03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نیوی ملازم کی وفات کے بعد ملنے والی رقم سے خریدے گئے مکان کاحکم
83738میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ہماری فیملی چارافرادپرمشتمل تھی جس میں والد،والدہ ،میں اورمیری بہن شامل تھے،میرے والد صاحب نیوی میں  ملازم تھے ،ان کے انتقال کے بعدجو پیسے نیوی سے ملے اس  سےمیری والدہ نے ایک گھر خریدا جو انہوں نے اپنے نام کرایا،اس کے کچھ عرصہ بعدمیری والدہ نے دوسری شادی کرلی جس شوہر سے شادی کی اس کے پہلے سے دوسری بیوی سےچاربچے موجودتھے،اب میری والدہ کہہ رہی ہیں کہ گھرمیں موجودہ شوہرکے بچوں کا بھی حصہ ہوگاجوکہ میری والدہ سے نہیں ہیں اوراس کے علاوہ موجودہ شوہرسے ایک بیٹابھی میرے والدہ کا ہے۔شریعت کی روشنی میں کس کا کتنا حصہ ہوگا،برائے میری مہربانی ہماری رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی شخص کی وفات کے بعد متعلقہ ادارے یا حکومت کی طرف سےجو مختلف قسم کے فنڈ زجاری ہوتے ہیں،مثلاً پنشن،گریجویٹی فنڈ،بینوولنٹ فنڈ،جی پی فنڈاورپراویڈنٹ فنڈوغیرہ،ان کے عطیہ اور ترکہ ہونے کے بارے میں شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جو مال بوقتِ وفات میت کی ملکیت میں داخل ہو،جیسے کہ جی پی فنڈوغیرہ،وہ ترکہ میں شمار ہوگااور جو مال بوقتِ وفات میت کی ملکیت میں نہ ہو،بلکہ اس کی وفات بعد حکومت یا متعلقہ ادارے کی طرف سے اس کے ورثاء میں سے کسی کے نام پرجاری کیا جائے،جیسے کہ گریجویٹی فنڈ،بینوولنٹ فنڈ اور پنشن وغیرہ تو وہ ترکہ شمار نہ ہوگا،بلکہ جس کے نام پر جاری ہوگا،اسی کی ملکیت ہوگا۔

آپ کے والد صاحب کی وفات کے بعدنیوی سے ملنے والا فنڈاگرپہلی قسم کا ہے اوراسی سے یہ مکان خریدا گیاہے توچونکہ اس میں تمام ورثہ کا حق ہے لہذا اس  سےخریدے گئے مکان میں بھی سب ورثہ کا حق ہوگا اورآپ  کی والدہ کےجودوسرے شوہرہیں وہ اوران کی دوسری بیوی سے ہونے والی اولاد کا اس میں کوئی حق نہیں ہوگا،ہاں تقسیم  کےبعد آپ کی والدہ اپنے حصے میں سے کچھ اپنی زندگی میں ان  کودیناچاہے تو ایسا وہ کرسکتی ہے۔مگرورثہ کے مشترکہ ترکہ سے ایسا وہ نہیں کرسکتی۔

اس صورت میں اگرآپ کے والد مرحوم کے شرعی ورثہ یہی تین افراد(آپ، آپ کی بہن اوروالدہ ) ہوں تو اس مکان کا آٹھواں حصہ یعنی(%12.5)آپ کی والدہ کا ہے ،اورباقی کا تیسرا حصہ یعنی(%29.167) آپ کی بہن کا ہے اوردوحصے یعنی(%58.34) آپ کے ہیں،آپ کی والدہ کےموجودہ شوہراوران کی دوسری بیوی  سےاولاد کا اس میں کوئی حصہ نہیں ۔

اور اگرآپ کے والد صاحب کی وفات کے بعدنیوی سے ملنے والا فنڈدوسری قسم کا تھا اورصرف آپ کی والدہ کے نام جاری ہوا تھا اوراسی سے اس نے یہ مکان خریداتھا توپھریہ مکان انہی کی ملکیت ہے،کسی اور کا اس میں کوئی حق نہیں،وہ جسے چاہے  اپنی زندگی یہ مکان یا اس کاکچھ حصہ الگ کرکے دے سکتی ہے۔

اس صورت میں اگرآپ کی والدہ آپ کوبھی اپنی زندگی میں اس میں سے کچھ بطورہبہ دے اوراپنے موجودہ شوہر اوراس کی دوسری بیوی سے ہونے والی اولاد کوبھی دے تو وہ ایسا کرسکتی ہے،تاہم ہرایک کا حصہ الگ کرکےاس پر اس کا  قبضہ کرانا ہوگا۔

واضح رہے کہ اس آخری صورت میں اگر آپ کی والدہ اپنی زندگی میں کسی کو کچھ نہ دے یا صرف زبانی کلامی بات کرے اورقبضہ نہ دے اور فوت ہوجائے  تواس صورت میں ان کے وراث آپ بہن،بھائی کے ساتھ ساتھ اس کا موجودہ خاوند اوراس سے پیداہونے والابیٹا ہوگا،جبکہ موجودہ شوہر کے دوسری بیوی سے پیدا ہونے والی اولاد اس صورت میں بھی آپ کی ولدہ کی میراث سے محروم ہوں گی ۔ 

حوالہ جات

وفی بدائع الصنائع  (کتاب الحدود، ج:7، ص:57، ط:سعید):

لأن الإرث إنما يجري في المتروك من ملك أو ‌حق ‌للمورث على ما قال عليه الصلاة والسلام:من ترك مالا أو حقا فهو لورثته.

وفی امداد الفتاوی  (ج:4،ص:342،ط:مکتبہ دار العلوم کراچی):

"چونکہ میراث اموالِ مملوکہ میں جاری ہوتی ہے اور یہ وظیفہ محض تبرع واحسان سرکارکا ہے  بدونِ قبضہ مملوک نہیں ہوتا ،لہذا آئندہ جو وظیفہ ملے گا اس میں  میراث جاری نہیں ہوگی ،سرکار کو اختیار ہے جس طرح چاہے  تقسیم کردے"

وفی مجلۃ الأحکام  العدلیة(ج:1/ص:230):

’’کل یتصرف فی ملکہ کیفما شاء ،لکن اذا تعلق حق  الغیر بہ  فیمنع المالک من تصرفہ علی وجہ الاستقلال‘‘.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

2/11/1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب