03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غیر رہائشی بچوں کے لیےاتوار کے دن مدرسے میں حاضری سے متعلق اصول
83990متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک دینی ادارہ ہے جس میں پورا ہفتہ معمول کے مطابق پڑھائی ہوتی ہے،  تقریبا نمازِ فجر کے ایک گھنٹہ  بعد سے رات نو بجے تک پڑھائی اوراتوار کےدن چھٹی کا معمول ہے،ایسے ہی یکم کے قریب جو ہفتہ آتا  ہےاس کو ماہانہ چھٹی ہوتی ہے،البتہ جن کا سبق ہفتہ  رات کونہ سنا  ہو توصبح نماز سے قبل ان کاسبق سنا جاتا ہے اور جو بچہ نماز سے قبل بھی  نہ سناسکےتو نماز کے بعداس کاسبق سننے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھرمقیم بچوں کی اتوار مغرب تک چھٹی ہو جاتی ہے۔

ایسے ہی بڑی کوشش کی کہ غیر رہائشی بچے اتوار صبح کو بھی آئیں اور اتوار مغرب کے وقت بھی ادارہ میں آکر پیر کے دن کا سبق یاد کریں،اوریہ انتظامیہ  کی ہرطرح سے   کوشش رہی، لیکن اس فیصلے سے والدین کی طرف سے  یہ الفاظ سننے کو ملے کہ  ادارہ جب اتنا وقت  دے کر اچھا رزلٹ دے رہا ہے تو مزید سختی پر بچے بھی ماننے کو تیار نہیں اور ہم بھی بڑی مشکل سے یہ  اصول  ماننے کو تیار ہوں گے۔مہتمم صاحب کا حکم یہ ہے کہ جو بچہ پڑھنا چاہتا ہے وہ ہر صورت میں یہ اصول مانے ورنہ اسے ادارہ میں داخلہ نہ دیں،پوچھنا یہ  ہے کہ کیا یہ اصول شرعی ہے ؟

 نوٹ: یاد رہے کہ ماہانہ ہفتہ اور  اتوار کی  چھٹی جیسے مقیم بچوں کو ہوتی ہے ویسے شہریوں کو بھی ہوتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسولہ میں مہتمم صاحب نے جو اصول بنایا  ہے، یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انتظامی بات ہے،لہذا جیسے چاہیں اس کو حل کر لیں۔

حوالہ جات

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 25 /ذی قعدہ/1445ھ    

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب