03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈراپ شپنگ کا حکم اور جائز متبادل
84177خرید و فروخت کے احکامبیع فاسد ، باطل ، موقوف اور مکروہ کا بیان

سوال

ایک آن لائن کاروبار ہے۔ جس میں مثلاً زید آن لائن اسٹور تخلیق کرتا ہے اسے مناسب طریقے سے سجاتا ہے اور اس پر مختلف اشیاء بیچنے کے لیے پیش کرتا ہے جو حقیقت میں اس کے پاس موجود نہیں ہو تیں، بلکہ وہ دیگر آن لائن اسٹورز (مثلاً بکر کے اسٹور پر) ایسی مصنوعات تلاش کرتا ہے جو اچھی طرح فروخت کر سکتا ہے اور ان کو اپنے آن لائن سٹور پر قیمت تھوڑی بڑھا کر پیش کر دیتا ہے اور اس طرح نفع کماتا ہے۔ جب کوئی شخص زید کو آرڈر دیتا ہے تو وہ اس سے معاملہ کرنے کے بعد اس کا ایڈریس بکر کے آن لائن سٹور بھیج دیتا ہے جہاں وہ چیز موجود ہوتی ہے؛ تاکہ وہ آرڈر پورا کریں۔ بکر کو ادائیگی زید کرتا ہے  اور خریدار سے قیمت خود لیتا ہے۔

 اس سارے عمل کے دوران مبیع زید کے پاس نہیں ہو تا، لیکن اہم بات یہ ہے کہ زید ایک آن لائن اسٹور بناتا ہے اور عمدہ کسٹمر سروس کے ساتھ اچھی ساکھ بناتا ہے، جس کی وجہ سے لوگ بکر وغیرہ کی بجائے زید کو آرڈر دینا پسند کرتے ہیں اور تھوڑی سی اضافی رقم کے ساتھ زید سے خریدنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

اس کاروبار میں زید خریدار کے ساتھ قیمت پہلے سے ہی طے کرتا ہے ، ترسیل کی تاریخ کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور مصنوعات کی معیار کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے،یہاں تک کہ اگر وہ مصنوعات گاہک کی ضرورت پوری نہیں کرتیں یا انہیں پسند نہیں آتیں تو کسی بھی وقت واپس کر سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر ڈیلیوری کے دوران مصنوعات کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو قیمت واپس کر دی جاتی ہے۔ اس پیرا گراف میں ذکر کردہ تمام ذمہ داریاں زید کے سر ہوتی ہیں۔ وہ جو منافع کماتا ہے، اپنی ان ذمہ داریوں اور اچھی ساکھ کی وجہ سے کماتا ہے۔

 نیز زید کے اسٹور پر فروخت کی جانے والی اشیاء کا مختصر تعارف بھی کرایا جاتا ہے، جس میں یہ بات واضح طور پر لکھ دی جاتی ہے کہ اپنے پاس سامان نہ ہونے کی صورت میں وہ دوسروں سے خرید کر بھی دے سکتے ہیں۔ اصل میں ہمارے پاس تو سامان ہوتا ہی نہیں ہے، یہاں اپنے پاس سامان نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ جس سٹور سے ہمارا معاہدہ ہوتا ہے کہ ہم ان کی چیزوں کو اپنے سٹور پر پیش کریں گے، اگر ان کے پاس بھی وہ سامان نہ ہو تو پھر ہم کسی اور سے لے کر دیں گے۔

 اس کاروبار کو اصطلاح میں "ڈراپ شپنگ " کہا جاتا ہے، جس کی تمام تر تفصیلات انٹر نیٹ پر موجود ہیں اور آن لائن کاروبار میں مصروف 60 سے 70 فیصد افراد اس میں لگے ہوئے ہیں۔ اس ساری تفصیل کی روشنی میں سوال یہ ہے کہ کیا یہ کاروبار حلال ہے ؟ اگر نہیں تو شرائط اور طریقہ کار میں ایسی کیا تبدیلیاں کی جائیں کہ یہ کاروبار جواز کی حدود میں داخل ہو جائے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کردہ ڈراپ شپنگ کا رائج طریقۂ کار شرعا درست نہیں؛ اس میں آرڈر لینے والا شخص ایسی چیز بیچتا ہے جو اس کی ملکیت اور قبضہ میں نہیں ہوتی، اور شرعا کسی چیز کو ملکیت اور قبضہ سے پہلے بیچنا جائز نہیں۔

اس کا ایک متبادل جائز طریقہ یہ ہے کہ جب آپ کے پاس آرڈر آئے تو آپ آرڈر دینے والے کو اس وقت وہ چیز نہ بیچیں، بلکہ اس سے وعدہ کریں کہ میں یہ چیز تمہیں بیچ دوں گا، پھر اس کے بعد آپ وہ چیز سپلائر سے خریدیں؛ تاکہ آپ کی ملکیت آجائے۔ اس کے بعد سپلائر کے علاوہ کسی شخص کو اپنا وکیل بنائیں؛ تاکہ وہ آپ کی طرف سے قبضہ کرے اور آرڈر دینے والے کو بھیج دے۔ مذکورہ بالا دونوں کام یعنی چیز خریدنے اور وکیل کے ذریعے اس پر قبضہ کرنے کے بعد یا تو آپ آرڈر دینے والے کو فون، وٹس ایپ، ای میل وغیرہ کے ذریعے یہ چیز بیچ دیں، یا پھر جب چیز اس کے پاس پہنچ جائے تو تعاطیاً بیع منعقد ہوجائے گی۔

دوسرا جائز متبادل طریقہ یہ ہے کہ آپ سپلائر (وہ دوسرا سٹور جس کی مصنوعات آپ اپنے سٹور پر پیش کرتے ہیں) کے وکیل (کمیشن ایجنٹ) کے طور پر کام کریں، اس سے یہ معاہدہ کریں کہ میں آپ کی چیزیں آپ ہی کے لیے اپنے سٹور پر بیچوں گا اور اس پر آپ سے متعین اجرت لوں گا۔  ہر پروڈکٹ پر الگ الگ اجرت مقرر کرنا ضروری نہیں، ایک دفعہ معاہدہ کرنا بھی کافی ہے۔  اجرت میں اصل یہ ہے کہ لم سم رقم کی شکل میں طے ہو، مثلا ہر پروڈکٹ بیچنے پر دس روپے، یا فلاں پروڈکٹ بیچنے پر دس روپے، فلاں پر بیس روپے ۔ اگر پروڈکٹ کی کل قیمتِ فروخت کا فیصدی حصہ (مثلا ٪10) بطورِ اجرت مقرر کریں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔ اس صورت میں چونکہ آپ آرڈر دینے والے کو اپنی چیز نہیں بیچیں گے، بلکہ سپلائر کی چیز بیچیں گے؛ اس لیے مصنوعات سے متعلق ہر قسم کے خطرات (Risks) بھی اسی کے ذمے ہوں گے، الاّ یہ کہ آپ کی طرف سے اصول و قواعد کی خلاف ورزی، زیادتی یا بے احتیاطی کی وجہ سے کوئی نقصان ہو تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ سپلائر سے وکالت (Agency) کا معاہدہ کرتے ہوئے نقصان سے متعلق اس حکمِ شرعی کی صراحت اور وضاحت ضروری ہے؛ تاکہ بعد میں کوئی اختلاف اور تنازع نہ ہو۔

حوالہ جات

سنن أبي داود (5/ 362):

عن حكيم بن حزام، قال: يا رسول الله، يأتيني الرجل فيريد مني البيع ليس عندي، أفأبتاعه له من السوق؟ فقال: "لا تبع ما ليس عندك ".

المبسوط للسرخسي (13/ 14):

قال: ومن اشترى شيئاً فلا يجوز له أن يبيعه قبل أن يقبضه ولا يوليه أحداً ولا يشرك فيه؛ لأن التولية تمليك ما ملك بمثل ما ملك، والإشراك تمليك نصفه بمثل ما ملك به.

رد المحتار (6/ 63):

مطلب في أجرة الدلال،   تتمة:  قال في التاترخانية: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل،  وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم.  وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسداً لكثرة التعامل، وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

       2/محرم الحرام/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب