| 83876 | سنت کا بیان (بدعات اور رسومات کا بیان) | متفرّق مسائل |
سوال
بعض علاقوں میں یہ مشہورہےکہ جب کسی آدمی کی کسی سےلڑائی ہوجائےاوران کاآپس میں بول چال بندہوجائےتویہ سمجھتےہیں کہ جب تک ان کابول چال شروع نہیں ہوگاان کاکھاناحرام ہےیعنی وہ حرام کھارہاہے،یہ بات شرعی طورپرکس حدتک درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
تلاش کے باوجود کسی حدیث میں یہ مضمون نہیں ملا کہ قطع تعلقی کی وجہ سے کھانا پینا حرام ہو جائے، البتہ کسی مسلمان سے قطع تعلقی بہت بڑا گناہ ہے اور قرآن وحدیث میں اس پر سخت وعیدیں آئی ہیں، چنانچہ ایک حدیث میں وارد ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ تین دن سے زیادہ قطع تعلقی رکھے، جو شخص تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے گا اگر وہ اس حالت میں مر گیا تو جہنم میں داخل ہو گا۔
اس لیے کسی بھی مسلمان کے ساتھ قطع تعلقی کرنا جائز نہیں، لیکن اس کی وجہ سے یہ کہنا درست نہیں کہ اس کا کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔
حوالہ جات
القرآن الكريم [البقرة: 27]:
{الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِنْ بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَنْ يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ أُولَئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ}
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (7/ 274) دار الرسالة العالمية:
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم-: "لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث، فمن هجر فوق ثلاث فمات، دخل النار.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
15/ذوالقعدة 1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


