| 84045 | زکوة کابیان | عشر اور خراج کے احکام |
سوال
اگر کسی شخص نے نہری یا بارانی زمین ٹھیکہ پر لی ہے تو اس کے ذمہ کتنا عشر ہوگا او رزمین کے مالک کے ذمہ کتنا عشر ہوگا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام حالات میں ٹھیکہ پر لی گئی زمین کا عشر ٹھیکہ دار پر لازم ہے،کیونکہ عشر پیداوار کے تابع ہوتا ہے جو کہ سارا کا سارا ٹھیکہ دار لیتا ہے اور مالک کو متعین کرایہ ادا کرتا ہے، تاہم اگر مالک اجرت مثل یا اس سےزیادہ اجرت وصول کررہا ہو تو عشر مالک کے ذمہ لازم ہو گا ۔
زمین کو قابل کاشت بنانے سے لے کر پیداوار کےحصول تک کے اخراجات منہا کیے بغیر بارانی زمین میں دس فی صد اور نہر ی زمین میں بیس فی صد عشر لازم ہے ۔ البتہ اس کی پیکنگ ، لوڈ نگ اور منڈی تک لے جانے کے اخراجات دو شرائط کےساتھ منہا کیے جاسکتے ہیں :
1. اس جگہ کوئی خریدار نہ مل رہا ہو یا مل رہا ہو لیکن منڈی لے جا کر زیادہ قیمت پر بکنے کی وجہ سے مستحقین زکوۃ کے زیادہ فائدے کا یقین یا غالب گمان ہو۔
2. منڈی لے جانے کے بعد پیداوار کی قیمت سے عشر ادا کیا جائے ، پیداوار سے ادا نہ کیا جائے۔
حوالہ جات
الدر المختار مع رد المحتار(334/2):
والعشر على المؤجر كخراج موظف وقالا على المستأجر كمستعير مسلم: وفي الحاوي وبقولهما نأخذ
(قوله: والعشر على المؤجر) أي لو أجر الأرض العشرية فالعشر عليه من الأجرة كما في التتارخانية وعندهما على المستأجر قال في فتح القدير: لهما أن العشر منوط بالخارج وهو للمستأجر وله أنها كما تستنمى بالزراعة تستنمى بالإجارة فكانت الأجرة مقصودة كالثمرة فكان النماء له معنى مع ملكه فكان أولى بالإيجاب عليه...قلت: لكن في زماننا عامة الأوقاف من القرى والمزارع لرضا المستأجر بتحمل غراماتها ومؤنها يستأجرها بدون أجر المثل بحيث لا تفي الأجرة، ولا أضعافها بالعشر أو خراج المقاسمة، فلا ينبغي العدول عن الإفتاء بقولهما في ذلك؛ لأنهم في زماننا يقدرون أجرة المثل بناء على أن الأجرة سالمة لجهة الوقف ولا شيء عليه من عشر وغيره أما لو اعتبر دفع العشر من جهة الوقف وأن المستأجر ليس عليه سوى الأجرة فإن أجرة المثل تزيد أضعافا كثيرة كما لا يخفى فإن أمكن أخذ الأجرة كاملة يفتى بقول الإمام وإلا فبقولهما لما يلزم عليه من الضرر الواضح الذي لا يقول به أحد والله تعالى أعلم
الفتاوى الهندية (1/ 187):
ولا تحسب أجرة العمال ونفقة البقر، وكري الأنهار، وأجرة الحافظ وغير ذلك فيجب إخراج الواجب من جميع ما أخرجته الأرض عشرا أو نصفا كذا في البحر الرائق.
الفتاویٰ التاتارخانیہ (3/292):
"إذا كانت الأرض عشريةً فأخرجت طعاماً وفي حملها إلى الموضع الذي يعشر فيه مؤنة فإنه يحمله إليه ويكون المؤنة منه۔
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
27 /ذی قعدہ/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


