03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تبلیغی جماعت میں جانے کےلیے دی گئی زکوٰۃ کے پیسوں سے اپنی ضروریات پوری کرنے کاحکم
84048زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

ایک طالب علم سال کے لیے تبلیغی جماعت کیساتھ جانے کا ارادہ رکھتا تھا، کسی آدمی نے اس طالب علم کو زکوٰۃ کی کچھ رقم دے دی، تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کریں ،اب وہ طالب علم سال کے لیے نہیں گیا ، بلکہ مدرسہ میں تعلیم حاصل کررہا ہے ، کیا اس طالب علم کے لیےاس رقم سے اپنی ضروریات پوری کرنا جائز ہے ْ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر وہ طالب علم واقعۃً زکوۃ کا مستحق تھا ،تو زکوۃ کی رقم لینے کے بعد وہ اس کا مالک ہوچکا ہے،اور زکوۃ ادا ہوچکی ہے،لہذا اس طالب علم کےلیے اس رقم سے اپنی ضروریات پوری کرنا جائز ہے۔تاہم طالب علم کےلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ تبلیغ میں جانے کا تأثر دیکر زکوٰۃ کی رقم حاصل کرے اور تبلیغ میں نہ جائے ، کیوں کہ اس سے لوگوں کی دلوں میں علماء سے بدگمانی پیدا ہوتی ہے۔

حوالہ جات

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره، ولو أذن فمات فإطلاق الكتاب يفيد عدم الجواز وهو الوجه نهر (و) لا إلى (ثمن ما) أي قن (يعتق) لعدم التمليك وهو الركن. وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم.( ردالمحتار : 345/2)

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

1  ٖذوالحجہ 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب