| 83881 | زکوة کابیان | سونا،چاندی اور زیورات میں زکوة کے احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک عورت کے پاس تین تولہ سونا ہے جو تین سال سے اس کے پاس موجود ہے ،اس کے علاوہ ابھی اس عورت نے کمیٹی ڈالی ہے جس میں اس نے ابھی تک آٹھ مہینوں میں سولہ ہزارروپے جمع کئے ہیں، تو اب اس سونے میں زکوة کاکیاحکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جس تاریخ کو یہ سونا اس خاتون کی ملکیت میں آیا تھا اس سے اگلے سال اسی اسلامی تاریخ کو اگراس عورت کے پاس ان تین سالوں میں اس سونے کے ساتھ کچھ چاندی یا نقدرقم یامالِ مال تجارت بھی رہا ہو اورعام طورپر کچھ رقم بندے کےپاس رہتی ہی ہے تو اس صورت میں اس پر ان تین سالوں کی زکوة واجب ہوگی اورآخری سال میں مذکورہ سونے کے ساتھ بی سی میں جمع کردہ مذکورہ رقم (سولہ ہزارروپے) بھی شامل کی جائے گی اوراس پر بھی زکوة واجب ہوگی۔
اوراگران تین سالوں میں مذکورہ عورت کے پاس متعلقہ اسلامی تاریخ کوسونے کے علاوہ مذکورہ چیزوں (چاندی،نقدرقم،مالِ تجارت) میں سےکوئی چیز نہیں تھی تو پھر اس عورت پرزکوة واجب نہیں ہوگی، ہاں آخری سال بی سی میں جمع کردہ مذکورہ رقم اگر اس کے پاس متعلقہ تاریخ تک رہتی ہے تو اس کو بھی سونے کےساتھ ملاکرزکوة واجب ہوگی ۔
واضح رہےکہ زکوة کا مدارصرف ساڑھے سات تولہ سونے پراس وقت ہوتا ہے جب اس کے ساتھ اموالِ زکوة (چاندی،نقدرقم،مالِ تجارت)میں سےکوئی اور جنس نہ ہو، لیکن اگر سونے کے ساتھ اموالِ زکوة میں سےکوئی اورچیز ہو تو گو کم مقدارمیں ہوپھرزکوة کی فرضیت کا مدار ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت پوری ہونے پرہوجاتا ہے۔
بہرحال مسئولہ صورت میں احتیاط پوری مدت کی زکوة کی ادائیگی میں ہے ،کیونکہ عام طور تھوڑی بہت رقم آدمی کے پاس ہوتی ہی ہےاورعبادات میں احتیاط اولی ہے۔
بہتر یہ ہے کہ سابقہ سالوں کی زکوة موجودہ قیمت فروخت کے حساب سے ادا کی جائے،لیکن اگر سونے کی قیمت بہت زیادہ بڑھنے کی وجہ سے موجودہ قیمت فروخت کے لحاظ سے ادائیگی مشکل ہو توگزشتہ سالوں کی قیمت فروخت کے لحاظ سے ادا کرنا بھی درست ہے۔(احسن الفتاوی 4/ 278)
لہذا پہلےایک سال کی زکوٰۃ کا حساب لگایا جائے ،اس کی ادائیگی کے بعد جو رقم بچے اگروہ نصاب تک پہنچے، تو دوسرے سال کی زکوٰۃ نکالی جائے، اسی طرح دوسرے سال کی زکوة منہا کرنے کے بعد اگر بقایا رقم نصاب تک پہنچے، تو تیسرے سال کی زکوة ادا کی جائے، جتنے سالوں کی زکوة ادا نہیں کی ان کا حساب اس طریقہ پر کیا جائے گا۔(بحوالہ المفتی آن لائن رقم الفتوی:80103)
حوالہ جات
وفی بدائع الصنائع (2/ 19) :
فأما إذا كان له الصنفان جميعاً، فإن لم يكن كل واحد منهما نصاباً بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم، فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا ... (ولنا) ما روي عن بكير بن عبد الله بن الأشج أنه قال: مضت السنة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم بضم الذهب إلى الفضة والفضة إلى الذهب في إخراج الزكاة ؛ ولأنهما مالان متحدان في المعنى الذي تعلق به وجوب الزكاة فيهما، وهو الإعداد للتجارة بأصل الخلقة والثمنية، فكانا في حكم الزكاة كجنس واحد ؛ ولهذا اتفق الواجب فيهما وهو ربع العشر على كل حال، وإنما يتفق الواجب عند اتحاد المال.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 303):
"(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين)؛ لأن الكل للتجارة وضعاً وجعلاً (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة).
وفی بدائع الصنائع(٢ / ٢٢، ط: دار الكتب العلمية):
وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا.( (كتاب الزكوة، فَصْلٌ صِفَةُ الْوَاجِبِ فِي أَمْوَالِ التِّجَارَةِ. )
وفی الدر المختار (2/ 285):
(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء.
وفی فتح القدير (2/ 219):
ثم قول أبي حنيفة فيه: إنه تعتبر القيمة يوم الوجوب وعندهما يوم الأداء، والخلاف مبني على أن الواجب عندهما جزء من العين وله ولاية منعها إلى القيمة فتعتبر يوم المنع كما في منع الوديعة وولد المغصوب، وعنده الواجب أحدهما ابتداء، ولذا يجبر المصدق على قبولها فيستند إلى وقت ثبوت الخيار وهو وقت الوجوب. ولو كان النصاب مكيلا أو موزونا أو معدودا كان له أن يدفع ربع عشر عينه في الغلاء والرخص اتفاقا، فإن أحب إعطاء القيمة جرى الخلاف حينئذ، وكذا إذا استهلك ثم تغير لأن الواجب مثل في الذمة فصار كأن العين قائمة، ولو كان نقصان السعر لنقص في العين بأن ابتلت الحنطة اعتبر يوم الأداء اتفاقا لأنه هلاك بعض النصاب بعد الحول، أو كانت الزيادة لزيادتها اعتبر يوم الوجوب اتفاقا لأن الزيادة بعد الحول لا تضم.
وفی بدائع الصنائع (2/ 7):
إذا كان لرجل مائتا درهم أو عشرين مثقال ذهب فلم يؤد زكاته سنتين يزكي السنة الأولى، وليس عليه للسنة الثانية شيء عند أصحابنا الثلاثة.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
17/11/1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


