03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کا حکم
82029سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

فدوی آپ سے بینک کے سلسلے میں راہنمائی چاہتا ہے،عرض یہ ہے کہ میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس کا نفع لینا اسلامی نقطہ نظر کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟

برائے مہربانی اپنے لیٹر پیڈ پر جواب عنایت فرمادیجئے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

چونکہ میزان غیر سودی بینک ہے اور غیر سودی بینک سودی معاملات میں ملوث نہیں ہوتے، بلکہ ان کے معاملات مرابحہ، مضاربہ، مشارکہ اور اجارہ کے شرعی اصولوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں اور ان کے تمام عقود (Transactions) کی نگرانی باقاعدہ طور پر مستند مفتیانِ کرام کررہے ہوتے ہیں، اس لیے  ہماری رائے کے مطابق میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانا اور اس سے حاصل ہونے والا نفع لینا حلال ہے۔

حوالہ جات

.......

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

18/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب