03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زندگی میں وراثت کی تقسیم
84064ہبہ اور صدقہ کے مسائلکئی لوگوں کو مشترکہ طور پرکوئی چیز ہبہ کرنے کا بیان

سوال

مسئلہ یہ ہے کہ میری ایک غیر شادی شدہ بہن تھی جو کہ 2009 عیسوی سے والدہ کے انتقال کے بعد اپنے والد، بھائی اور بھابھی کے ہمراہ رہتی تھی ۔2011 عیسوی میں بہن میرے پاس میرے سسرال آئی اور بولی کہ بھائی اور بھابھی مجھے بہت تنگ کرتے ہیں،وہ بولی کہ (آپی) امی نے مرتے وقت بولا تھا کہ آپ اور آپ کے شوہر میرا خیال رکھیں گے ، خدا کیلئے میرے اوپررحم کریں،ابو بھائی سےڈرتے ہیں،ہر مسئلے پر خاموش رہتے ہیں،یہ سن کر میں نے اپنی بہن کو اپنے ساتھ رکھنے کا فیصلہ کیا اور والد صاحب سے بھی رائےلی،انہوں نے کہا بیٹا اس کویہاں سے لے جاؤ، اس وقت وہ بی۔ اے کی طالب علم تھی، میرے شوہر نےاس کو بی ایڈ،ایم ایڈ اور ایم  اے کی تعلیم کی ڈگری حاصل کروائی۔

۲۰۱۵ عیسوی میں والد صاحب نے میرے دادا کی پراپرٹی سیل کروائی اور ان کو جو شرعی حصہ ملا وہ انہوں نے اپنے تینوں بچوں جن میں ایک بیٹا اوردوبیٹیاں شامل ہیں،تینوں بچوں میں برابر حصہ اپنی زندگی میں تقسیم کردیا تھا۔

(تنقیح:سائل نے فون کال پر وضاحت فرمائی ہے کہ بھائی کو اس کے حصے کے پیسوں پر قبضہ دے دیا تھا، البتہ بہنوں کے پیسے والد صاحب کے پا س رکھے رہے۔)

۲۰۱۵ عیسوی  سے والد صاحب بھی اپنے داماد کے ساتھ رہنے لگے والد نے اپنے داماد کو بتایا کہ بیٹے نے مجھے اپنے ساتھ رکھنےسےانکار کر دیا ہے، بتاتی چلوں کہ والد صاحب پرائیوٹ کمپنی کے ریٹائر ملازم تھے،ان کی تنخواہ ،پنشن گھر پر آتی تھی،اپنی تنخواہ کا کچھ حصہ وہ میرے ہاتھ پر رکھتے تھے اور باقی تنخواہ ، پیشن بیٹی کی شادی کے لیے جمع کرتے تھے اور مجھے بولتے کہ بیٹا مہینہ گزارنے کے لیے جو کمی بیشی ہو وہ تم اپنے پاس سے پورا کردیا کرو،بہن پرائیویٹ اسکول میں معلمہ تھی اور اپنی تنخواہ اپنے پاس رکھتی تھی،2015 عیسوی کے بعد میں نے کوئی تعلق بھائی کے ساتھ نہیں رکھا کیوں کہ والد نے منع کر دیا تھا۔

2015 عیسوی میں ایک فلیٹ دونوں بیٹیوں کے نام سے لیا گیا ،2021 عیسوی  میں covid کے دور میں فلیٹ میرے نام Transfer ہو گیا۔

(تنقیح:سائل نے فون پر بتایا کہ فلیٹ خالی پڑا ہے اور فائل ہمارے پاس ہے)۔

  Covid کے دور میں زندگی اور موت کا کسی کو پتہ نہیں تھا، میں نے اپنی بہن سے کہا کہ تم ہنسی خوشی زندگی میرےساتھ گزارو اور تمہاری شادی کے بعد تم کو فلیٹ کی رقم ادا کردوں گی،یعنی فلیٹ دو برابر حصوں میں تقسیم ہوگا ۔

2020اور 21 عیسوی میں دو مرتبہ بہن کی منگنی ہوئی،والد اور اس کی رضا مندی کے ساتھ، مگر آخر میں منع کر دیتی کہ مجھے شادی نہیں کرنی۔ میری بہن معمولی شکل و صورت کی تھی اور لڑکے کی تنخواہ بہن کے معیار سے بہت کم ہوتی تھی۔2022عیسوی میں عید کے دن بھائی ملنے آیا اور مجھ سے کہا کہ بہن تم مجھ سے ناراض کیوں ہو ؟ میں بولتی ہوں کہ والدصاحب نے بتایا کہ بیٹے نے مجھے رکھنے سے انکارکر دیا ہے ، بھائی بولا بہن یہ سچ نہیں ہے، غیر شادی شدہ بہن اور والد صاحب اپنی مرضی سے تمھارے پاس آئے تھے، پوچھ لو تم والد صاحب اور اپنی غیر شادی شدہ بہن سے، میرے سامنے تو والد اور غیر شادی شدہ بہن دونوں بھائی سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے رہے،میں نے اپنے والد سے عدل وانصاف نہ کرنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ بیٹا لانڈھی کے علاقے میں کرائے کے گھر میں رہتا ہے اور تم گلشن معمار کے ذاتی  گھر میں عالی شان زندگی گزار رہی تھی۔یہ بات سن کر مجھے غصہ آیا اور میرے  غصے کو بہن نے برداشت نہ کیا۔

2022 عیسوی کے شروع میں بہن نے ایک بار پھر والد کو اپنے ساتھ شامل کیا اور میرے شوہر اور میرے ساتھ بد زبانی ، بد تمیزی ، طعنے، الزامات ،محلے کے ہر گھر و دوکان میں میری برائیاں ،کھانا باہر جاکر کھانا،گھر کا کھانا نہ کھانا،والد صاحب سے کھانا منگوانا تومیرا بھروسہ والد اور بہن سے ختم ہوگیا اور میں نے ان کو گھر سے چلے جانے کو کہا،والد صاحب نے مجھ سے بولا کہ فلیٹ میں  سے میری بیٹی کو اُس کا حصہ دو ۔میں نے کہا کہ میں اس کو دے دوں گی ۔ والد نے بولا تمھاری مہربانی اور بولا کہ اگر تم اسے حصہ نہیں دے رہی توجو پیسے ہمیں کمپنی سے ملیں گے یا جو رقم ہمارے پاس موجود ہے اس میں تمہارا اور تمہارے بھائی کا کوئی حصہ نہیں ہوگا ،اب تم فلیٹ پر مکمل قبضہ کرلینا ،ویسے بھی قانونی طور پر تو تمہارا ہوگیا ہے۔جس پر ہم دونوں بہنوں نے بولا ٹھیک ہے ابو ،آپ کا یہ فیصلہ ہمیں منظور ہے۔

بعد میں کمپنی کی طرف سے جو پیسوں کا چیک ملا وہ میری بہن نے وصول کیا اور جو رقم والد صاحب کے پاس موجود تھی وہ بھی میری بہن نے لی ،لیکن اب وہ منکر ہے کہ میں نے چیک وصول نہیں کیا اور نہ کوئی رقم میرے پاس ہے،جبکہ چیک وصول کرنے کا گواہ میرا بھائی خود ہے،اب میری بہن فلیٹ میں اپنا حصہ مانگ رہی ہے،شریعت کی روشنی میں بتائیں کہ اس پوری صورتحال میں کیا حکم ہوگا؟اسی طرح نانا کی وراثت سے جو حصہ والدہ کو ملا تھا ،والدین نے اس رقم سے بھائی کےنام پر ایک پلاٹ لیا ،بعد میں بھائی نے اس پلاٹ کو بیچ کر رقم خود رکھ لی ،اس پلاٹ کا حکم کیا ہوگا؟

(مزید تفصیل سوال کے ساتھ منسلک ہے)

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زندگی میں جائداد وغیرہ کی تقسیم ہبہ یعنی گفٹ کہلاتی ہے۔ہبہ یعنی گفٹ کا حکم یہ ہے کہ ہبہ کرتے ہوئےاولاد میں برابری کی جائے یعنی بیٹے اور بیٹیوں، سب کو برابر حصہ دیا جائے،نیزہبہ کرتے ہوئے یہ بھی ضروری ہے کہ واہب یعنی ہبہ کرنے والاموہوب لہ(یعنی جس کو ہبہ کیا گیا ہے) کا مالکانہ تصرف کے اختیار کے ساتھ ہبہ کی جانے والی چیز پر مکمل قبضہ کروائے تاکہ ہبہ یعنی گفٹ کی تکمیل شرعی طریقے سے ہوجائے۔ زندگی میں جائداد وغیرہ تقسیم کرنےکے شرعی طریقےکی تفصیل درج ذیل ہے۔

۱۔اولاد میں برابر حصہ تقسیم کرےاور ہر ایک کو اس کےحصے کا مالک بنا کر باقاعدہ تقسیم کرکے قبضہ کروائے ۔

۲۔اگر اولاد میں برابر حصہ تقسیم نہیں کیا اور برابر حصہ تقسیم نہ کرنے کی وجہ، کسی کو نقصان پہنچانا ہے تویہ عمل مکروہ تحریمی ہے ،اگر نقصان پہنچانا مقصود نہیں اور کوئی وجہ ترجیح بھی نہیں تو یہ عمل مکروہ تنزیہی ہے ،اس لیے کہ بہرحال اولاد میں سے ہر ایک کو خواہ وہ بیٹا ہو یا بیٹی برابرہبہ( گفٹ) کرنا یہ مستحب ہے۔

۳۔ اولاد کو ہبہ کرتے ہوئے کسی معقول وجہ سے کمی بیشی کی جاسکتی ہے،مثلاً دینداری، امور دینیہ میں مشغول ہونا،خدمت یا زیادہ محتاج ہونا  وغیرہ اور اس طرح کی وجوہات کی وجہ سے کمی بیشی کرنا  مستحب ہے۔

۴۔اگر میراث کے مطابق بیٹوں کو بیٹیوں سے دگنا حصہ دےتو اس کی بھی گنجائش ہے۔

۵۔اگر جائداد مشترکہ طور پر ہبہ کرنے کا ارادہ ہو اور جائداد قابل تقسیم ہوتو باقاعدہ تقسیم کرکے مالک بنا کر قبضہ کروائے تاکہ ہبہ کی تکمیل شرعاً بھی ہوجائے، البتہ اگر جائداد قابل تقسیم ہواورواہب(گفٹ کرنے والا)موہوب لہ(جن کو گفٹ کیا گیا ہے) میں سے کسی ایک کو اس کی تقسیم کا باقاعدہ وکیل بنادےتو اس طرح اُس وکیل کو تخلیہ کرادینے سےبھی ہبہ تام ہوجائے گا،اوراگر جائداد وغیرہ ایسی ہوں کہ ناقابل تقسیم ہوں یعنی تقسیم کرکے ان سے نفع اٹھانا ممکن نہ ہو تو ایسی جائداد وغیرہ کو مشترکہ طور پر ہبہ کرنا شرعاً درست ہے بشرطیکہ قبضہ بھی کروادیا ہو۔

            مذکورہ تفصیل کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ ہبہ یعنی گفٹ کی تکمیل کے لیے چونکہ قبضہ کروانا شرعاً ضروری ہے جبکہ آپ کے والد صاحب نےوہ رقم آپ دو بہنوں کے حوالے نہیں کی،جو دادا کی میراث میں سے ملی تھی اور انہوں نے اپنے بچوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا تھا،بلکہ اپنے قبضے میں اس رقم کو رکھالہٰذا وہ رقم آپ کے والد صاحب کی ملکیت میں برقرار رہے گی،پھر جب فلیٹ کی خریداری کی گئی تو اس ارادے کے ساتھ کی گئی کہ اس میں آپ دونوں بہنوں کا حصہ ہوگا اور اس فلیٹ کا قبضہ بھی آپ دونوں بہنوں کو دے دیا گیا اور آپ نے اپنی بہن سے یہ طے کیا کہ جب تمہاری شادی ہوگی تو میں تمہارے حصے کی فلیٹ کی قیمت تمہیں دے دوں گی ، اس طرح کرلینے سے آپ کے والد صاحب کی طرف سے گویا کہ ہبہ کی تکمیل ہوگئی ،یعنی انہوں نے فلیٹ خرید کر آپ دونوں بہنوں کو دے دیا اور ساتھ ساتھ ان کی طرف سے دلالتہً اجازت کے طور پر اس فلیٹ کو یا اس کی رقم کو تقسیم کرنے کی آپ وکیل بن گئیں،جس کے نتیجے میں آپ دونوں بہنوں کا پچاس پچاس فیصد حق اس فلیٹ میں ثابت ہوگیا۔پھر آپ دونوں بہنوں اور آپ کے والد صاحب کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا کہ یہ فلیٹ آپ مکمل اپنی ملکیت میں اس حصے کے عوض لے لیں جو آپ کا وراثت میں بنے گا،اس معاملے پر آپ دونوں بہنوں اور والد صاحب نے رضامندی کا اظہار فرمایا،یہ معاملہ بیع یعنی خرید و فروخت کا معاملہ کہلائے گا،گویا کہ آپ نے فلیٹ میں موجود  اپنی بہن کا پچاس فیصد حصہ ،اپنے حق وراثت کے عوض خرید لیا،جبکہ حق وراثت مورِث کی موت کے بعد ثابت ہوتا ہے،مورِث کی زندگی میں ثابت نہیں ہوتا ،لہٰذا خرید و فروخت کا یہ معاملہ شرعاًدرست نہ ہوا،لہٰذا فلیٹ میں آپ دونوں بہنوں کی پچاس پچاس فیصد ملکیت برقرار ہےاور اسی طرح آپ کے والد صاحب کی وفات کے بعد جو رقم کمپنی کی طرف سے ملی تھی یا اس کے علاوہ جو کچھ بھی ان کی ملکیت میں تھا وہ سب وراثت کے شرعی اصولوں کے مطابق آپ دونوں بہنوں اور آپ کے بھائی کے درمیان تقسیم کیا جائے گا،جس کا طریقہ یہ ہے کہ کل مال وراثت کے چار حصے کیے جائیں، دو حصے آپ کے بھائی کو ملیں گے اور ایک ایک حصہ آپ دونوں بہنوں میں سے ہر ایک کو ملے گا۔

            رہی بات اس مکان کی جو آپ کے والدین نے آپ کے بھائی کے نام پر خریدا تھا اور بھائی نے وہ مکان بیچ کر پیسےاپنے استعمال میں لےلیے تھےتو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر بھائی نےاس پلاٹ کو والد کی زندگی میں ہی بیچ کر اس کی رقم خود رکھ لی تھی اور والد نے اس پر خاموشی اختیار کر لی تھی تو اب بھائی سے والد کی موت کے بعد اس مکان کی قیمت کا مطالبہ نہ ہوگا اور اگر کوئی اور صورت تھی تو دوبارہ وضاحت کرکے سوال کرلیا جائے۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (7/ 288)

يكره تفضيل بعض الأولاد على البعض في الهبة حالة الصحة إلا لزيادة فضل له في الدين وإن وهب ماله كله الواحد جاز قضاء وهو آثم كذا في المحيط وفي فتاوى قاضي خان رجل أمر شريكه بأن يدفع إلى ولده مالا فامتنع الشريك عن الأداء كان للابن أن يخاصمه إن لم يكن على وجه الهبة وإن كان على وجهها لا لأنه في الأول وكيل عن الأب وفي الثاني لا وهي غير تامة لعدم الملك لعدم القبض وفي الخلاصة المختار التسوية بين الذكر والأنثى في الهبة ولو كان ولده فاسقا فأراد أن يصرف ماله إلى وجوه الخير ويحرمه عن الميراث هذا خير من تركه لأن فيه إعانة على المعصية ولو كان ولده فاسقا لا يعطي له أكثر من قوته.

عيون المسائل للسمرقندي الحنفي (ص: 350)

التسوية في الهبة بين الابن والابنة

1733. رجل له ابن وابنة فأراد أن يهب لهما شيئاً فالأفضل أن يسوي بينهما في قول أبي يوسف، وقَالَ مُحَمَّدٌ: يجعل للذكر مثل حظ الانثيين. فإن وهب ماله كله للابن؟ قَالَ: هو آثم وأجيزه في القضاء.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 445)

لو أراد أن يبر أولاده فالأفضل عند محمد أن يجعل للذكر مثل حظ الأنثيين، وعند أبي يوسف يجعلهما سواء وهو المختار.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 696)

وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690)

(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 119)

(ومنها) أن يكون محوزا فلا تجوز هبة المشاع فيما يقسم وتجوز فيما لا يقسم كالعبد والحمام والدن ونحوها وهذا عندنا.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 692)

(قوله: فإن قسمه) أي الواهب بنفسه، أو نائبه، أو أمر الموهوب له بأن يقسم مع شريكه كل ذلك تتم به الهبة كما هو ظاهر لمن عنده أدنى فقه تأمل، رملي والتخلية: في الهبة الصحيحة قبض لا في الفاسدة جامع الفصولين.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 690)

(و) تصح الھبۃ (بقبض ).

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 563)

قال - رحمه الله - (وعصبهما الابن وله مثل حظهما) معناه إذا اختلط البنون والبنات عصب البنات فيكون للابن مثل حظهما فصار للبنات ثلاثة أحوال النصف للواحدة والثلثان للاثنين فصاعدا والتعصيب عند الاختلاط بالذكور.

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

۰۱.ذو الحجہ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب