03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثت اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق مختلف سوالات
84091میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

وراثت اور جائیداد کی تقسیم سے متعلق مختلف سوالات

وراثتی کاروبار کےسلسلہ میں مجھے درج ذیل سوالات کے جوابات مطلوب ہیں:

(1) ہمارے دادا جی کا ایک کاروبار تھا، جس میں سارا  سرمایہ انہی کا تھا، البتہ ان کے ساتھ ان کے دو بیٹے الف گل (یعنی ہمارے والد صاحب ) اور نواب گل ) ، ایک چچا  اور ایک پوتا یعنی ہمارے بھائی شریف گل کام کرتے تھے،لیکن ان کےلئے کوئی اجرت یا حصہ مقرر نہیں تھا ،بس ہر ایک اپنی ضروریات کے مطابق ان سے خرچہ لیتے تھے۔ دادا جی نے اپنی زندگی میں ہی اپنے دونوں بیٹوں اور ایک پوتے شریف گل کو جائیداد میں سے کچھ حصہ ہبہ کیا، جس میں سے والد صاحب الف گل مرحوم اوراس  کے بیٹے (ہمارے بھائی شریف گل)  کو ایک 17 مرلے کا مکان ہبہ کیا تھا،اور  دادا جی نے صراحت کرکے والد صاحب کو  اور اس کے بیٹے  کیلئے مکان  ہبہ کر دیا تھا ،جس میں داد ا مرحوم بھی ان کے ساتھ رہایش پذیر تھے، البتہ گھر کے کاغذات والد صاحب کے نام پر منتقل کرواکر ان کو مستقل قبضہ دیا تھا،کیونکہ وہی بڑے تھے اور والد صاحب  کو کسی قسم کے مالکانہ تصرف سے منع نہیں کیا تھا، لیکن بھائی کو با قاعدہ علیحد ہ کر کے ان کا حصہ حوالہ نہیں کیا ، تو کیا بھائی اس   مکان میں اپنےموہوبہ  حصے کا شر عامالک ہے یا یہ والد صاحب مرحوم  کے ترکے میں شامل ہوگا؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ دادا نے جب یہ مکان ہبہ کیا اس وقت دادا اس میں رہائش پذیر نہیں تھے،اس وقت اِس مکان میں صرف والد صاحب اور ان کی فیملی رہائش پذیر تھی، دادا نے دوسرا مکان چچا کو دے کر یہ مکان مکمل طور پر والد صاحب اور بڑے بھائی کے نام کر دیا اورپھر خود بھی اس مکان میں منتقل ہو گئے۔

(2) دادا جی مرحوم نے چچا  اور والد صاحب(الف گل مرحوم)کو اپنی طرف سے الگ الگ  کچھ رقم دی  تھی،والد صاحب کے  حصے کی رقم  سے والد صاحب  خود اوراس کا بیٹا(ہمارا بڑا بھائی شریف گل) کاروبار کرتے رہے،البتہ دادا جی اور والد صاحب میں سے کسی نے بھی اس رقم میں سے ہمارے بھائی کا علیحدہ کوئی حصہ مقرر نہیں کیا تھا  ،پھر والد صاحب اور بڑے بھائی کے ساتھ بقیہ پانچ بیٹوں (یعنی ہمارے بھائیوں ) میں سے دو بیٹے اور بھی کاروبار میں کام کرنے لگے  ، بقیہ تین بیٹے تعلیم حاصل کرتے رہے، اب والد صاحب  مر حوم کے  بعد  یہ کاروبار کس کی ملکیت ہے اور اس میں کن کن لوگوں کاحصہ ہے؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ یہ کاروبار والد صاحب نے اپنے پیسوں سے شروع کیا تھا، بڑا بھائی بعد میں ان کے ساتھ شریک ہوا اور گھر میں سب بہن بھائیوں کا خرچ والد صاحب ہی اٹھاتے تھےاوران تین بھائیوں نے والد صاحب کے ساتھ تقریبا بارہ تیرہ سال کام کیا اور ان کی وفات کے بعد ابھی تک بھی یہی تینوں بھائی کاروبار کر رہے ہیں۔

(3)  پھر والد صاحب مرحوم نے اپنی زندگی میں اپنی تمام  آبائی جائید اد اوراسی طرح  وہ زمینیں جو انہوں نے اپنی رقم سے نئی خریدی تھیں ، مشترکہ طور پر سب بھائیوں یعنی اپنے بیٹوں کے نام کردیں، ان کے درمیان تقسیم کرکے نہیں دیں ،البتہ ہر ہر زمین میں تمام  بیٹوں کو شریک لکھا گیا ۔ کیا یہ زمینیں مشترکہ طور پر نام کروانا درست تھا؟ اب ان زمینوں کا کیا حکم ہے؟ جبكہ بیٹیوں کے نام نہیں کروائی گئیں، نیز والد صاحب کی وفات کے بعد بڑے بھائی  نے (کیونکہ اختیارات سب بڑے بھائی کے پاس تھے ) ایک مشترکہ زمین  (جو کہ والد صاحب نے  اپنی زندگی میں خریدی تھی اور سب کے نام پر تھی) بیچ کرسب کی رضامندی سے  نئی زمین خریدی اور وہ بھی سب  بھائیوں کے نام کر وادی، اس میں بھی بہنوں کو حصہ نہیں دیا گیا،  اس کا بھی حکم واضح کیجیے۔

(4) والد صاحب کی وفات کے بعد کارو بار وہی تین بھائی کرتے رہے جو والد صاحب کے ساتھ  ان کی زندگی میں کام کرتے تھے، باقی تین بھائی پڑھتے رہے،یہ کاروبار میں عملی طور پر شریک نہیں تھے ،البتہ جو بھائی کاروبار کرتے رہے وہ دوسرے  بھائیوں کی رضامندی سے کرتے تھے ، بقیہ بھائیوں  نے ان کے کاروبار کرنے پر کبھی بھی ناراضگی کا اظہار  نہیں کیا۔اب کیا انہیں یعنی بقیہ بھائیوں کو بھی کاروبار کی آمدنی سے حصہ ملے گا یا صرف کاروبار کرنے والوں کو ملے گا ؟   جبکہ والد کا ترکہ ابھی تک تقسیم نہیں کیا گیا اور یہ کاروبار بھی والد صاحب کی وراثت میں تھا۔والد کا انتقال 2001ء میں ہوا، اس کے بعد اب تک یعنی 2024ء وہی تین بھائی کام کرتے رہے ہیں۔

(5)  ان کاروباری بھائیوں کا  گھریلو  خرچہ کاروبار کی آمدنی سے ہوتار ہا اور اس دوران پڑ ھنے والوں میں سے دو بھائی بھی ان کے ساتھ گھر میں تھے اور ایک بھائی تعلیم و تدریس کی وجہ سے گھر سے باہر تھا، جس نے شادی کے بعد کاروبار کی آمدنی میں سے کچھ بھی نہیں لیا، اور کاروبار میں عملی طور پر حصہ بھی نہیں لیا، تو کیا  اب تک جتنا دوسرے بھائیوں نے خرچ کیا ہے تو یہ بھائی بھی اس کے بقدر حقدار ہے یا نہیں ؟

 

 (6) بڑے بھائی نے ایک زمین اس کاروبار کی آمدن سے خریدی، اس زمین کے بارے میں بڑا بھائی کہتا ہے کہ یہ زمین میں نے خریدی ہے اور اس میں صرف چار بھائیوں کا حق ہے، باقی دو کا نہیں تو کیا باقی دو بھائیوں کو اس میں سے حصہ ملے گا یا نہیں ؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ تین بھائی کاروبار میں کام کرنے کی وجہ سے اس میں شریک ہوگئے اور چوتھے بھائی کا ان تینوں کے ساتھ میل جول اچھا تھا، اس لیے اس کو بھی انہوں نے شریک کر لیا، جبکہ بقیہ دو بھائی نہ کاروبار میں شریک تھے اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی خاص میل جو تھا، اس لیے ان کو حصہ نہیں دیا، جبکہ اس کی قیمت اصولی اعتبار سے وراثتی کاروبار کی آمدن سے ادا کی گئی تھی۔

(7) والد صاحب کی خریدی گئی ایک مشترکہ زرعی زمین میں چھ بھائیوں  میں سے پانچ بھائی فصل اگاتے رہے اور استعمال کرتے رہے اور ایک بھائی نے اس میں سے کچھ بھی نہیں لیا اور اس بھائی نے دوسرے بھائیوں سے مطالبہ بھی نہیں کیا، تو کیا اس بھائی کو اپنے حصہ کے بقدر کچھ ملے گا یا نہیں ؟ زمین اور پیداوار دونوں کے بارے میں شرعی حکم مطلوب ہے۔

 وضاحت: سائل نے بتایا کہ فصل  کی کاشت کاری میں ہونے خرچہ کاروبار کی آمدن سے ہوتا تھا اور پیداوار گھر میں استعمال ہو جاتی تھی اور کچھ فصل بچتی تو اس کو بیچ کر رقم کاروبار میں لگا دی جاتی تھی، یعنی سب چیزیں مشترکہ ہی چل رہی تھیں۔

 (8) ہمارے والد مرحوم کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء میں چھ بیٹے ،دو بہنیں اور بیوہ زندہ ہیں،مرحوم کے والدین،دادا،دادی اور نانی سب کا مرحوم  سے  پہلے انتقال ہوچکاتھا۔مرحوم کی میراث کیسے تقسیم ہوگی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  1. سوال میں ذکر کی گئی صورتِ حال کے مطابق دادا کی طرف سےآپ کے والد صاحب اور بھائی کو مکان مشاع (غیرتقسیم شدہ) طور پر ہبہ کیا گیا تھا اور اگر کوئی چیز دو یا دو سے زیادہ لوگوں کو مکمل طور پر مشاع ہبہ کر دی جائے تو اس میں فقہائے حنفیہ کا اختلاف ہے، حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک بغیر تقسیم کے یہ ہبہ جائز نہیں، جبکہ حضرت امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کے نزدیک یہ ہبہ درست ہے، چنانچہ انہوں نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ اگر کوئی مکان یا گھر دو شخصوں کو بغیر تقسیم کے ہبہ کر دیا جائے تو یہ ہبہ درست ہے، کیونکہ اس میں کوئی تیسرا فرد شریک نہیں ہے، بلکہ یہ شیوع (اشتراک)موہوب لہم (جن کو چیز ہبہ کی گئی) کے درمیان ہے اور یہ صحتِ ہبہ سے مانع نہیں ہے، کیونکہ ہبة المشاع کے درست نہ ہونے کی وجہ عدمِ قبضہ ہے اور جب وہ چیز مکمل طور پر ان کو دے دی گئی تو ان  کا قبضہ تام ہو گیا، اگرچہ صاحبین رحمہما اللہ کے اس قول پر فتوی نہیں ہے، مگر ضرورت کے پیشِ نظر اس پر عمل کرنے کی گنجائش ہے، کیونکہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر عمل کرنے کی صورت میں آپ کے بھائی نے جو اتنا عرصہ آپ کے دادا کے کاروبار میں کام کیا وارث نہ ہونے کی وجہ سے اس کا اسے کوئی معاوضہ نہیں ملے گا، بلکہ مکمل مکان دادا کا ترکہ شمار ہو گا، جس میں ان کے سب ورثاء شریک ہوں گے۔

 اس لیےمذکورہ صورت میں ضرورت کے پیشِ نظر حضراتِ صاحبین رحمہما اللہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے یہ ہبہ درست ہے اور آپ کے والد اور بھائی دونوں اس مکان کے مشترکہ طور پر شرعاً مالک بن گئے تھے، لہذا اس مکان کا نصف حصہ آپ کے والد کی وراثت میں شامل ہو گا اور بقیہ نصف کا مالک آپ کا بھائی ہو گا۔

الأصل للشيباني ط قطر (3/ 374):

وقال أبو يوسف ومحمد: إذا وهب رجل داراً لرجلين وقبضاها فهو جائز. وكذلك كل شيء يقسم.

المبسوط للسرخسي (12/ 67) دار المعرفة – بيروت:

قال: (ولو وهب دارا لرجلين، وسلمها إليهما فالهبة لا تجوز، في قول أبي حنيفة - رضي الله عنه -، وفي قول أبي يوسف ومحمد رحمهما الله: يجوز)؛ لأن العقد والتسليم لاقى مقسوما، فإنه حصل في الدار جملة، فيجوز، كما لو وهبها لرجل واحد؛ وهذا لأن تمكن الشيوع باعتبار تفرق المالك، والملك هنا حكم الهبة، وحكم الشيء يعقبه. فالشيوع الذي ينبني على ملك يقع للموهوب لهما لا يكون مقترنا بالعقد ولا تأثير للشيوع الطارئ في الهبة كما لو رجع الواهب بالنصف؛ ولأن المعنى استحقاق ضمان المقاسمة على المتبرع - وذلك لا يوجد هنا -؛ فالعين تخرج من ملك المتبرع جملة، وإنما ضمان المقاسمة بين الموهوب لهما باعتبار تفرق ملكهما؛ ولأن تأثير الشيوع في الرهن أكثر منه في الهبة حتى لا يجوز الرهن في مشاع لا يحتمل القسمة بخلاف الهبة ثم لو رهن من رجلين: جاز فالهبة أولى، وكذلك الإجارة عند أبي حنيفة - رضي الله عنه - لا تصح مع الشيوع، ثم إذا أجر داره من رجلين: يجوز، فكذلك الهبة.

الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (5/ 3992) دار الفكر - سوريَّة – دمشق:

لو وهب إنسان داراً من رجلين أو مداً من حنطة أو ألف درهم أو نحو ذلك مما يقسم، فإنه لا يصح عند أبي حنيفة. وعند الصاحبين: يصح، ويجري الخلاف فيما لو وهب رجل داراً لرجلين وقال: (وهبت لكما هذه الدار: لهذا نصفها، ولهذا نصفها).

ومنشأ الخلاف في ذلك: أن أبا حنيفة يعتبر الشيوع عند القبض ما نعاً من صحة الهبة. وأما الصاحبان: فيعتبران الشيوع عند العقد والقبض معاً هو المانع من صحة الهبة. وبناء عليه: يجوز هبة الاثنين من الواحد بالاتفاق، لعدم وجود الشيوع عند القبض في رأي أبي حنيفة، ولانعدام الشيوع في الحالتين معاً في رأي الصاحبين؛ لأن الشيوع وجد عند العقد، ولم يوجد عند القبض.

ولا تجوز هبة الواحد من الاثنين عند أبي حنيفة، لوجود الشيوع عندا لقبض، ويجوز ذلك عند الصاحبين؛ لأنه لم يوجد الشيوع عند العقد والقبض جميعاً.

  1. مذکورہ صورت میں چونکہ یہ کاروبار والد صاحب نے شروع کیا تھا اور ان کےتینوں بیٹے بعد میں ان کے ساتھ کام میں شریک ہوئے، ایسی صورت میں فقہائے کرام رحمہم اللہ نے لکھا ہے کہ اگرکاروبار والد کا ہو، بیٹا باپ کے عیال میں شامل ہو تو ایسی صورت میں بیٹے کو باپ کا معاون شمار کیا جائے گا اور کاروبار کا مکمل نفع والد صاحب کا شمار ہو گا اور بھائی نفع میں سے کسی حصے کے حق دار نہیں ہوں گے،البتہ چونکہ ان تینوں بھائیوں  نے اپنے والد صاحب کے ساتھ بارہ تیرہ  سال کام کیا  ہےاور آج کل اتنا طویل عرصہ کوئی شخص بغیر معاوضہ کے کام نہیں کرتا، اس لیے ان  تینوں بھائیوں کو اپنے اس کام کی اجرتِ مثل ملے گی، یعنی  اس طرح کے کاروبار میں اتنا عرصہ کام کرنے پر جو اجرت معاشرے میں رائج ہو اتنے سالوں کی وہ اجرت ان کو دی جائے گی۔   

مجلة الأحكام العدلية (ص: 269) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

المادة (1398) إذا عمل أحد في صنعته مع ابنه الذي في عياله فكافة الكسب لذلك الشخص ويعد ولده معينا , كما أنه إذا غرس أحد شجرا فأعانه ولده الذي في عياله فيكون الشجر لذلك الشخص ولا يشاركه ولده فيه.

شرح المجلة لخالد الأتاسي (ج:4ص:320) مكتبة رشيدية:

قال في الفتاوى الخيرية قول علمائنا أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما شيئ ثم اجتمع لهما قال يكون كله للأب إذا كان الإبن في عياله هو مشروط كما يعلم من عباراتهم بشروط: منها اتحاد الصنعة وعدم مال سابق  لهما وكون الابن في عيال أبيه، فإذا عدم واحد منها لا يكون كسب الابن للأب۔

الأشباه والنظائر لابن نجيم (ص: 230) دار الكتب العلمية، بيروت:

 استعان برجل في السوق ليبيع متاعه فطلب منه أجرا فالعبرة لعادتهم، وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعمل له استأجر شيئا لينتفع به خارج المصر فانتفع به في المصر، فإن كان ثوبا وجب الأجر وإن كان دابة لا.

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (3/ 125) دار الكتب العلمية:

فالعبرة لعادتهم:  أي لعادة أهل السوق فإن كانوا يعملون بالأجر يجب أجر المثل وإن كانوا يعملون بغير أجر فلا يجب أجره؛ وكذا لو أدخل رجلا في حانوته ليعينه على بعض أعماله كذا في الولوالجية.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 42) دار الفكر-بيروت:

(قوله فالعبرة لعادتهم) أي لعادة أهل السوق، فإن كانوا يعملون بأجر يجب أجر المثل وإلا فلا. (قوله اعتبر عرف البلدة إلخ) فإن كان العرف يشهد للأستاذ يحكم بأجر مثل تعليم ذلك العمل، وإن شهد للمولى فأجر مثل الغلام على الأستاذ درر۔

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (7/ 650) دار الكتب العلمية، بيروت:

رجل يبيع شيئاً في السوق فاستعان بواحد من أهل السوق على بيعه، فأعانه، ثم طلب منه الأجر، فإن العبرة في ذلك لعادة أهل السوق، فإن كان عادتهم أنهم يعملون بأجر يجب أجر المثل، وإن كان عادتهم أنهم يعملون بغير أجر فلا شيء له.

  1. اصولی اعتبار سے والد صاحب کا اپنی زمینیں بیٹیوں کو چھوڑ کر صرف بیٹوں کے نام کروانا درست نہیں تھا، کیونکہ شرعی اعتبار سے زندگی میں اپنی جائیداد اولاد کو دینا  دراصل ہبہ (گفٹ) ہے اور ہبہ کے بارے میں شریعت کا اصول  یہ ہے کہ سب اولاد کو برابر حصہ دے یا کم از کم بیٹیوں کو بیٹوں کی بنسبت  آدھا حصہ دے،  البتہ سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق  چونکہ والد نے یہ زمینیں مشاع یعنی مشترکہ طور پر سب بھائیوں کے نام لگوائی تھیں اور ایسی صورت میں حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مفتی بہ قول کے مطابق ہر بیٹے کا علیحدہ قبضہ نہ پائے جانے کی وجہ سے یہ ہبہ درست نہیں ہوا،[1] اس لیے بیٹے ان زمینوں کے شرعا مالک نہیں بنے، بلکہ یہ زمینیں والد صاحب کی زندگی میں بدستور ان کی ملکیت میں رہیں اور ان کی وفات کے بعد ان کے ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوں گی۔

اسی طرح والد صاحب کی وفات کے بعد بڑے بھائی نے والد کی جو زمین سب بھائیوں کے نام کروائی تھی وہ بھی درست نہیں تھا، کیونکہ اس میں بہنیں بھی اپنے شرعی حصوں کے مطابق شریک تھیں، اس لیے اب سب بھائیوں کی ذمہ داری ہے کہ ان زمینوں میں سے بھی بہنوں کو ان کا شرعی حصہ دیں یا کم از کم زمین کی قیمت لگوا کر ان کے شرعی حصہ کے مطابق قیمت ادا کر دیں۔

القرآن الکریم [النساء: 11]:

{ يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ}

 بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 127) دار الكتب العلمية، بیروت:

(وأما) كيفية العدل بينهم فقد قال أبو يوسف العدل في ذلك أن يسوي بينهم في العطية ولا يفضل الذكر على الأنثى وقال محمد العدل بينهم أن يعطيهم على سبيل الترتيب في المواريث للذكر مثل حظ الأنثيين كذا ذكر القاضي الاختلاف بينهما في شرح مختصر الطحاوي وذكر محمد في الموطإ ينبغي للرجل أن يسوي بين ولده في النحل ولا يفضل  بعضهم على بعض.وظاهر هذا يقتضي أن يكون قوله مع قول أبي يوسف وهو الصحيح لما روي أن بشيرا أبا النعمان أتى بالنعمان إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقال إني نحلت ابني هذا غلاما كان لي فقال له رسول الله - صلى الله عليه وسلم - كل ولدك نحلته مثل هذا فقال لا فقال النبي- عليه الصلاة والسلام - فأرجعه وهذا إشارة إلى العدل بين الأولاد في النحلة وهو التسوية بينهم ولأن في التسوية تأليف القلوب والتفضيل يورث الوحشة بينهم فكانت التسوية أولى ولو نحل بعضا وحرم بعضا جاز من طريق الحكم لأنه تصرف في خالص ملكه لا حق لأحد فيه إلا أنه لا يكون عدلا سواء كان المحروم فقيها تقيا أو جاهلا فاسقا على قول المتقدمين من مشايخنا وأما على قول المتأخرين منهم لا بأس أن يعطي المتأدبين والمتفقهين دون الفسقة الفجرة۔

الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 223) دار احياء التراث العربي – بيروت:

قال: "ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة، وهبة المشاع فيما لا يقسم جائزة" وقال الشافعي: تجوز في الوجهين؛ لأنه عقد تمليك فيصح في المشاع وغيره كالبيع بأنواعه، وهذا؛ لأن المشاع قابل لحكمه، وهو الملك فيكون محلا له، وكونه تبرعا لا يبطله الشيوع كالقرض والوصية. ولنا أن القبض منصوص عليه في الهبة فيشترط كماله والمشاع لا يقبله إلا بضم

غيره إليه، وذلك غير موهوب، ولأن في تجويزه إلزامه شيئا لم يلتزمه وهو مؤنة القسمة، ولهذا امتنع جوازه قبل القبض لئلا يلزمه التسليم.

الجوهرة النيرة على مختصر القدوري (1/ 325) الناشر: المطبعة الخيرية:

قوله (ولا تجوز الهبة فيما يقسم إلا محوزة مقسومة) ، وكذا الصدقة وتجوز فيما لا يقسم ولا فرق في ذلك بين الشريك وغيره يعني إذا وهب من شريكه لا يجوز ومعنى قوله لا تجوز أي لا يثبت الملك فيها.

  1. سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ ابھی تک والد صاحب کا ترکہ تقسیم نہیں کیا گیا اور مذکورہ کاروبار بھی والد صاحب کا ہی وراثت میں چھوڑا ہوا تھا، اس لیے یہ کاروبار بھی تمام ورثاء کے درمیان مشترکہ شمار ہو گا، جہاں تک تین بھائیوں کے اس کاروبار میں کام کرنے کا تعلق ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر انہوں نے باقی تمام ورثاء کی رضامندی سے یہ کاروبار جاری رکھا ہے، جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے تو اس صورت میں کاروبار سے حاصل شدہ نفع میں تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار ہوں گے، البتہ تین بھائیوں نے تقریباً چوبیس سال تک اس کاروبار میں کام کیا ہے اور عام طور پر اتنا طویل عرصہ بلامعاوضہ کوئی شخص کام نہیں کرتا، اس لیے ان تین بھائیوں کو اپنے کام کے عوض اجرتِ مثل ملے گی، جس کی تفصیل سوال نمبر(2) کے جواب میں گزر چکی ہے۔

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 92) دار المعرفة،بيروت:

(سئل) في إخوة خمسة تلقوا تركة عن أبيهم فأخذوا في الاكتساب والعمل فيها جملة كل على قدر استطاعته في مدة معلومة وحصل ربح في المدة وورد على الشركة غرامة دفعوها من المال فهل تكون الشركة وما حصلوا بالاكتساب بينهم سوية وإن اختلفوا في العمل والرأي كثرة وصوابا؟

(الجواب) : نعم إذ كل واحد منهم يعمل لنفسه وإخوته على وجه الشركة وأجاب الخير الرملي بقوله هو بينهما سوية حيث لا يميز كسب هذا من كسب هذا ولا يختص أحدهما به ولا بزيادة على الآخر إذ التفاوت ساقط كملتقطي السنابل إذا خلطا ما التقطا وحيث كان كل منهما صاحب يد لا يكون القول قول واحد منهما بقدر حصة الآخر فلو كان أحدهما صاحب يد والآخر خارجا واختلفا فالقول لذي اليد والبينة بينة الخارج اهـ وهذا بناء على الأصل في الشركة أنها بينهم سوية حيث لم يشرطوا شيئا. وأما إذا شرطوا زيادة لأحدهم فقد قال في البحر ولم يشترط المصنف لاستحقاق الربح اجتماعهما على العمل لأنه غير شرط لتضمنها الوكالة.

ولذا قال في البزازية اشتركا وعمل أحدهما في غيبة الآخر فلما حضر أعطاه حصته ثم غاب العامل وعمل الآخر فلما حضر الغائب أبى أن يعطيه حصة من الربح أن الشرط أن يعملا جميعا وشتى فما كان من تجارتهما من الربح فبينهما على الشرط عملا أو عمل أحدهما فإن مرض أحدهما ولم يعمل وعمل الآخر فهو بينهما.

  1. مذکورہ صورت میں اگر اس بھائی نے دیگر بھائیوں کے کاروبار میں کام کرنے  پرصراحتاً یا دلالتاً  رضامندی کا اظہار کیا تھا جیسا کہ سوال نمبر(4)کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے تو اس صورت میں یہ بھائی بھی اس کاروبار سے حاصل شدہ نفع میں اپنے شرعی حصہ کے مطابق حق دار ہو گا اور کام کرنے والے بھائیوں کو اجرتِ مثل ملے گی۔  

  2. مذکورہ صورت میں بڑے بھائی کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ یہ زمین میں نے خریدی ہے اور اس میں صرف چار بھائیوں کا حق ہے، بلکہ یہ زمین بھی کاروبار کے نفع میں شامل ہو گی، کیونکہ یہ زمین مشترکہ کاروبار سے حاصل شدہ آمدن سے خریدی گئی تھی۔

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (27/3)الناشر: دار الجيل:

لو أجر الشركاء الحانوت المشترك بينهم لآخر فيجب تقسيم بدل الإيجار بينهم حسب حصصهم في الحانوت. فإذا شرط لأحدهم مقدارا أكثر من حصته لا يصح. كذلك لو كان كل واحد من اثنين يملك عقارا على وجه الاستقلال فأجرا العقارين المذكورين بعقد واحد لآخر واتفقا على تقسيم الأجرة بينهما مناصفة وتقاسما الإيجار سنين عديدة على هذا الوجه فإذا كان بدل الإيجار لأحد ذينك العقارين أزيد من إيجار الآخر أي. أجر مثله فيجب إعادة الزيادة المذكورة إلى صاحب العقار المذكور وإعطاء تلك الزيادة. وإن الظن بأن تلك المقاولة مشروعة لا يكون مانعا من استرداد تلك الزيادة.

  1. والد صاحب کی خریدی گئی زمین میں سے یہ بھائی اپنے شرعی حصہ ٴ وراثت کے مطابق حق دار ہو گا۔ البتہ جہاں تک اس زمین میں کاشت کاری کرنے اور فصل اگانے کا تعلق ہے تو چونکہ اس میں ہونے والا خرچہ مشترکہ کاروبار سے کیا جاتا تھا اور فصل سے حاصل شدہ بچت کی رقم بھی کاروبار میں لگا دی جاتی تھی اس لیے اس زمین کی آمدن کو بھی سب ورثاء میں مشترکہ شمار کیا جائے گا اور سب ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق اس میں حق دار ہوں گے، البتہ جو بھائی زمین کی کاشت کاری میں کام کرتے رہے ہیں ان کو اپنے اس کام کی اجرتِ مثل ملے گی۔

مجلة الأحكام العدلية (ص: 206) نور محمد، كارخانه تجارتِ كتب، آرام باغ، كراتشي:

(المادة 1073) تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة  حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (27/3)الناشر: دار الجيل:

(المادة 1073) (تقسيم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابهم بنسبة حصصهم. فلذلك إذا شرط لأحد الشركاء حصة أكثر من حصته من لبن الحيوان المشترك أو نتاجه لا يصح) تقسم حاصلات الأموال المشتركة في شركة الملك بين أصحابها بنسبة حصصهم، يعني إذا كانت حصص الشريكين متساوية أي مشتركة مناصفة فتقسم بالتساوي وإذا لم تكن متساوية بأن يكون لأحدهما الثلث وللآخر الثلثان فتقسم الحاصلات على هذه النسبة؛ لأن نفقات هذه الأموال هي بنسبة حصصهما، انظر المادة (1308) وحاصلاتها أيضا يجب أن تكون على هذه النسبة.

الحاصلات: هي اللبن والنتاج والصوف وأثمار الكروم والجنائن وثمن المبيع وبدل الإيجار والربح وما أشبه ذلك. إيضاح اللبن والنتاج والصوف: إذا شرط لأحد الشريكين في الحيوان المشترك شيء زائد عن حصته من لبن ذلك الحيوان أو صوفه أو نتاجه لا يصح. مثلا لو شرط الشريكان تقسيم لبن البقرة المشتركة بينهما أثلاثا مناصفة فيكون اللبن مشتركا بينهما أثلاثا فإذا أخذ صاحب الثلث أكثر من حصته بناء على هذا الشرط فيجب عليه رده عينا إذا كان موجودا وبدلا إذا كان مستهلكا. كذلك إذا استهلك أحدهما تلك الحاصلات بلا إذن الآخر يضمن.

  1. آپ کے والدمرحوم نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے آٹھواں حصہ مرحوم کی بیوی کا اور باقی ان کےبیٹے اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم ہو گا کہ بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا دیا جائے گا۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ مرحوم کے ترکہ سے متعلق مذکورہ بالا پہلے تین حقوق ادا کرنے کے بعد باقی بچنے والے ترکہ کوایک سو بارہ  (112) حصوں میں برابر تقسيم كر كے مرحوم کی بیوی کو چودہ حصے، ہرہربیٹے کو  چودہ چودہ (14) حصے اور ہر بیٹی کو  سات سات حصے (7) حصے  دے دیے جائیں، تقسیم ِ میراث کا نقشہ ملاحظہ فرمائیں:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیٹا

14

12.5%

2

بیٹا

14

12.5%

3

بیٹا

14

12.5%

4

بیٹا

14

12.5%

5

بیٹا

14

12.5%

6

بیٹا

14

12.5%

7

بیٹی

7

6.25%

8

بیٹی

7

6.25%

9

زوجہ

14

12.5%

 

 

 

 

 

 

 

 

 

[1] مذکورہ صورت میں حضرات صاحبین رحمہما اللہ کے موقف پر عمل نہیں کیا جائے گا، کیونکہ ان کے قول پر ضرورت کے وقت عمل کرنے کی گنجائش ہے اور یہاں ضرورت نہیں ہے، کیونکہ ان کے قول پر عمل کرنے کی صورت میں بیٹیاں اپنے والد کی اس زمین میں موجود اپنے شرعی حق سے محروم ہو جائیں گی۔

حوالہ جات

القرآن الکریم : [النساء:11]

       يوصيكم اللَّه في أَولَادكم للذكَر مثل حظ الأنثيينِ.

القرآن الکریم : [النساء: 12]

{وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ}

 السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

درر الحكام شرح مجلة الاحكام  لعلي حيدر (421/3) دار الجيل:

ويوجد ثلاثة شروط لأجل اعتبار الولد معينا لأبيه:

1 - اتحاد الصنعة، فإذا كان الأب مزارعا والابن صانع أحذية فكسب الأب من المزارعة والابن من صنعة الحذاء، فكسب كل منهما لنفسه وليس للأب المداخلة في كسب ابنه لكونه في عياله.

وقول المجلة (مع ابنه) إشارة لهذا الشرط. مثلا إن زيدا يسكن مع أبيه عمرو في بيت واحد ويعيش من طعام أبيه وقد كسب مالا آخر فليس لإخوانه بعد وفاة أبيه إدخال ما كسبه زيد في الشركة. كذلك لو كان اثنان يسكنان في دار وكل منهما يكسب على حدة وجمعا كسبهما في محل واحد ولم يعلم مجموعه لمن كما أنه لم يعلم التساوي أو التفاوت فيه فيقسم سوية بينهما ولو كانا مختلفين في العمل والرأي.

2 - فقدان الأموال سابقا. إذا كان للأب أموال سابقة كسبها ولم يكن معلوما للابن أموال بأن ورث من مورثه أموالا معلومة فيعد الابن في عيال الأب.

3 - أن يكون الابن في عيال أبيه، أما إذا كان الأب يسكن في دار والابن في دار أخرى وكسب الابن أموالا عظيمة فليس للأب المداخلة في أموال ابنه بداعي أنه ليس للابن مال في حياة أبيه.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

5/ذوالحجہ1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب