| 82494 | نان نفقہ کے مسائل | بیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل |
سوال
میرا نکاح سات مہینے پہلے ایک لڑکے سے ہوا تھا،میر امہر دس لاکھ روپے عند الطلب تھا جو کہ میں نے ابھی تک طلب نہیں کیا،نکاح سے پہلے لڑکے والوں نے رخصتی کے لئے ایک مہینے کا وقت لیا تھا، مگر اب وہ مختلف بہانوں سے رخصتی میں تاخیر کر رہے ہیں،اس دوران ہم تین سے چار بار تنہائی میں مل بھی چکے ہیں، اس کے بعد میرے شوہر نے مجھ سے اپنا رابطہ ختم کر دیا ہے، کیونکہ میں اُن سے اپنے نان نفقہ اور رخصتی کا مطالبہ کرتی ہوں۔
سوال یہ ہے کہ میرا اپنے شوہر سے نان نفقہ اوررخصتی کا مطالبہ کرنا صحیح ہے؟ اور اس بارے میں میرے شوہر پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب نکاح کے وقت باہمی رضامندی سے رخصتی کے لئے ایک مہینے کا وقت طے ہوگیا تھا تو اس کے بعد کسی معقول عذر کے بغیر مختلف حیلوں بہانوں کے ذریعے رخصتی میں تاخیر کرنا شرعا جائز نہیں،لہذا ایک مہینہ گزرنے کے بعد لڑکی لڑکے سے اپنے تمام حقوق کا مطالبہ کرسکتی ہے اور شوہر کے ذمے ان حقوق کی ادائیگی لازم ہے۔
البتہ گزشتہ مہینوں کے نان نفقے کے مطالبے کا حق لڑکی کو تب حاصل ہوگا جب نکاح کے وقت باہمی رضامندی یا عدالتی فیصلے سے نفقے کی ماہانہ کوئی مقدار طے کرلی گئی ہو،بصورتِ دیگر گزشتہ مدت کا نفقہ شوہر کے ذمے لازم نہیں ہوگا،تاہم سقوطِ نفقہ کے لئے کم از کم ایک مہینہ گزرنا شرط ہے،ایک مہینے سے مدت کم ہونے کی صورت میں گزشتہ مدت کا نفقہ ساقط نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
"المحيط البرهاني في الفقه النعماني" (3/ 522):
"والمعنى في ذلك أن النفقة إنما تجب عوضاً عن الاحتباس في بيت الزوج، فإذا كان الفوات لمعنى من جهة الزوج أمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً، أما إذا كان الفوات بمعنى من جهة الزوجة لا يمكن أن يجعل ذلك الاحتباس باقياً تقديراً وبدونه لا يمكن إيجاب النفقة".
"الفتاوى الهندية "(1/ 545):
"الكبيرة إذا طلبت النفقة، وهي لم تزف إلى بيت الزوج فلها ذلك إذا لم یطالبھا الزوج بالنقلة، ومن مشايخ بلخ - رحمهم الله تعالى - من قال: لا تستحقها إذا لم تزف إلى بيته، والفتوى على الأول كذا في الفتاوى الغياثية.
فإن كان الزوج قد طالبها بالنقلة، فإن لم تمتنع عن الانتقال إلى بيت الزوج فلها النفقة، فأما إذا امتنعت عن الانتقال، فإن كان الامتناع بحق بأن امتنعت لتستوفي مهرها فلها النفقة، وأما إذا كان الامتناع بغير الحق بأن كان أوفاها المهر أو كان المهر مؤجلا أو وهبته منه فلا نفقة لها كذا في المحيط".
"المبسوط للسرخسي "(5/ 184):
"ولو خاصمته امرأته في نفقة ما مضى من الزمان قبل أن يفرض القاضي عليه لها النفقة لم يكن لها شيء من ذلك عندنا".
"الدر المختار " (3/ 594):
"(والنفقة لا تصير دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء، وبعده ترجع بما أنفقت ولو من مال نفسها بلا أمر قاض".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله :والنفقة لا تصير دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة. قال في الفتح: وذكر في الغاية معزوا إلى الذخيرة أن نفقة ما دون الشهر لا تسقط فكأنه جعل القليل مما لا يمكن الاحتراز عنه، إذ لو سقطت بمضي يسير من الزمان لما تمكنت من الأخذ أصلا. اهـ ومثله في البحر، وكذا في الشرنبلالية عن البرهان ووجهه في غاية الظهور لمن تدبر فافهم".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
28/جمادی الثانیہ1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


