| 82526 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
میرا نام سمعیہ صدیقی ہے،میرا نکاح 2023۔09۔22 کو مجتبی اقبال چوہدری سے ہوا،سسرال میں ابتداء سے ہی حالات ناموافق رہے،بالآخر مجھے میرے شوہر نے 3 دسمبر کو میرے والدین کے گھر چھوڑدیا اور کہا کہ اب یہیں رہو،مجھے اور میرے والدین کو بہت پریشانی اور صدمہ لاحق ہوا،میرے والد صاحب نے میرے شوہر کے چچا سے رابطہ کرکے مجھے واپس سسرال بھیجنے کی کوشش کی،کافی دنوں تک ہم اس کوشش میں لگے رہے کہ میرا گھر بس جائے،لیکن میرے شوہر اور ساس وغیرہ نے بالکل انکار کردیا اور نکاح ختم کرنے کی بات کرنے لگے،ہم صبر و دعاء کے ساتھ وقت گزار رہے تھے، کہ 2023۔12۔23 کو میرے گھر شوہر کی طرف سے ڈاک موصول ہوئی،اس میں ایک لیٹر تھا جس کی کاپی سوال کے ساتھ منسلک ہے،اس تمہید کی روشنی میں اب آپ سے درج ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:
1۔کیا اس لیٹر سے مجھے طلاق ہوگئی ہے،جبکہ میں نے اس پر دستخط نہیں کئے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ طلاق دینے کا اختیار مرد کے پاس ہے،اس لئے طلاق کے وقوع کے لئے بیوی کی رضامندی یا طلاق نامے پربیوی کا دستخط کرنا ضروری نہیں،لہذا مذکورہ صورت میں آپ پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،جس کے بعد اب موجودہ حالت میں آپ دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں رہا۔
حوالہ جات
{فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ يُبَيِّنُهَا لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} [البقرة: 230]
"صفوة التفاسير" (1/ 131):
"{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} أي فإن طلق الرجل المرأة ثالث مرة فلا تحل له بعد ذلك حتى تتزوج غيره وتطلق منه، بعد أن يذوق عسيلتها وتذوق عسيلته كما صرح به الحديث الشريف، وفي ذلك زجر عن طلاق المرأة ثلاثا لمن له رغبة في زوجته لأن كل شخص ذو مروءة يكره أن يفترش امرأته آخر .
{فإن طلقها فلا جناح عليهمآ أن يتراجعآ إن ظنآ أن يقيما حدود َﷲ} أي إن طلقها الزوج الثاني فلا بأس أن تعود إلى زوجها الأول بعد انقضاء العدة إن كان ثمة دلائل تشير إلى الوفاق وحسن العشرة".
"البحر الرائق " (3/ 257):
"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
21/جمادی الثانیہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


