| 67523 | سود اور جوے کے مسائل | سود اورجوا کے متفرق احکام |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ کوئی شخص بینک سے ایک لاکھ کاقرضہ لیتاہے اوراس کی ادائیگی پر سود ادا کرتاہے مثلاً:بنک ایک لاکھ کے بدلے میں 1200اضافی وصول کرتاہے تو کیایہ 1200وصول کرناسود ہے ؟ اگر سود ہے تو کیسے ؟ اسی طرح اگر آپ اسلامی بینک سے قرض لیتے ہیں تووہ قرضہ کےبجائے ہمیں وہ چیز لےکر دیتے ہیں ،اگر وہ چیز ایک لاکھ کی ہوتو اسلامی بنک آپ کو ایک لاکھ بارہ سو کی دیتاہے ،یہ بھی تو اضافی پیسے کی وصولی ہے، یہ کیسے سود نہیں ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سودی بینک رقم بطور قرض دے کر اس پر اضافی رقم لیتا ہے جوکہ سود ہے،اس کے سود ہونے میں کوئی شبہہ نہیں، اور سودقرآن کریم کی نص قطعی کی بناء پر قطعی طور پر حرام اور ناجائز ہے،جبکہ غیر سودی بینک قرض کے طور پر رقم حوالے نہیں کرتا، بلکہ مارکیٹ سے ایک لاکھ کی چیز اپنے لیے خریدتا ہے اور پھر اپنا نفع رکھ کر وہ چیز آپ کو فروخت کرتا ہے، جو عام بیع ہے اورشرعاً جائز ہے ،اگر چہ اضافہ بیع اورربادونوں میں ہوتاہے، مگرایک میں اضافہ کسی عوض کے مقابلے میں ہوتا ہے،جس کو شریعت نے حلال قراردیاہے اوردوسرے میں کسی عوض کے بغیر ہی مشروط اضافہ ہوتا ہے،جس کو شریعت نےحرام قرار دیاہے ۔ معاملہ کی نوعیت بدل جانے سے حکم تبدیل ہوجاتا ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
حوالہ جات
"وأحل اللہ البیع وحرم الربو"(البقرۃ:275)
ترجمہ:"اللہ تعالی نے بیع کو حلال اور ربا کو حرام کردیا ہے۔"
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
29/صفر1441ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


