03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ٹینکی پاک کرنےکاطریقہ
70994پاکی کے مسائلپانی کے مسائل

سوال

ٹینکی میں حرام پرندہ بیٹ کردے یا گندہ پانی پڑجائے یا کوئی بھی نجاست گرجائے، ٹنکی پانی سے پوری بھری ہو،موٹر چلا دی جائے ٹنکی میں پانی جانا شروع ہوجائےاور نیچے سے ایک ٹوٹی کوخواہ ایک دومنٹ کے لیے کھول دی تو ٹنکی کے اندر کا پانی اور ٹنکی پاک ہوگئی،کیونکہ یہ جاری پانی ہوگیا ہے ،موٹر سے ٹنکی میں جانے والا پائپ بھی پاک ہوگیا جو سیمنٹ سے جوڑا ہوانہیں ہوتا ،محض اوپر سے اندر گیا ہوتا ہے،جب ٹنکی سے پہلے گندہ پانی اور نجاست  نہ نکالی تو اس طریقہ سے ٹنکی کیسے پاک ہوگئی؟ وضاحت کریں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1۔ بڑی ٹینکی ( 225 اسکوائر فٹ سےزیادہ) میں نجاست گرجائے اور پانی کے تینوں اوصاف(رنگ،بو ،مزہ) برقرارر ہیں،تو پانی ناپاک نہیں ہوگا۔

2۔ اگر پانی کے تینوں اوصاف(رنگ،بو ،مزہ)میں سے  کوئی بدل جائےیا  ٹینکی چھوٹی ( 225 اسکوائر فٹ سے کم )ہے،تو نجاست گرنے سے وہ ناپاک ہوگی۔

3۔چھوٹی ٹینکی  میں گرنے والی نجاست اگر جسم دار ہے،تو اس کو پہلے نکالنا ضروری ہے،اس کے بعد پانی کو پاک کرنا ہوگا۔

4۔ ٹینکی پاک کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ایک طرف سے پائپ وغیرہ کے ذریعہ پانی ٹینکی میں داخل کیاجائے اور دوسری طرف نل کھول دیاجائے،یا مشین کے ذریعے پانی  نکالنا شروع کیا جائے،یا جب ٹینکی  بھر جانے کے بعد بہنے لگ جائے گی،تو  جاری پانی کے حکم میں ہونے کی وجہ سے ٹینک میں موجود سارا پانی پاک ہوجائے گا۔اس میں کوئی نجاست والا پانی نہیں رہے گا۔

5۔ پانی پاک ہونے کی صورت میں ٹینکی کی دیواریں ،فرش بھی اس کے ضمن میں خود بخود  پاک ہوجائیں گے۔

حوالہ جات

الفتاوى الهندية (1/ 17):

حوض صغير تنجس ماؤه فدخل الماء الطاهر فيه من جانب وسال ماء الحوض

من جانب آخر كان الفقيه أبو جعفر - رحمه الله - يقول: كما سال ماء الحوض من الجانب الآخر يحكم بطهارة الحوض وهو اختيار الصدر الشهيد - رحمه الله -. كذا في المحيط وفي النوازل وبه نأخذ كذا في التتارخانية

الفتاوى الهندية (1/ 20):

ثم بطهارة البئر يطهر الدلو والرشاء والبكرة ونواحي البئر واليد. هكذا في محيط السرخسي.

فی الھندیۃ (1/18):

الماء الراکد اذا کان کثیرا فھو بمنزلۃ الجاری لایتنجس جمیعہ بوقوع النجاسۃ فی طرف منہ الا ان یتغیر لونہ أو طعمہ أو ریحہ وعلی ھذا اتفق العلماء وبہ اخذ عامۃ المشایخ رحمھم اﷲ کذا فی المحیط۔

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

26/جمادی الاولی1442ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب