| 82493 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
کیا ذہن میں بیوی کو لانا اور طلاق کہنا یا تمہیں طلاق دیتا ہوں کہنے سے طلاق واقع ہو جائے گی؟ کیا ذہن میں بیوی کو لا کر اس طرح کہنا نیت کے مترادف ہے یا نیت/ارادہ کا تعلق دماغی خیال سے نہیں ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق کے صریح جملوں کی زبان سے ادائیگی کی صورت میں بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے،لیکن جب تک زبان سے طلاق کے جملے نہ بولے جائیں تو محض طلاق کے خیال، وسوسہ اورنیت سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
چونکہ" تمہیں طلاق دیتا ہوں "طلاق کے صریح الفا ظ میں سے ہے،اس لئے زبان سے اس جملے کی ادائیگی کی وجہ سے طلاق واقع ہوجائے گی،چاہے طلاق دینے کی نیت ہو یانہ ہو،الا یہ کہ بیوی کے علاوہ کسی اور کو مخاطب کرکے مذکورہ جملہ بولا جائے تو پھر طلاق نہیں ہوگی۔
لیکن مذکورہ بالا حکم عام نارمل آدمی سے متعلق ہے،اگر کسی شخص پر وسوسے کی بیماری کا اتنا غلبہ ہوجائے کہ اس کی وجہ سے اس کی زبان سے غیر ارادی اور غیر اختیاری طور پر طلاق کے جملے نکلنے لگے تو زبان سے نکلنے والے ان غیر اختیاری جملوں سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔
حوالہ جات
"صحيح البخاري" (7/ 46):
"عن أبي هريرة رضي ﷲ عنه، عن النبي صلى ﷲ عليه وسلم قال: «إن ﷲ تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها، ما لم تعمل أو تتكلم» قال قتادة: «إذا طلق في نفسه فليس بشيء»".
"شرح القسطلاني " (8/ 147):
"(إن ﷲ تجاوز عن أمتي ما حدّثت به أنفسها) بالنصب على المفعولية يقال: حدّثت نفسي بكذا أو بالرفع على الفاعلية يقال: حدّثتني نفسي بكذا (ما لم تعمل) في العمليات (أو تتكلم) في القوليات (وقال قتادة) فيما وصله عبد الرزاق (إذا طلق) امرأته سرًّا (في نفسه فليس) طلاق ذلك (بشيء)".
"الموسوعة الفقهية الكويتية" (43/ 156):
"أ - طلاق الموسوس:
نقل ابن عابدين عن الليث: في مسألة طلاق الموسوس أنه لا يجوز طلاق الموسوس، قال: يعني المغلوب في عقله .
ونقل ابن القيم: إن المطلق إن كان زائل العقل بجنون أو إغماء أو وسوسة لا يقع طلاقه، قال: وهذا المخلص مجمع عليه بين علماء الأمة" .
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
26/جمادی الثانیہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


