؤں کی صرف ایک انگلی زمین سے ٹچ  ہو رہی ہوتی ہے۔

جلسہ: جلسہ کی حالت یہ ہے کہ جیسے کوئی گھوڑا بنا ہوا ہے (معذرت)، اس حالت میں  وہ ایک ہاتھ سے مستقل زمین پر سہارہ لیے ہوئے ہوتےہیں۔

سجدۂ ثانیہ: دوسرا سجدہ بھی پہلے سجدے کے مانند ہوتاہے، فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ دوسرے سجدے سے پہلے باقی اعضائے سجود مع ید زمین سے مس ہوتےہیں، صرف چہرہ رکھنا باقی ہوتا ہے۔

قعدۂ اولی: قعدۂ اولیٰ گھوڑا بنے ہونے کی حالت میں کرتے ہیں۔

قعدۂ اخیرہ:  قعدۂ اخیرہ چوکڑی مار کر کرتے ہیں، اس  میں بھی سیدھے پاؤں کو آگے نکال کر بیٹھتے ہیں اور اسی حالت میں نماز مکمل کراتے ہیں۔

جو کچھ بیان کیا گیا ہے، اس میں کوئی ذاتیات نہیں ہیں، لیکن امام صاحب چاہتے ہیں کہ جب تک وہ زندہ ہیں، امامت وہی کریں ۔  سوال یہ ہے کہ کیا اس حالت میں ان کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے؟ خیال رہے کہ امامت کے لئے دوسری شخصیات دستیاب ہیں۔ کافی افراد اعتراض کرتے ہیں کہ اس حال میں ان کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی، صرف چند افراد جن میں کچھ عمر رسیدہ ہیں، ان کی حمایت کرتے ہیں۔ اس معاملے میں دینی راہنمائی درکار ہے، تاکہ ہم اپنی نمازوں کی حفاظت کر سکیں۔ تحریر میں الفاظ کے چناؤ میں کچھ بے ادبی ہوئی ہے، اُس کے لئے معذرت چاہتے ہیں۔ امام صاحب کی نماز کی ادائیگی کی ایک مختصر ویڈیو بھی بھیج رہے ہیں، اس کو دیکھ کر معاملات کو سمجھنے میں آسانی ہو گی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ نے سوال میں امام صاحب کی نماز کی جو خامیاں ذکر کی ہیں، ذیل میں آپ کی ارسال کردہ ویڈیو کی روشنی میں ہر خامی کا جائزہ اور شرعی حکم بیان کیا جاتا ہے۔ اس سے مذکورہ امام صاحب کی امامت کا حکم بھی  واضح ہوجائے گا۔  

(1)۔۔۔ قیام: امام صاحب کے قیام میں کوئی شرعی خرابی نہیں، قیام میں ان کی کمر سیدھی نظر آتی ہے، قب نکلا ہوا نہیں ہے، عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے کمر کچھ جھکی ہوئی محسوس ہوتی ہے، لیکن اس کی وجہ سے نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی۔

(2)۔۔۔ قراءت: قراءت مختصر کرنا ایسی بات نہیں جس کی وجہ سے نماز یا امامت درست نہ ہو۔

(3)۔۔۔ رکوع: امام صاحب کا رکوع بھی درست ہے، عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے کمر بالکل سیدھی نہ کرسکنے کی وجہ سے نماز میں کوئی کراہت نہیں آئے گی۔

(4)۔۔۔ سجدۂ اولیٰ اور سجدۂ ثانیہ: سجدۂ اولیٰ میں جاتے ہوئے اعضا رکھنے کی مسنون ترتیب یہ ہے کہ سب سے پہلے گھنٹے زمین پر رکھے جائیں، پھر ہاتھ اور آخر میں چہرہ۔ لیکن اگر عذر کی وجہ سے پہلے ہاتھ رکھنے پڑیں تو اس کی گنجائش ہے اور اس کی وجہ سے نماز میں کوئی کراہت نہیں آئے گی۔

