| 82476 | وقف کے مسائل | مسجد کے احکام و مسائل |
سوال
مفتی صاحب ایک گاؤں کے سبھی لوگ بریلوی مسلک کے ماننے والے ہیں،صرف ایک گھروالے دیوبندی مسلک کے ماننے والے ہیں اور مسجد بھی ایک ہی ہے اور وہ بھی بریلوی مسلک کے لوگوں کی ہیں اور جتنے بھی بریلوی مسلک کے ماننے والے ہیں وہ سبھی لوگ محمد ﷺ کو نور مانتے ہیں،غیراللہ سے مدد مانگتے ہیں ، اور مزاروں پر چادر چڑھاتے ہیں اور ان سے مدد مانگتے ہیں ، محرم کے مہینے میں تعزیہ بھی اٹھاتے ہیں اور بہت سے گناہ بڑے بڑے گناہ کھلےطور پر کرتے ہیں اور جب ہم ان کو سمجھاتے ہیں تو نہیں مانتے اور ہم دیوبندی مسلک کے لوگوں کو گمراہ سمجھتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا ان کی مسجد میں پیسے دینا جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اس حوالے سے اصولی جواب یہ ہے کہ جو فرد یا ادارہ رفاہِ عامہ، نیکی اور خیر کے کاموں میں مصروف ہو،یااحیاءِ سنت کے لیے کوشاں ہو ، ایسے فرد یا ادارہ کا تعاون نیکی کے کاموں میں تعاون ہے جس کی قرآن میں ترغیب دی گئی ہے اور جوفرد یا ادارہ واقعتًا بدعات کی ترویج کے لیے کام کررہا ہو اس کا تعاون بُرائی کے کاموں میں تعاون ہےجس سے قرآن میں ممانعت وارد ہے،چنانچہ سورہ مائدہ آیت نمبر۲میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:
{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [المائدة: 2]
ترجمہ:اور نیکی اور تقوی میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ اور ظلم میں تعاون نہ کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو،بیشک اللہ عذاب بڑا سخت ہے۔
حوالہ جات
........
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/جمادی الثانیہ1444ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


