03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“میں نے اپنی بیٹی آپ کے پوتے کو دے دی” کہنےسے نکاح کا حکم
81998نکاح کا بیاننکاح کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

اگر ایک بندہ دو مرد گواہوں کے سامنے اپنی بیٹی کی اجازت سے دوسرے لڑکے کے دادا کو بولے کہ میں نے اپنی بیٹی آپ کے پوتے کو دی ہے اور وہ دادا بھی اپنے پوتے کی اجازت سے قبول کرلے،نہ اس میں کوئی مہر پہلے سے طے ہو،نہ خطبہ پڑھا گیا ہو،تو کیا اس طریقے سے نکاح ہوگیا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہمارے عرف میں اس طرح کے الفاظ عموماً منگنی یعنی وعدہ نکاح کے لئے بولے جاتے ہیں،اس لئے نکاح کی نیت کے بغیر ان الفاظ سے نکاح منعقد نہیں ہوگا،البتہ اگر نکاح کی نیت سے یہ الفاظ بولے گئے ہوں تو پھر نکاح منعقد ہوجائے گا اور مہر مثل لازم ہوگا۔

حوالہ جات

"الدر المختار "(3/ 16):

"(وإنما يصح بلفظ تزويج ونكاح) لأنهما صريح (وما) عداهما كناية هو كل لفظ (وضع لتمليك عين) كاملة فلا يصح بالشركة (وفي الحال) خرج الوصية غير المقيدة بالحال".

قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ:" (قوله: كهبة) أي إذا كانت على وجه النكاح.

واعلم أن المنكوحة إما أمة أو حرة، فإذا أضاف الهبة إلى الأمة بأن قال لرجل وهبت أمتي هذه منك، فإن كان الحال يدل على النكاح من إحضار شهود وتسمية المهر معجلا، ومؤجلا ونحو ذلك ينصرف إلى النكاح، وإن لم يكن الحال دليلا على النكاح، فإن نوى النكاح وصدقه الموهوب له فكذلك ينصرف إلى النكاح بقرينة النية، وإن لم ينو ينصرف إلى ملك الرقبة، وإن أضيفت إلى الحرة فإنه ينعقد من غير هذه القرينة؛ لأن عدم قبول المحل للمعنى الحقيقي، وهو الملك للحرة يوجب الحمل على المجاز فهو القرينة، فإن قامت القرينة على عدمه لا ينعقد، فلو طلب من امرأة الزنى فقالت وهبت نفسي منك فقال الرجل قبلت لا يكون نكاحه كقول أبي البنت وهبتها لك لتخدمك فقال قبلت إلا إذا أراد به النكاح كذا في البحر ط".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

13/جمادی الاولی1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب