| 83653 | طلاق کے احکام | وہ اسباب جن کی وجہ سے نکاح فسخ کروانا جائز ہے |
سوال
سوال:السلام علیکم !میری شادی کو 10,9 سال ہو گئے ہیں، میری 2 بیٹیاں ہیں، جب میری شادی ہوئی تو مجھے معلوم نہیں تھا کہ میرا شوہر نشہ کرتا ہے، شادی سے پہلے کچھ معلومات میرے گھر والوں کو ملی ،میرے والدین کو کسی نے بتایا کہ لڑکا ٹھیک نہیں، لوفر ہے،چوری چکاری بھی کرتا ہے تو میرے گھر والوں نے لڑکے والوں سے بات کی کہ تمہارا بیٹا ٹھیک نہیں ہے اسلئے ہم رشتہ توڑنا چاہتے ہیں، تو انہوں نے غلط بیانی کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا بالکل ایسا نہیں ہے، میرا یہ بیٹا باقی بیٹوں سے بہت اچھا ہے، ہم گارنٹی لیتے ہیں کہ اگر تمہاری بچی کو کل کو کوئی پریشانی ہوئی تو ہم اس کا ساتھ دیں گے،اور اس کے تمام اخراجات برداشت کریں گے۔
شادی کے سات آٹھ مہینے بعد مجھے معلوم ہوا کہ میرا شوہر نشہ کرتا ہے اور جو کچھ کماتا تھا وہ اپنے اوپر خرچ کرتا تھا ہم جوائنٹ فیملی میں رہتے تھے اور گھر کا خرچہ میرے دیور چلا رہے تھے ، جب میرا شوہر نشہ اور پوڈر میں پڑ گیا تو دیور نے مجھے اور میرے شوہر اور ساس کو گاؤں میں بھیج دیا، تاکہ وہ اس ماحول سے بچ جائیں اور تقریبا ایک سال سے زائد عرصہ ہم گاؤں میں رہے اس دوران گھر کا خرچہ میرے شوہر کے بھائیوں نے اٹھایا اور میری ساس کراچی آ گئی اور اس کے کچھ عرصے بعد شوہر بھی کراچی آ گیا۔
چونکہ کراچی میں ہم کرائے کے گھر میں رہتے تھے اور گھر کے اخراجات بھی زیادہ تھے توآپس کے جھگڑے بھی ہونے لگے، میرا شوہرکوئی کام نہیں کرتا تھا اور میرے شوہر کی بھابیاں بھی مجھ سے لڑنے لگیں اور طعنہ دیتی تھیں، میں خاموش تھی کیونکہ میرا شوہر کماتا نہیں تھا ، پھر جب میری بیٹی پیدا ہوئی تو میرے اخراجات بڑھ گئے، پہلے تو روکھی سوکھی کھا کر گزارا کر لیتی تھی، لیکن اب بچی کے اخراجات اور علاج معالجہ کے اخراجات بھی تھے ،ان سے اخراجات لڑ جھگڑ کر لیتی تھی، ڈاکٹر کے پاس جانا ہوتا تو ساس سے لڑکر پیسے لیتی تھی ،لیکن وہ بڑی مشکل سے ملتے تھے، میرے پاس دو تولے سونا تھا ،ان میں سے کچھ تو میرے بچی کے علاج اور اس کے غذا میں استعمال ہو گیا اور کچھ دیگر خرچوں میں۔
چونکہ گھریلو جھگڑے بہت زیادہ ہو گئے تھے، اس لیے ہم اپنے دیوروں سے الگ ہو گئے اور کرائے کا الگ گھر لیا،میرے پاس کچھ سونا تھا وہ کرایہ میں لگایا، میرے شوہر کی امی بھی کبھی کبھی پیسے دیتی تھی،جس سے گزارا ہو رہا تھا،میرے پڑوس کی ایک عورت تھی، اللہ اس کا بھلا کرے ،انہوں نے میرے شناختی کارڈ کی کاپی مجھ سے لے کر ایک مسجد کے امام کے پاس جمع کروائی ،وہاں سے مجھے کچھ راشن ملتا تھا، جس سے کچھ گزارا ہو جاتا تھا پھر جب میرے دیوروں کی بیویوں کو راشن کا پتہ چلا تو انہوں نے امام صاحب کو تنگ کرنا شروع کیا کہ ہمیں بھی راشن دے دو تو امام صاحب نے کہا ابھی وہ راشن آنا بند ہو گیاہے،میرے گھر کا کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے (جو کہ زیادہ تھا) وہ گھر چھوڑ دیا اور میرے پڑوسن نے دوسرا گھر کرایہ پر دلوایا ،جو بہت سستا تھا اور کرایہ بھی وہ عورت دیتی تھی ، گھر کا خرچہ چلانے کے لیے ساس سے لڑ کر پیسے لیتی تھی اور کبھی کبھی کسی رشتہ دار کی طرف سے کچھ پیسے مل جاتے تھے۔
وقت کے ساتھ میرے شوہر کا نشہ بڑھتا گیا یہاں تک کہ میرے دیوروں نے اس کو زنجیروں سے باندھ دیا اور گھر میں رکھا لیکن اس طرح شوہر کو باندھ کر اس کا خیال رکھنا بہت مشکل تھا ،وہ چیختا تھا ،چلاتا تھا اور نشہ نہ ملنے کی وجہ سے اس کی حالت بدتر ہو جاتی تھی اور پھر ڈاکٹر کے پاس لے جانا پڑتا تھا۔
میرے گھر کا سامان میرے شوہر نے نشہ کے لیے بیچ دیا،پنکھا سولر وغیرہ بھی تھا وہ بھی بیچ دیا، صرف ایک صندوق جس میں میرے پہننے کے کپڑے تھے وہ چھوڑ دی اور بہت دفعہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے میرا شوہر مجھ سے لڑتا اور جو پیسے مجھے کسی نے دیے ہوتے وہ بھی چھین لیتا تھا اور نشہ کرتا تھا ،آخر کار پیسے نہ ہونے کی وجہ سے مکان مالک کا کرایہ بھی کئی مہینے چڑھ گیا ، آئے روز وہ گھر آ کر پیسوں کا مطالبہ کرتا تھا تو گھر چھوڑنا پڑا۔
مفتی صاحب! میرے والد صاحب بہت غریب آدمی ہیں، ان کے پاس اتنی گنجائش نہیں کہ وہ گھر کے ساتھ میرے اخراجات بھی اٹھائے،میں کبھی اپنے ماموں کے گھر چلی جاتی ہوں اور دو ڈھائی مہینے وہاں رہتی ہوں اور کبھی اپنے خالہ کے گھر چلی جاتی ہوں اور وہاں رہتی ہوں اور ایسے بھی ہوا کہ اپنی بہنوئی کے گھر میں رہتی تھی، اس دوران میرا شوہر اور اس کے گھر والے میرے بارےمیں کچھ نہیں پوچھتے تھے اور نہ ان کو کوئی پرواہ تھی۔
میرا ان سے مطالبہ تھا کہ مجھے اتنے خرچہ دیا کرو تاکہ میں اپنے بچیوں کی پرورش کر سکوں ،بیمار ہوں تو ڈاکٹر کے پاس لے جا سکوں ،لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے پاس رہیں اور کھائیں، پییں، حالانکہ اس سے پہلے بھی میں ان کےساتھ رہی ،لیکن بچوں کے اخراجات کے لیے پیسے نہیں دیتے تھے اور بہت سخت ضرورت ہوتی تو لڑنےاور جھگڑنے کے بغیر میری ساس پیسے نہیں دیتی تھی۔
اب میرے ماموں کہتے ہیں کہ ان سے طلاق لے لو اورروز روز کے جھگڑوں سے جان چھڑا لو، لیکن میرا شوہر اور ان کے گھر والے مجھے طلاق نہیں دے رہے اور طلاق کو غیرت کے خلاف سمجھتے ہیں، جبکہ میرا مطالبہ ہے کہ میرا اور میرے بچوں کا خرچہ اٹھاؤ ،میں اس شوہر کے ساتھ راضی ہوں، جب کہ وہ اس مطالبہ کو بھی پورا نہیں کر رہے ،جرگہ میں یہ فیصلہ ہوا کہ چار ماہ کی مہلت دے دو اگر شوہر ٹھیک ہوا اور اس کے گھر والوں نے آپ کے جائز حقوق اور اخراجات دیے تو ٹھیک، ورنہ شوہر طلاق دے گا اس کےبعدبھی کافی عرصہ ہو گیا ،لیکن وہ خاموش ہیں اور کچھ نہیں کر رہے ۔
میرے ماموں عدالت کے ذریعے طلاق لینا چاہ رہے ہیں، تو یہ معلوم کرنا تھا کہ عدالت کےذریعہ جوطلاق ملتی ہےوہ شرعا طلاق ہے یا نہیں؟
اور اگر عدالت طلاق دے تو میں دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہوں یا نہیں،کیونکہ میری عمر 25 سال کے قریب ہے اور ماموں بھی نکاح کا کہہ رہے ہیں تو کیا یہ شریعت میں ٹھیک ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
یک طرفہ عدالتی خلع تو کسی صورت معتبرنہیں ہوتا،کیونکہ خلع کےلیےشوہرکی رضامندی شرعاضروری ہوتی ہے، ، ایسی صورت میں طلاق بھی نہیں ہوتی اورمیاں بیوی کاسابقہ نکاح بھی برقراررہتاہے۔
موجودہ صورت میں یک طرفہ عدالتی خلع تومعتبرنہیں ہوگا،البتہ چونکہ اسباب فسخ نکاح/ فرقت(جن صورتوں میں عورت کوعدالت کےذریعہ فسخ نکاح کاشرعااختیارہوتاہے)میں سےایک سبب تعنت فی النفقہ(گنجائش کےباوجودبیوی کےحقوق نان نفقہ وغیرہ نہ دینا)پایاجاتاہے،لہذابیوی عدالت یاجماعت المسلمین کےذریعہ نکاح فسخ کرواسکتی ہےایسی صورت میں عدالت کےذریعےفسخ نکاح کاطریقہ حکیم الامۃ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کی مشہورکتاب الحیلۃ الناجزہ للحیلۃ العاجزہ میں مذکورہے:
"الحیلۃ الناجزۃ للحیلۃ العاجزہ" ص 101:
صورت تفریق یہ ہےکہ عورت اپنامقدمہ قاضی اسلام یامسلمان حاکم اوران کےنہ ہونےکی صورت میں جماعت مسلمین کےسامنےپیش کرےاورجس کےپاس پیش ہووہ معاملہ کی شرعی شہادت وغیرہ کےذریعہ سےپوری تحقیق کرےاوراگرعورت کادعوی صحیح ثابت ہوکہ باوجود وسعت کےخرچ نہیں دیتا،تواس کےخاوند سےکہاجائےکہ اپنی عورت کےحقوق اداء کرویاطلاق دےدو،ورنہ ہم تفریق کردیں گے،اس کےبعد بھی اگروہ کسی صورت پرعمل نہ کرےتوقاضی یاشرعاجواس کےقائم مقام ہو،طلاق واقع کردے،اس میں کسی مدت کےانتظا راورمہلت کی باتفاق مالکیہ ضرور ت نہیں۔۔۔
مذکورہ بالاتفصیل کےمطابق فیصلہ کیاجائےتووہ عدالت کافیصلہ شرعامعتبرہوگااگرچہ عدالتی فیصلہ میں خلع لکھاگیاہواوریہ فسخ نکاح طلاق بائن کےحکم میں ہوگا، اس کےبعدعورت عدت(تین ماہواریاں)گزارکردوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔
اوراگرعدالت کےچکرلگانامشکل ہوں اوریہ گمان ہوکہ عدالت میں فیصلہ میں تاخیرہوگی،جیساکہ آج کل عدالتوں کی صورت حال ہےتوپھراس کاآسان طریقہ یہ ہےکہ عورت جماعۃ المسلمین(چندعلماء ومفیتان کرام کی جماعت/یامعتبردارالافتاء کےچندمفتیان کرام )کےسامنےدوگواہوں کی موجودگی میں اپنادعوی ثابت کرےاوریہ جماعت یادارالافتاء کےحضرات گواہوں کےذریعہ پورےمعاملےکی اچھی طرح تحقیق کریں،پھرشرعی طریقےکےمطابق فسخ نکاح کافیصلہ کردیاجائےتوبھی یہ فیصلہ شرعامعتبرہوگا۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرة آیت 229 :
فان خفتم ألایقیماحدوداللہ فلاجناح علیہما فیماافتدت بہ۔
" الھندیة"1 /488 :
اذاتشاقا الزوجان وخافاأن لایقیما حدوداللہ فلابأس بأن تفدی نفسہا منہ بمال یخلعہا بہ۔
"زادالمعاد" 2/238 :
وفی تسمیتہ صلی اللہ علیہ وسلم الخلع فدیۃ دلیل علی أن فیہ معنی المعاوضۃ ولہذااعتبرفیہ رضاالزوجین ۔
"ردالمحتارعلی الدرالمختار" 12/109 :
وشرطہ کالطلاق (وھواھلیة الزوج وکون المراة محلاللطلاق منجزا،اومعلقاعلی الملک،امارکنہ فھوکمافی البدائع اذاکان بعوض الایجاب والقبول لانہ عقد علی الطلاق بعوض ۔
الموسوعة الکویتیة" 29/ 54:
الطلاق:نوع من انواع الفرقة وھوملک للزوج وحدہ ،ذالک ان الرجل یملک مفارقة زوجتہ اذاوجد مایدعوہ الی ذالک بعبارتہ وارادتہ المنفردة ،کماتملک الزوجة طلب انھاء علاقتھاالزوجیة اذاوجد مایبررذالک،کاعسارالزوج بالنفقة،وغیبة الزوج،وماالی ذالک من اسباب اختلف الفقہاءفیھاتوسعةوتضییقا۔ولکن ذالک لایکون بعبارتھاوانما بقضاء القاضی الاان یفوضھا الزوج بالطلاق فانھافی ھذہ الحالۃ تملکہ بقولھاایضا۔
وذھب المالکیة الی اٴن واجب الحکمین الاصلاح اولا،فان عجز اعنہ لتحکمالشقاق کان لھماالتفریق بین الزوجین دون توکیل ،ووجب علی القاضی ،امضاء حکمھمابھذالتفریق ،اذااتفقاعلیہ وان لم یصادف ذالک اجتھادہ ۔
التفریق لسوء المعاشرة :
نص المالکیة علی ان الزوجة اذااضربھازوجھاکان لھاطلب الطلاق منہ لذالک،سواءتکرر منہ الضررام لا،کشتمھا،وضربھا ضربامبرحا،وھل تطلق بنفسھاھنابامرالقاضی اویطلق القاضی عنھا؟قولان للمالکیة ولم ارمن الفقہاء الآخرین من نص علیہ بوضوح ،وکانھم لایقولون بہ مالم یصل الضررالی حد اثارة الشقاق ،فان وصل الی ذالک ،کان الحکم کماتقدم ،من لہ حق الطلاق ۔بحوالہ "فتاوی عثمانی "2/462 :"
"ردالمحتارعلی الدرالمختار"3/444:
وحکمہ ان)الواقع بہ(ولوبلامال)وبالطلاق الصریح)علی مال طلاق بائن(وثمرتہ فیمالوبطل البدل کماسیجیء۔
"المبسوط" 8 / 311:"قال اللہ تعالی فی سورۃ البقرۃ( آیت: 227)
وإن عزموا الطلاق فإن الله سميع عليم۔۔۔وهو إشارة إلى أن عزيمة الطلاق بما هو مسموع وذلك بإيقاع الطلاق أو تفريق القاضي ، والمعنى فيه أن التفريق بينهما لدفع الضرر عنها عند فوت الإمساك بالمعروف ، فلا يقع إلا بتفريق القاضي كفرقة العنين ، فإن بعد مضي المدة هناك لا تقع الفرقة إلا بتفريق القاضي بل أولى ؛ لأن الزوج هناك معذور وهنا هو ظالم متعنت ، والقاضي منصوب لإزالة الظلم فيأمره أن يوفيها حقها ، أو يفارقها ، فإن أبي ناب عنه في إيقاع الطلاق وهو نظير التفريق بسبب العجز عن النفقة ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
14/شوال 1445ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


