03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شیئرز کی بیع بالوفاء کا حکم
84087خرید و فروخت کے احکامبیع کی مختلف اقسام ، بیع وفا، بیع عینہ اور بیع استجرار کا بیان

سوال

   شیئرزمیں اگرکوئی بندہ اپناحصہ کسی اوربندہ  کوبیچے،لیکن اس شرط پر کہ"میں یہ حصہ آپ کوتین ماہ کےلیے بیچ رہا ہوں" تواس صورت میں شیئرز بیچنے کےجوازیاعدم جواز کا کیاحکم ہوگا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

       بیع کی صحت کےلیےتابید( کسی خاص مدت تک تقییدنہ کرنا)شرط اورضروری ہے،شیئرز کی بیع کی سؤال میں ذکرکردہ صورت میں چونکہ تین مہینےتک بیچنےکی شرط ہے،جوشرط فاسد ہے،لہذاشیئرزکی فروخت کی مسئولہ صورت شرعافاسدہے،اورایسےمعاملہ کوختم کرناشرعاضروری ہے، البتہ  ایسی صورت میں اگرعقد کے بعدخریدار کی طرف سے ایسی بات کا وعدہ کردیا جائےتوایسامعاملہ درست ہےہوگااور اس وعدہ کاپورا کرناخریدار کےذمہ لازم ہوگا۔

حوالہ جات

رد المحتار - (ج 20 / ص 471)

وبيع الوفاء ذكرته هنا تبعا للدرر : صورته أن يبيعه العين بألف على أنه إذا رد عليه الثمن رد عليه العين ، وسماه الشافعية بالرهن المعاد ، ويسمى بمصر بيع الأمانة ، وبالشام بيع الإطاعة ، قيل هو رهن فتضمن زوائده ، وقيل بيع يفيد الانتفاع به ، وفي إقالة شرح المجمع عن النهاية : وعليه الفتوى ، وقيل إن بلفظ البيع لم يكن رهنا ، ثم إن ذكرا الفسخ فيه أو قبله أو زعماه غير لازم كان بيعا فاسدا ، ولو بعده على وجه الميعاد جاز لزم الوفاء به ؛ لأن المواعيد قد تكون لازمة لحاجة الناس ، وهو الصحيح كما في الكافي والخانية وأقره خسرو هنا والمصنف في باب الإكراه وابن الملك في باب الإقالة بزيادة .

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

  ۴ ذی الحجہ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب