| 82258 | زکوة کابیان | سامان تجارت پر زکوۃ واجب ہونے کا بیان |
سوال
میرا سوال زکوة سےمتعلق ہے، کیا مجھے 4 سال کی قسطوں پر بک کرائے گئے فلیٹ کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی، فلیٹ کا مقصد میچورٹی کے بعد فروخت کرنا اور نیا مکان بنانا یا خریدنا ہے،دو سال گزر چکے ہیں اور میں نے 50% ادائیگی کر دی ہے جبکہ 50% باقی ہے جو مجھے اگلے 2 سالوں میں کرنی پڑے گی،مجھے یقین نہیں ہے کہ کیا مجھے اس فلیٹ کی زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی؟ اگر ہاں تو کس رقم پر اس کی موجودہ قیمت پر یااس رقم پر جو میں پہلے ہی ادا کر چکا ہوں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ایسے فلیٹ کی بکنگ کا حکم جو ابھی تیار نہ ہوا ہو استصناع (آرڈر پر مال تیار کروانے) کا ہے اور استصناع کی صورت میں جس چیز کا آرڈر دیا گیا ہے وہ خریدار کی ملکیت میں اس وقت آتی ہے جب وہ اس پر قبضہ کرلے،اس لئے مذکورہ صورت میں جب تک فلیٹ تیار ہوکر آپ کے قبضے میں نہیں آجاتا تب تک آپ پر اس کی زکوة لازم نہیں ہے۔
اسی طرح جو رقم آپ نے فلیٹ کی قسطوں کے طور پر جمع کروائی ہے، وہ چونکہ آپ کی ملکیت سے نکل چکی ہے، اس لئے اس رقم کی زکوة بھی آپ پر لازم نہیں ہوگی۔
نیز قبضے سے پہلے آپ اس فلیٹ کو ملکیت نہ ہونے کی وجہ سے کسی اور پر فروخت بھی نہیں کرسکتے۔
حوالہ جات
"فقہ البیوع " (1/ 601):
"والمصنوع قبل التسلیم ملک للصانع ولھذا ذکر الفقھاء انہ یجوز لہ ان یبیعہ من غیرہ کمافی الدر المختار:" فصح بیع الصانع لمصنوعہ قبل رؤیة آمرہ ".وعلق علیہ ابن عابدین بقولہ:" الاولی قبل اختیارہ؛لاٴ ن مدارتعینہ لہ علی اختیارہ وھو یتحقق بقبضہ قبل الرؤیة".....
وبما ان المصنوع ملک للصانع ولیس ملکا للمستصنع قبل التسلیم،فلایجوز للمستصنع ان یبیعہ قبل ان یسلم الیہ".
"فقہ البیوع " (1/ 605):
"الثمن المدفوع عند إبرام العقد مملوک للصانع یجوز لہ الانتفاع والاسترباح بہ وتجب علیہ الزکاة فیہ ولکنہ مضمون علیہ بمعنی انہ إذا انفسخ العقد لسبب من الاٴسباب یجب علیہ رد الثمن علی المستصنع ویکون ربحہ للصانع بحکم الضمان تخریجا للثمن المقدم فی الاستصناع علی الاجرة المقدمة اٴو مااشترط تعجیلہ فی الإجارة".
"البحر الرائق " (8/ 5):
"قال - رحمه ﷲ - (والأجرة لا تملك بالعقد، بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه) يعني الأجرة لا تملك بنفس العقد، سواء كانت عينا أو دينا وإنما تملك بالتعجيل أو بشرطه أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من الاستيفاء بتسليم العين المستأجرة في المدة اهـ. كلام الشارح".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
07/جمادی الثانیہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


