| 83994 | جائز و ناجائزامور کا بیان | رشوت کا بیان |
سوال
کنسلٹنٹ گورنمنٹ سے رجسٹرڈ ایک کمپنی ہوتی ہے، جو مختلف شعبہ جات کو مفید مشورے فراہم کرتی ہے،جس کے عوض اس کو معاوضہ ملتا ہے،اس کی ضرورت تمام شعبہ جات میں ہوتی ہے۔ بندہ نے بھی ایک اسی طرح کی کمپنی بنائی ہے جوکہ کنسٹرکشن کی مشاورت کی کمپنی ہے، جس میں ہم مختلف ادروں سے کنسٹرکشن کے ٹھیکہ جات کے حصول کے لئے رابطہ کرتے ہیں، کچھ ادارے بغیر کچھ لئے ٹھیکہ جات فراہم کرتے ہیں، عموماً گورنمنٹ کے اداروں میں ایک طے شدہ فی صد کا رواج ہے،وہ ٹھیکہ اسی وقت دیتے ہیں ،جب اپنافی صد لیتے ہیں، اس کے بغیر کسی کو ٹھیکہ نہیں ملتا ،اگر کوئی فی صد کے حساب سے رقم دیتا ہےتو اس کو مل جاتا ہے اور اگر ہم جیسا کوئی نہ دے تو نہیں ملتا۔ اپنے کلائنٹس کے اصرار پر ہمیں بھی فی صدمجبوراً آگے دینا پڑتاہے اور کلائنٹ وہ فیصد ملاکر ہمیں بھی اپنی فیس ادا کر دیتا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ٹھیکہ جات پر دی جانے والی رقم چونکہ گورنمنٹ کی طرف سے نہیں ہوتی ،بلکہ افسرانِ بالا ملی بھگت سے لے رہے ہوتے ہیں تو یہ نا جائز ہے۔ اگر نہ دیں تو کام نہیں ملتا ،اگر دیں تو گنہگار۔ ایسے میں کیا کوئی گنجائش کی صورت بنتی ہے؟ کیونکہ اداروں کیساتھ ہم بطور مشیر رجسٹرڈ بھی ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ہم سے کم فیصد لیتے ہیں اور ہمیں زیادہ فیس مل جاتی ہے۔ ہمارا کام ادارے کو فیصد ادا کرکے اپنے کلائنٹس کے کاغذات تیار کروا کر اسکے حوالے کرنا ہوتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر قانونی لحاظ سے ٹھیکہ پر زائد رقم لینے کی اجازت نہ ہو ، ٹھیکہ دار معقول شرائط پر ٹھیکہ لینے کےلیے تیار ہو ، اس کےباوجود افسران حکومت سے چھپ کر زائد رقم لے رہے ہوں تو یہ زائد رقم رشوت ہے ۔ رشوت کا حکم یہ ہے کہ عام حالا ت میں اس کا لینا اور دینا دونوں ناجائز ہے ، البتہ اپنے جائز حق کو حاصل کرنے یا دفعِ ضرر کےلیے رشوت کےعلاوہ کوئی چارہ نہ ہوتو بوقت مجبوری رشوت دینے کی گنجائش ہے ، تاہم لینا پھر بھی ناجائزہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں تمام متعلقہ کمپنیوں پر لازم ہےکہ وہ رشوت دیئے بغیر اپنے کاروباری حقوق کے حصول کےلیے ان افسران سے ٹھیکے لینے کا بائیکاٹ کریں ، چونکہ وہ ٹھیکوں کو واپس کرنہیں سکتے، اس لیے لازما وہ رشوت کےبغیر ٹھیکے دینے پر مجبور ہوں گے ۔لیکن اگر بائیکاٹ پر ساری کمپنیاں متفق نہ ہو رہی ہوں اور بقیہ کمپنیا ں رشوت دینے سے باز بھی نہیں آرہی ہوں تو بوقت مجبوری اپنا کاروبای حق حاصل کرنے کے لیے صرف اہل ٹھیکہ دار حضرات کےلیے آپ کے واسطے سے بقدر ضرورت رشوت دینے کی گنجائش ہے ، افسران کے لیے لینا جائز نہیں ۔
حوالہ جات
القرآن الکریم[البقرة: 188]:
{ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ}.
سنن الترمذي (3/ 15):
عن أبي هريرة قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي في الحكم.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 450):
ليس للمتولي أخذ زيادة على ما قرر له الواقف أصلا ويجب صرف جميع ما يحصل من نماء وعوائد شرعية وعرفية لمصارف الوقف الشرعية،
(قوله: ويجب صرف إلخ) حاصل ما ذكره المصنف أنه سئل عن قرية موقوفة يريد المتولي أن يأخذ من أهاليها ما يدفعونه بسبب الوقف من العوائد العرفية من سمن ودجاج وغلال يأخذونها لمن يحفظ الزرع، ولمن يحضر تذريته فيدفع المتولي لهما منها يسيرا ويأخذ الباقي مع ما ذكر لنفسه زيادة على معلومه فأجاب: جميع ما تحصل من الوقف من نماء وغيره مما هو من تعليقات الوقف يصرف في مصارفه الشرعية كعمارته ومستحقيه اهـ ملخصا لكن أفتى في الخيرية بأنه إذا كان في ريع الوقف عوائد قديمة معهودة يتناولها الناظر بسعيه له طلبها لقول الأشباه عن إجارات الظهيرية والمعروف عرفا كالمشروط شرطا فهو صريح في استحقاقه ما جرت به العادة اهـ ملخصا.
مطلب في تحرير حكم ما يأخذه المتولي من عوائد
قلت: ويؤيده ما في البحر من جواز أخذ الإمام فاضل الشمع في رمضان إذا جرت به العادة وقد ظهر لي أنه لا ينافي ما ذكره المصنف لأن هذا في المتعارف أخذه من ريع الوقف بأن تعورف مثلا أن هذا الوقف يأخذه متوليه عشر ريعه فحيث كان قديما يجعل كأن الواقف شرطه له، وما ذكره المصنف فيما يأخذه المتولي من أهل القرية كالذي يهدى له من دجاج وسمن، فإن ذلك رشوة، وكالذي يأخذه من الغلال المذكورة التي جعلت للحافظ فافهم.
مطلب فيما يسمى خدمة وتصديقا في زماننا
نعم إن كان ما يأخذه منهم تكملة أجر المثل يجب صرفه في مصارف الوقف وذلك كما يقع في زماننا كثيرا أن المستأجر إذا كان له كدك أو كردار في دكان أو عقار لا يستأجر إلا بدون أجر المثل، ويدفع للناظر دراهم تسمى خدمة لأجل أن يرضى الناظر بالإجارة المذكورة، فهي في الحقيقة من أجرة المثل.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 362):
وفي المصباح الرشوة بالكسر ما يعطيه الشخص الحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على ما يريد....وفي الفتح: ثم الرشوة أربعة أقسام: منها ما هو حرام على الآخذ والمعطي وهو الرشوة على تقليد القضاء والإمارة.الثاني: ارتشاء القاضي ليحكم وهو كذلك ولو القضاء بحق؛ لأنه واجب عليه.الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط .....الرابع: ما يدفع لدفع الخوف من المدفوع إليه على نفسه أو ماله حلال للدافع حرام على الآخذ؛ لأن دفع الضرر عن المسلم واجب ولا يجوز أخذ المال ليفعل الواجب، اهـ ما في الفتح ملخصا.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
26 /ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