ویڈیو میں دورانِ سجدہ امام صاحب کے دونوں پیر زمین پر رکھے نظر آرہے ہیں اور جسم کی ہیئت بھی ٹھیک ہے، قد طویل ہونے اور عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے اگر عام آدمی کی نسبت زیادہ دراز معلوم ہوتے ہیں تو اس کی وجہ سے نماز میں کوئی کراہت نہیں آئے گی۔ ویڈیو میں نظر آنے والی ہیئت کو گھوڑے سے تشبیہ دینا درست نہیں۔ سجدۂ ثانیہ بھی سجدۂ اولیٰ کی طرح ہے اور ٹھیک ہے۔    

(5)۔۔۔ جلسہ اور قعدۂ اولیٰ: جلسہ میں امام صاحب مکمل سیدھا نہیں بیٹھ سکتے، بلکہ کمر جھکی ہوئی ہوتی ہے، بایاں  ہاتھ ران پر رکھتے ہیں، جبکہ دائیں ہاتھ سے زمین پر سہارا لیے ہوتے ہیں۔ یہی کیفیت قعدۂ اولیٰ میں بھی ہوتی ہے۔ اس صورت میں بھی مکمل سیدھا نہ بیٹھنا اور ایک ہاتھ زمین پر رکھنا چونکہ عذر کی وجہ سے ہے، اس لیے اس کی وجہ سے نماز میں کوئی کراہت نہیں آئے گی۔  

(6)۔۔۔ قعدۂ ثانیہ: قعدہ میں بغیر کسی عذر کے چہار زانو (چوکڑی مارکر) بیٹھنا مکروہِ تنزیہی ہے، لیکن اگر کوئی عذر کی وجہ سے اس طرح بیٹھے تو کراہتِ تنزیہیہ بھی نہیں ہوگی۔ لہٰذا اس وجہ سے بھی امام صاحب کی نماز یا امامت میں کوئی کراہت نہیں آئے گی۔

خلاصہ یہ ہے کہ عمر رسیدہ ہونے کی وجہ سے امام صاحب نماز میں کسی فرض یا واجب عمل کو نہیں چھوڑتے، البتہ نماز کے بعض افعال سنت کے مطابق ادا نہیں کرپاتے، اور چونکہ یہ عذر کی وجہ سے ہے، اس لیے اس کی وجہ سے خود ان کی یا مقتدیوں کی نماز مکروہ نہیں ہوگی۔ ان کی امامت بلا کراہت درست ہے، جو افراد یہ کہتے ہیں کہ اس امام صاحب کے پیچھے ہماری نماز نہیں ہوتی، ان کی بات درست نہیں۔

       (باستفادۃٍ من امداد الفتاوی: 1/317 و امداد الاحکام: 1/ 504- 514- 543)

البتہ اگر امام صاحب عذر کی وجہ سے نماز میں پیش آنے والی دشواری اور بعض مقتدیوں کی تشویش کو دیکھتے ہوئے از خود امامت کے منصب سے مستعفی ہوں تو یہ فریقین کے لیے بہتر اور مفید معلوم ہوتا ہے۔ اس صورت میں مسجد کمیٹی اور اہلِ محلہ کو چاہیے کہ امام صاحب کی سابقہ خدمات کے پیشِ نظر ان کے لیے ماہانہ بنیادوں پر مستقل کفالت کا انتظام کریں یا پھر استعفا دیتے وقت ان کی خدمت میں یکمشت معتد بہ رقم پیش کریں۔ لیکن اگر امام صاحب اس بات پر رضامند نہ ہوں تو ان کو جبراً معزول کرنا درست نہیں۔   

حوالہ جات

رد المحتار (1/ 550):

أما شروط الإمامة فقد عدها في نور الإيضاح على حدة، فقال: وشروط الإمامة للرجال الأصحاء ستة أشياء: الإسلام، والبلوغ، والعقل، والذكورة، والقراءة، والسلامة من الأعذار، كالرعاف، والفأفأة، والتمتمة، واللثغ، وفقد شرط، كطهارة وستر عورة ا ه.

رد المحتار (1/ 589):

قوله ( وقائم بأحدب ) القائم هنا أيضا صادق بالراكع الساجد بالمومي ح. وفيه عن القاموس والحدب خروج الظهر ودخول الصدر والبطن من باب فرح ا هـ  قوله ( على المعتمد )  هو قولهما، وبه أخذ عامة العلماء، خلافا لمحمد، وصحح في الظهيرية قوله، ولا يخفى ضعفه، فإنه    ليس أدنى حالا من القاعد، وتمامه في البحر.

الدر المختار (1/ 497):

( ويسجد واضعا ركبتيه ) أولا لقربهما من الأرض ( ثم يديه ) إلا لعذر ( ثم وجهه )…… الخ

رد المحتار (1/ 498):

 ويضع اليمنى منهما أولا ثم اليسرى كما في القهستاني، لكن الذي في الخزائن: واضعا ركبتيه ثم يديه، إلا أن يعسر عليه لأجل خف أو غيره، فيبدأ باليدين ويقدم اليمنى ا ه.  ومثله في البدائع والتاترخانية والمعراج والبحر وغيرها. ومقتضاه أن تقديم اليمنى إنما هو عند العذر الداعي إلى وضع اليدين أولا، وأنه لا تيامن في وضع الركبتين، وهو الذي يظهر لعسر ذلك.

الدر المختار (1/ 477-456):

 ( لها واجبات ) …. ( وهي ) على ما ذكره أربعة عشر ( قراءة فاتحة الكتاب )… … (وتعديل الأركان) أي تسكين الجوارح قدر تسبيحة في الركوع والسجود، وكذا في الرفع منهما على ما اختاره الكمال...............الخ

( وسننها )…..(رفع اليدين للتحريمة )……… (وتكبير السجود، و ) كذا نفس ( الرفع منه ) بحيث يستوي جالسا...... (والجلسة ) بين السجدتين ووضع يديه فيها على فخذيه كالتشهد للتوارث.

البحر الرائق (2/ 25):

قوله ( والتربع بلا عذر ) لأن فيه ترك سنة القعود في الصلاة، كذا علل به في الهداية وغيرها. وما قيل في وجه الكراهة أنه جلوس الجبابرة ليس بصحيح؛ لأنه عليه السلام كان جل قعوده في غير الصلاة مع أصحابه التربع، وكذا عمر رضي الله عنه، كذا ذكره المصنف وغيره.

وتعليلهم بأن فيه ترك السنة يفيد أنه مكروه تنزيها؛ إذ ليس فيه نهي خاص؛ ليكون فيه تحريما. وقيد بكونه بلا عذر؛ لأنه ليس بمكروه تنزيها مع العذر؛ لأن الواجب يترك مع العذر، فالسنة أولى. وفي صحيح البخاري عن عبد الله بن عبد الله أنه كان يرى عبد الله بن عمر يتربع في الصلاة إذا جلس ففعلته وأنا يومئذ حديث السن، فنهاني عبد الله بن عمر وقال: إنما سنة الصلاة أن تنصب رجلك اليمنى وتثني اليسرى، فقلت: إنك تفعل ذلك، فقال: إن رجلي لا يحملاني.  وعليه يحمل ما في صحيح ابن حبان عن عائشة: رأيت النبي يصلي متربعا،  أو تعليما للجواز.

ثم الجلوس متربعا معروف، وإنما سمي بالتربع؛ لأن صاحب هذه الجلسة قد ربع نفسه، كما يربع الشيء إذا جعل أربعا، والأربع هنا الساقان والفخذان، ربعها بمعنى أدخل بعضها تحت بعض.

الدر المختار (1/ 558):

( و ) اعلم أن ( صاحب البيت ) ومثله إمام المسجد الراتب ( أولى بالإمامة من غيره ) مطلقا (إلا أن يكون معه سلطان أو قاض فيقدم عليه ) لعموم ولايتهما. وصرح الحدادي بتقديم الوالي على الراتب ( والمستعير والمستأجر أحق من المالك ) لما مر.  ( ولو أم قوما وهم له كارهون إن ) الكراهة ( لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره ) له ذلك تحريما لحديث أبي داود لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما وهم له كارهون ( وإن هو أحق لا) والكراهة عليهم.

رد المحتار (1/ 559):

قوله ( مطلقا ) أي وإن كان غيره من الحاضرين من هو أعلم وأقرأ منه.

     عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

        25/ذو القعدۃ/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب