| 84035 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے فاسد معاملات کا بیان |
سوال
ہم گاؤں کے رہائشی ہیں اور ہمارا کام جانور پالنا اور کھیتی کرنا ہے ،میں نے ایک گائے 50ہزار کی خریدی اور کسی آدمی کو حصے پر دے دی اور اس سے یہ طےکرلیا کہ جب ہم گائے کو ایک سال یا بڑي عید پر بیچیں گے، تو میں 50ہزار اپنا نکال لوں گا اور باقی رقم ہماری آدھی آدھی ہو گی،مثلا گائے 50ہزار کی خریدی اور ایک لاکھ کی فروخت ہوئی، تو میں نے جو اس سے طے کیا تھا یعنی پہلے اپنے 50 ہزارلونگا اور باقی بچ جانے والے 50ہزار کو دو حصوں میں تقسیم کریں گے،اب مجھے 25ہزار منافع ملے گا اور جس بندے نے میری گائے کی دیکھ بھال کی ہے اس کو بھی 25ہزار ملیں گے،اس دوران میں اس کو گھاس چارے کے پیسے نہیں دوں گا،وہ خود ہی چارہ کھلائے گا،مگر جب بیمار ہوجائے تو اس کی دوائی کے پیسے بھی دوں گا اور جب بیچوں گا تو اس کو اپنے پیسوں سے تیل گھی اور گھی والا آٹا بھی لے کردوں گا،تو کیا یہ کاروبار کرنا ٹھیک ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
گائے خرید کرایک تہائی یا کسی بھی حصے پر دیکھ بھال کے لئے دینا شرعا جائز نہیں،اس سے اجارہ فاسدہ ہوجاتاہے،کیونکہ اجارہ میں اجرت اور مدت متعین و معلوم ہونا ضروری ہے اور یہاں پر نہ اجرت معلوم ہے نہ محنت،معلوم نہیں گائے کتنے کی بکے گی اوراس پر کتنی محنت لگے گی،اگر بالفرض محنت معلوم ہوجائے تو بھی اجرت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے اجارہ فاسدہ ہو گا ،لہذا گائے وغیرہ بدستور مالک کی ملکیت میں ہوگی، اس دوران اگر پالنے والےنے اپنے پیسوں سے چارہ وغیرہ کھلائے گاہو تو وہ مالک کے ذمہ واجب ہوگی اور جتنے دن خدمت کرے گااس کی اجرت بھی مالک پر واجب ہوگی اور اجرت اتنی ہو گی جتنی عام طور سے اس مقصد کے لئے کسی شخص کو مزدوری پر رکھ کر دی جا تی ہے۔دوسری طرف اس دوران اگر پالنے والا دودھ وغیرہ استعمال کرے تو اتنا ہی دودھ یا اس کی قیمت دینا اس پر واجب ہوگی۔یہ حکم اس وقت ہوگا جب کسی نے اس طرح کے معاملات مستقبل میں کرنے ہو ں ،لیکن اگر کسی نے ایسے معاملات ماضی میں کئے ہوں یا ابتلاءشدید ہو تو وہاں پر امام احمد کی ایک روایت کے مطابق عمل کی گنجائش ہے۔
البتہ بعض اہلِ علم کے مطابق احتیاط بچنے میں ہی ہے ان حضرات کے ہاں اس کا جائز متبادل یہ ہے ،کہ باہم رضامندی سے مالک گائے خریدے اور پالنے والے کو گائے کا ایک تہائی حصہ فروخت کرنے کے بعد اس کی قیمت معاف کردے ،پھر جب گائے فروخت کرنی ہو تو دوتہائی قیمت خود رکھ لے اور ایک تہائی پالنے والے کو دے دے،نیزاس دوران پالنے والےنے اپنی طرف سے جو چارہ وغیر کھلایا ہے وہ معاف کردے اور مالک بھی پالنے والے کو معاف کردے جو انہوں نے اپنے حصہ سے زائد دودھ وغیرہ استعمال کیا ہے ،اس سے شرکت کا معاملہ بھی درست ہوجائے گا اور دونوں کو نفع بھی حاصل ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى الهندية (4/ 445):
دفع بقرة إلى رجل على أن يعلفها وما يكون من اللبن والسمن بينهما أنصافا فالإجارة فاسدة وعلى صاحب البقرة للرجل أجر قيامه وقيمة علفه إن علفها من علف هو ملكه لا ما سرحها في المرعى ويرد كل اللبن إن كان قائما، وإن أتلف فالمثل إلى صاحبها لأن اللبن مثلي، وإن اتخذ من اللبن مصلا فهو للمتخذ ويضمن مثل اللبن لانقطاع حق المالك بالصنعة والحيلة في جوازه أن يبيع نصف البقرة منه بثمن ويبرئه عنه ثم يأمر باتخاذ اللبن والمصل فيكون بينهما .
امدادالفتاوی (302/7):
الجواب : كتب إلى بعض الأصحاب من فتاوى ابن تيمية كتاب الاختيارات عالمه ولو دفع دابته أو نخلة إلى من يقوم له وله جزء من نمائه صح، وهو رواية عن أحمد . پس حنفیہ کے قواعد پرتو یہ عقد نا جائز ہے۔ كما نقل في السوال عن عالمگيرية ،ليکن بنابر نقل بعض اصحاب امام احمد کے نزدیک اس میں جواز کی گنجائش ہے، پس تحرز احوط ہے، اور جہاں ابتلاءشدید ہو تو سع کیا جا سکتا ہے۔
المغني لابن قدامة (5/ 328):
ولو استأجر راعيا لغنم بثلث درها ونسلها وصوفها وشعرها، أو نصفه، أو جميعه، لم يجز. نص عليه أحمد، في رواية جعفر بن محمد النسائي؛ لأن الأجر غير معلوم، ولا يصلح عوضا في البيع. وقال إسماعيل بن سعيد: سألت أحمد عن الرجل يدفع البقرة إلى الرجل، على أن يعلفها ويتحفظها، وما ولدت من ولد بينهما. فقال: أكره ذلك
وبه قال أبو أيوب، وأبو خيثمة. ولا أعلم فيه مخالفا؛ وذلك لأن العوض مجهول معدوم، ولا يدرى أيوجد أم لا، والأصل عدمه، ولا يصح أن يكون ثمنا. فإن قيل: فقد جوزتم دفع الدابة إلى من يعمل عليها بنصف ربحها. قلنا: إنما جاز ثم تشبيها بالمضاربة؛ لأنها عين تنمى بالعمل، فجاز اشتراط جزء من النماء، والمساقاة كالمضاربة، وفي مسألتنا لا يمكن ذلك؛ لأن النماء الحاصل في الغنم لا يقف حصوله على عمله فيها، فلم يمكن إلحاقه بذلك.
عبدالعلی
دارالافتا ء جامعۃالرشید،کراچی
24/ ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالعلی بن عبدالمتین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


