| 73633 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
1997میں جب میرے دادا ابو فوت ہوئے تو ان کی وراثت 60ایکڑزمین تھی ،اس وقت ان کے چار بیٹے اورچاربیٹیاں زندہ تھیں اورسب کے سب عاقل بالغ اورشادی شدہ تھے ،دادا کی وفات کے بعد میرے والد صاحب اورمیرے بڑے چچااپنی تمام بہنوں کے پاس گئےاوران سے کہا کہ آپ اگر جائیدادمیں سے حصہ لینا چاہیں توہ لے لیں یاا تنی رقم لے لیں یا معاف کرناچاہیں تو معاف کردیں ،ایک بہن نے رقم لے لی اورتین نے حصہ معاف کردیا توپھر وہ 60ایکڑ 4بیٹوں اورپانچویں بیٹے جو دادا سے پہلے فوت ہوچکے تھے ان کی اولاد میں تقسیم کردی گئی ،اس طرح میرےوالد صاحب کے حصے مین 12ایکڑزمین آگئی ،ساڑھے تین ایکڑوالد صاحب نے اپنی زندگی میں فروخت کردی تھی اوربقیہ ساڑھے آٹھ ایکڑزمین اب والد صاحب کی وفات کے بعد ہم تین بھائیوں اوردو بہنوں اوروالد ہ میں شرعی طریقے سے تقسیم کردی گئی ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ میرے حصے میں جوتقریباً دو ایکڑزمین آئی ہے کیا وہ ٹھیک ہے یا کچھ میرے ذمہ اب بھی باقی ہے ،دادا ابو کی بیٹیوں کو حصہ نہ دینے کی وجہ سے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جواب سے پہلے بطور تمہید چند باتوں کا جاننا ضروری ہے۔
١۔ شریعت مطہرہ نے جس طرح اصل ترکہ میں مذکر ورثاء (لڑکوں) کے حصص مقرر کیے ہیں ، اسی طرح مؤنث ورثاء (لڑکیوں) کے بھی حصے بیان کیے ہیں۔
۲۔پھر میراث کی تقسیم میں لوگوں کی لغزشوں اورکوتاہیوں کی وجہ سے رب ذوالجلال نے اپنے پاک کلام میں میراث کے اصول بیان کرنے پر اکتفا نہیں کیا ، بلکہ جزئیات تک بیان فرما دیں اور اس کے لیے ایک قانون اور ضابطہ مقرر کیا۔
۳۔میراث کو شرعی اصول وضوابط کے مطابق تقسیم نہ کرنے والے کے متعلق قرآن وحدیث میں سخت سے سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں اور ان حدود پر گامزن نہ رہنے والوں کو جہنم کے دائمی عذاب سے متنبہ کیا ہے۔
حضور صلی الله علیہ وسلم نے ایسے شخص کے متعلق بیان فرمایا ”جس نے اپنے وارث کا حق مارا، قیامت کے روز الله تعالیٰ اس کو اس کے جنت کےحصہ سے محروم کر دیں گے “ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جس شخص نے کسی کی زمین سے ظلماً ایک بالشت جگہ لی تو اس کو قیامت کے روز سات زمینوں کا طوق پہنا یا جائے گا۔“
۴۔وراثت میں سے اپنی بہنوں کو محروم کرنا زمانہ جاہلیت کی بُری رسم ہے ، جوکہ شریعت سے متصادم ہے، اس کا ترک ہمارے ذمہ فرض اور ضروری ہے ۔
اس تمہید کے بعد آپ کےسوال کا جواب یہ ہے کہ کسی وارث کا ترکہ میں سے کچھ لئے بغیر زبانی طور پراپنا حصہ بخش دینا درست نہیں، اس سے اس کا ترکہ میں حق ختم نہیں ہوتا، بلکہ بدستور باقی رہتاہے،لہذا مسؤلہ صورت میں آپ کے دادا ابو کے تین بیٹیوں نے ان کی وفات کے بعدآپ کے والداور چچا کے سامنے جو زبانی طور پر اپنا حصہ معاف کیا ہے وہ معاف نہیں ہوا ،اب بھی وہ اپنا حق مانگ سکتی ہیں اوردیگرورثہ پر لازم ہے کہ ان کاحق پورا پورا اداکرے اگر کسی زمین یا جائیداد کے عوض اس کی قیمت دینا چاہیں تو موجودہ قیمت دینا لازم ہوگی۔
آپ کے دادا ابو کےجس بیٹی نےکچھ نقد رقم لیکر اپنا حق معاف کیاہے وہ معاف ہوگیاہے،بشرطیکہ آپ کے دادابو کے ترکہ میں کسی پر قرض نہ ہواور جتنی نقدرقم مذکورہ بیٹی نےلی ہے،باقی ترکہ میں یا تو نقد رقم بالکل نہ ہویا ہومگر اس میں متعلقہ بیٹی کا باقی ماندہ حصہ لی جانے والی رقم سےزائد ہو،کم یا برابرنہ ہو۔
جن تین بہنوں کا حق معاف نہیں ہوا وہ اب چونکہ بھائیوں اورپھر ان کی اولاد کی طرف منتقل ہوچکا ہے،لہذا ان سب پرلازم ہے کہ داداکی مذکورہ بیٹیوں کوان کے شرعی حصے لوٹادیں،اگروہ نہ رہے ہوں تو ان کی اولاد کو لوٹادیں یا باہمی رضامندی سےکوئی چیز دیکر ان سے صلح کرلیں،اورآخرت کی مواخذہ سےاپنے آپ کو بچائیں۔
واضح رہے کہ وراثت کا حقدار بننے کیلئے مورِث کے انتقال کے وقت وارث کا زندہ ہونا شرعاً ضروری ہےلہذامسئولہ صورت میں دادا کی زندگی میں جو بیٹا فوت ہواہے، دادا کی میراث میں اس کی اولاد شرعاً وارث اور حقدار نہیں ہیں،تاہم اگرسب ورثہ عاقل، بالغ تھے اورانہوں نے اپنی رضامندی سے مذکورہ بھائی کے بچوں کو ترکہ میں سے کچھ دیا ہےتویہ اچھی بات ہےاور باعثِ اجروثواب ہے،تاہم چونکہ اس میں بھی دادا کی مذکورہ بیٹیوں کاحصہ آگیاہے، لہذا وہ بھی دادا کی بیٹیوں کا حصہ واپس کریں گے،یا ان کو کچھ دیکر صلح کریں گے ۔
باقی ہر وارث کو کتناحصہ ملے گا،اس کےلئے ترتیب سے ہر فوت ہونےوالے کا نام اوراس کی موت کے وقت موجود ورثة اوران کے نام لکھ کر دوبارہ پوچھنا ہوگا۔
حوالہ جات
تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ یُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ خٰلِدِینَ فِیْہَا وَذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ. وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِینٌ.(۴:۱۳۔۱۴(
«قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من قطع ميراثا فرضه الله، قطع الله ميراثه من الجنة» سنن سعيد بن منصور (١/ ١١۸)
مسند أحمد - (5 / 72)
لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه.
وفي الدرالمختار (٦/٢٤٢)
(أخرجت الورثة أحدهم عن) التركة وهي (عرض أو) هي (عقار بمال) أعطاه له (أو) أخرجوه (عن) تركة هي
(ذهب بفضة) دفعوها له (أو) على العكس أو عن نقدين بهما (صح) في الكل صرفا للجنس بخلاف جنسه (قل) ما أعطوه (أو كثر) لكن بشرط التقابض فيما هو صرف (وفي) إخراجه عن (نقدين) وغيرها بأحد النقدين لا يصح (إلا أن يكون ما أعطي له أكثر من حصته من ذلك الجنس) تحرزا عن الربا، ولا بد من حضور النقدين عند الصلح وعلمه بقدر نصيبه شرنبلالية وجلالية ولو بعرض جاز مطلقا لعدم الربا، وكذا لو أنكروا إرثه لأنه حينئذ ليس ببدل بل لقطع المنازعة.
تكملة حاشية رد المحتار - (2 / 208)
وفيها: ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه، لان الارث جبري لا يصح تركه
(م م)غمز عيون البصائر - (3 / 354)
قوله لو قال الوارث تركت حقي إلخ اعلم أن الإعراض عن الملك أو حق الملك ضابطه أنه إن كان ملكا لازما لم يبطل بذلك كما لو مات عن ابنين فقال أحدهما تركت نصيبي من الميراث لم يبطل لأنه لازم لا يترك بالترك بل إن كان عينا فلا بد من التمليك وإن كان دينا فلا بد من الإبراء وإن لم يكن كذلك بل ثبت له حق التملك صح كإعراض الغانم عن الغنيمة قبل القسمة كذا في قواعد الزركشي من الشافعية۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لو قال وارث تركت حقي إلى آخر كلامه وفيه التصريح بأن إبراء الوارث من إرثه في الأعيان لا يصح وقد صرحوا بأن البراءة من الأعيان لا تصح
لسان الحكام - (1 / 236)
وفي جامع الفتاوى ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منه أو من حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.
وفی السنن الكبرى للبيهقي (۳/ ۵١٦):
عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من كانت عنده مظلمة لأخيه من عرضه، أو ماله؛ فليؤدها إليه قبل أن يأتي يوم القيامة، لا يقبل فيه دينار ولا درهم؛ إن كان له عمل صالح أخذ منه، وأعطي صاحبه، وإن لم يكن له عمل صالح أخذ من سيئات صاحبه؛ فحملت عليه ". رواه البخاري في الصحيح عن آدم بن أبي إياس، عن ابن أبي ذئب بمعناه إلا أنه قال: " فليتحلله منه اليوم قبل أن لا يكون دينار ولا درهم ".
وفی الدر المختار للحصفكي - (ج 5 / ص 256-258):
(و) شرائط صحتها (في الموهوب أن يكون مقبوضا غير مشاع مميزا غير مشغول) كما سيتضح........(و) تصح (بقبض بلا إذن في المجلس) فإنه هنا كالقبول فاختص بالمجلس (وبعده به) أي بعد المجلس بالاذن.وفي المحيط: لو كان أمره بالقبض حين وهبه لا يتقيد بالمجلس ويجوز القبض بعده (والتمكن من القبض كالقبض.
البناية شرح الهداية (10/ 38) (فصل في التخارج)
هذا فصل في بيان حكم التخارج. والتخارج ....شرعا إخراج بعض الورثة عما يستحقه في التركة بمال يدفع
إليه وسببه طلب الخارج من الورثة عند رضى غيره، وشرطه أن لا تكون التركة مشغولة بالدين كلها أو بعضها، وأن يكون ما أعطاه أكثر من نصيبه من ذلك الجنس، وشرطه عند البعض أيضا أن تكون أعيان التركة معلومة بأنها من أي جنس عند الصلح.
وفی القرآن الکریم
{وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا} [النساء : 8]
وفی المبسوط للسرخسي (18/ 34)
وجه قوله الآخر أن حياة الوارث عند موت المورث شرط ليتحقق له صفة الوراثة.
وفی تكملة الطوري شرح كنز الدقائق (8/ 577)
لأن الإرث يبنى على اليقين بسبب الاستحقاق وشرطه وهو حياة الوارث بعد موت المورث ولم يثبت ذلك فلا يرث بالشك.
وفی اللباب في شرح الكتاب (2/ 217)
ومن شرط الإرث تحقق موت الموروث وحياة الوارث.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
1/12/1442ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


