03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
جانوروں میں مضاربت کاحکم
84000مضاربت کا بیانمتفرّق مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں کہ دو آدمی  آپس میں مضاربت کا کاروبار کرتے ہیں، ایک کا روپیہ جس سے دس بکریاں خریدی گئیں،جبکہ دوسرے کی محنت ہے، میعاد نو مہینے مقرر ہوئی، درمیان مضاربت میں ایک بکری ہلاک ہوئی، اب درج ذیل باتوں کا جواب مطلوب ہے:

۱۔میعاد پوری ہونے پر تقسیم کیسے کریں؟ کل نو بکریاں باقی ہیں، روپے دینے والے کا حصہ کتنی بکریاں  ہوں گی؟محنت کرنےوالے کو کتنی بکریاں ملیں گی؟

۲۔ اگر روپے والا کہے کہ نقصان میں ہم تم دونوں شریک  ہیں ، لیکن محنت کرنے والا انکار کرے تو فیصلہ کس طرح ہوگا؟اور ایسی صورت میں مضاربت کا کیا بنے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔صورت مسئولہ میں اگررب المال نے خود بکریاں خرید کر دی تھیں اوران پر خرچ کےلیےرقم بھی الگ سےدی تھی یا صرف روپے یہ طےکرکےدیئے تھے کہ اس سےبکریاں بھی خریدی جائیں گی اوران کےچارے وغیرہ کے اخراجات بھی کئے جائینگے،یعنی چارہ وغیرہ اخراجات کام کرنے والے کے ذمہ شرط نہ کئے گئے ہوں اورنفع طےشدہ فیصدی تناسب سےتقسیم کیاجائےگاتومذکورہ دونوں صورتوں میں یہ مضاربت  کامعاملہ ہےجو درست ہے۔

واضح رہےکہ حنفیہ اور جمہور کے نزدیک مضاربت کےلیےرب المال کی طرف سے نقدی ملنا ضروری ہے،لیکن امام احمد کی ایک روایت کے مطابق عروض کی وقت عقد کی قیمت کو بھی راس المال قرار دیا جاسکتا ہے،حضرت تھانوی رحمہ اللہ اور شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی حفظہ اللہ  نےبوقت ضرورت اسکی گنجائش دی ہے،(فتاوی عثمانی:ج۳،ص۳۸)

البتہ صورت مسئولہ لہ میں اگر یہ طے نہیں کیا گیاتھا، جیساکہ بظاہرسؤال سے معلوم ہوتا ہے تو مضاربت کا یہ معاملہ فاسد ہوگیا ہے،جواجارہ فاسدہ کے حکم میں ہوتا ہے،ایسی صورت میں اب حکم یہ ہے کہ محنت کرنےوالے کےلیے اجرت مثل( یعنی مارکیٹ  ویلیو کے مطابق اتنی مدت ایسے کام کی جو اجرت ہو)لازم ہوگی اوربکریوں کا نفع سارا پیسے دینے والے کا ہوگا۔

اگرصورت مسؤلہ میں نفع تقسیم کرنےکی شرح طےہوئی تھی مثلا یہ طے ہوا تھا کہ نفع آدھا آدھا ہوگا وغیرہ تویہ مضاربت صحیح ہےاورچونکہ مضاربت کا شرعی اصول یہ ہے کہ اس میں نفع کی تقسیم کےلیے عاقدین باہمی رضامندی سے کوئی بھی شرح طےکرسکتے ہیں، مگرنقصان سارا کاسارارب المال یعنی پیسے دینے والے کا ہوتا ہے،اس لیے ایسی صورت میں جو نقصان ہوا ہے وہ اور اخراجات نکال کراگر کچھ باقی بچے گا تو وہ نفع ہوگا اور  طے شدہ شرح سے تقسیم ہوگا، واضح رہے کہ بکریوں کی تقسیم گنتی کے حساب سے نہیں ،بلکہ مارکیٹ ریٹ کےمطابق قیمت لگا کرہوگی۔

۲۔چونکہ مضاربت میں محنت کرنےوالا مالی نقصان کاذمہ دارنہیں ہوتا،اس لیے مسئولہ صورت میں مالی نقصان سارارب المال برداشت کرے گا اوراس کی اس بات کا کوئی اعتبار نہیں کہ نقصان میں بھی ہم دونوں شریک ہیں،لہذا مضارب یعنی محنت کرنے والا طے شدہ نسبت سے نفع میں شریک ہے،البتہ منافع حاصل ہونےکی صورت میں نقصان کواول منافع سے پورا کیاجائےگا،اس سے پورانہ ہوتوبقیہ نقصان رب المال پر آئے گااورمضارب پرکوئی تاوان نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي - (ج 15 / ص 230)

فكل شرط يؤدي إلى جهالة الربح فهي فاسدة وما لا فلا مثل أن يشترط أن تكون الوضيعة على المضارب أو عليهمافهي صحيحة وهو باطل.

رد المحتار - (ج 23 / ص 382)

( وما هلك من مال المضاربة يصرف إلى الربح ) ؛ لأنه تبع ( فإن زاد الهالك على الربح لم يضمن ) ولو فاسدة من عمله ؛ لأنه أمين

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۲۷ذیقعدہ۱۴۴۵ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب