03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
منہ بولابیٹااحکام میں حقیقی بیٹے کی طرح ہے یانہیں؟
83719جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میرانام محمدشعیب ہے،میرے چاربیٹے اورایک بیٹی ہے،ایک بیٹامیں نے اپنے کزن جمال کودیدیاتھا،کیونکہ ان کی اولاد نہیں تھی،کافی عرصہ بعدان کابیٹاہوگیا،اس کے بعد جمال نے بیوی کوطلاق دیدی،جمال کااپنابیٹااپنی والدہ کے پاس رہتاہے،اب اس نے دوسری شادی کی  ہے اوردوسری بیوی سے کوئی بچہ نہیں ہے،دوسرے بھائی نے بیٹی جمال کودی ہے،نیزمیرااپنابیٹاجمال کے پاس رہتاہے،اس تفصیل کی روشنی میں پہلاسوال یہ ہے کہ جمال کی دوسری بیوی اورمیرے بیٹے کے درمیان ماں بیٹے کارشتہ ہے یانہیں؟یہ بچی اورمیرے بیٹے کے درمیان بہن بھائی کارشتہ ہے یانہیں؟ جمال کی جائیدادمیں حصہ یانہیں،شناختی کارڈ میں والدکانام میرالکھاجائے گا یاجمال کا۔

واضح رہے کہ میرے بیٹے نے جمال کی کسی بھی بیوی کادودھ نہیں پیاہے،میرابیٹاجمال کو ابو اوراس کی اہلیہ کو امی کہتاہے،مجھے اور میری اہلیہ کوابواورامی نہیں کہتا،پتہ اس کوسب ہے کہ جمال اس کانسبی والد نہیں ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 کسی کو منہ بولا بیٹا بنانے سے شرعًا وہ حقیقی بیٹا نہیں بن جاتا اور نہ ہی اس پر حقیقی اولاد  والے احکام جاری ہوتے ہیں،  اسی طرح لے پالک اور منہ بولی اولاد کو ان کے اصل والد کی طرف منسوب کرنا ضروری ہے۔ صورت مسؤلہ میں آپ کے بیٹے کوگود لینے اورپالنے سے جمال اوراس کی اہلیہ آپ کے بیٹے کے حقیقی والدین نہیں  بنے اورنہ ہی آپ کے بھائی کی بیٹی بہن بنی ہے،جمال کی اہلیہ اوراس کی منہ بولی بیٹی دونوں نامحرم ہیں،وفات کی صورت میں ایک دوسرے کے وارث بھی نہیں ہیں،واضح رہے شناختی کارڈ میں والد کی جگہ میں آپ کانام لکھناضروری ہے،جمال کانام لکھناجائزنہیں۔

حوالہ جات

فی القرآن الكريم ،سورہ احزاب:

وما جعل أدعياءكم أبناءكم ذلكم قولكم بأفواهكم والله يقول الحق وهو يهدي السبيل (4) ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله فإن لم تعلموا آباءهم فإخوانكم في الدين ومواليكم وليس عليكم جناح فيما أخطأتم به ولكن ما تعمدت قلوبكم وكان الله غفورا رحيما (5)

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

 ۲/ذی قعدہ ۱۴۴۵ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب