| 82847 | نکاح کا بیان | نکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں |
سوال
اگر ایک بندے کا بیٹا کراچی میں ہو اور لڑکی والے کسی دوسرے علاقے میں ہوں،راستے کی مسافت کی وجہ سے لڑکے والے شریک نہ ہوں اور نہ ہی لڑکے کی طرف سے وکیل موجود ہو،بلکہ آن لائن نکاح پڑھایا جائے اور حق مہر بھی مقرر کیا جائے،ایجاب وقبول بھی کیا جائے تو یہ شریعت کی رو سے کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
چونکہ نکاح کے انعقاد کے لئے مجلس کا ایک ہونا ضروری ہے،اس لئے آن لائن نکاح منعقد نہیں ہوتا،لہذا مذکورہ صورت میں لڑکے کی طرف سے کوئی وکیل مقرر کرلیا جائے جو اس کی طرف سے قبول کرلے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (3/ 14):
"ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال كمخيرة، وأن لا يخالف الإيجاب القبول كقبلت النكاح لا المهر".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله: اتحاد المجلس) قال في البحر: فلو اختلف المجلس لم ينعقد، فلو أوجب أحدهما فقام الآخر أو اشتغل بعمل آخر بطل الإيجاب؛ لأن شرط الارتباط اتحاد الزمان فجعل المجلس جامعا تيسيرا؛ وأما الفور فليس من شرطه؛ ولو عقدا وهما يمشيان أو يسيران على الدابة لا يجوز، وإن كان على سفينة سائرة جاز. اهـ. أي؛ لأن السفينة في حكم مكان واحد".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
19/رجب1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | آفتاب احمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


