| 84256 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
فریق اول : مولانا قمر الدین (خریدنے والا ) فریق دوم : محمد شاہد گبول ،احسان احمد گبول ( فروخت کنندہ)
فریق دوم نے ایک پلاٹ جو تقریبا ایک ایکڑ کے قریب ہے، جس کو باؤنڈری لگی ہوئی ہے، فریق اول کو فروخت کیا ،جس کا ٹوٹل ایک کروڑ 60 لاکھ طے ہوا ،جس میں فریقِ اول نے بطورِ ٹوکن 10 لاکھ ادا کیے، بقیہ رقم کاتین ماہ کا شیڈول طے ہوا۔ اس کے بعد فریقِ اول عمرے پر چلا گیا، فریق اول کی عدم موجودگی میں فریق دوم نےاس پلاٹ کا آدھا حصہ فریق سوم حاجی مراد گبول کوفروخت کیا کل رقم ایک کروڑ 50 لاکھ تھی، جس میں سے حاجی مراد نے ایک کروڑ روپےادا کیے۔
عمرےسے واپسی کے بعد میں (فریق اول )نے پلاٹ کا مطالبہ کیا تو فریقِ دوم نے کہا کہ نئی قیمت کے ساتھ پلاٹ کا آدھا حصہ ایک کروڑ 60 لاکھ روپے میں دیں گے،جس پر فریقِ اول بادل نخواستہ راضی ہو گیا، چنانچہ فریق اول نے اپنے ساتھ ایک اور پارٹنر ساتھ کر کے تمام حدود اورپلاٹ کی ایک سائیڈ متعین کر کے آدھے پلاٹ پر قبضہ کرلیا ۔فریقِ دو م نے ہر چیز کی ذمہ داری لے لی، جس کا مجھے سیل ایگریمنٹ کر کے تمام شرائط کے ساتھ دستخط انگوٹھے کے نشان ثبت کر کے دیے اور یہ بھی کہا کہ اگر کوئی دعويدار نکلا تو ہم ذمہ دار ہوں گے اور مجھے قبضہ دیا اور اس کے بعد میں نے باقاعدہ آدھے پلاٹ کی رقم ادا کی، میں نے اس پلاٹ پر تعمیرات وغیرہ کیں۔ اور اس دوران کوئی بھی دعویدار نہیں آیا۔ تقریبا چھ ماہ تک تعمیراتی کام ہوتا رہا ۔
باقی جو آدھا حصہ فریق سوم حاجی مراد نے لیا تھا ،اس کو جب پتا چلا کہ میرے ساتھ دھوکہ ہوا ہءے تو اس نے وہ پلاٹ جرگہ کے ذریعہ واپس کر دیا اور اس کے عوض فیصلہ کرنے والوں نے یعنی حكم نے فریق دوم پر ایک کروڑ مع جرمانہ پچیس لاکھ واپس کرنے کا کہا اور یہ کہا کہ اس پلاٹ کے ساتھ حاجی مراد کا کوئی تعلق نہیں ہوگا، اس فیصلہ کے تناظر میں حاجی مراد نے فریق دو م سے 50 لاکھ وصول بھی کیے اورفریق دوم سے باقی رقم نہ ملنے کی صورت میں سروے زمین لینے کا معاہدہ کیا، اس دوران فریق دوم نے پلاٹ کے اس نصف حصہ کو فروخت کرنا شروع کر دیا، جس میں ایک پلاٹ بھائی کاشف کو فروخت کیا تو فریق اول کو جب معلوم ہوا کہ پلاٹ کا دوسرا حصہ فریق دوم فروخت کر رہا ہے تواس نے شفعہ کا دعوی کر دیا کہ یہ دوسرا حصہ بھی میرا حق ہے اس لیے آپ اس کو مجھے فروخت کریں تو اس پر فریق دوم نے پلاٹ کے چار حصے بنائے، جس میں تین حصے مجھے فروخت کیے اور ایک حصہ اپنے پاس رکھا اس پلاٹ کے تین حصوں کا رقم طے ہوا دو کروڑ بیس لاکھ ۔جس میں کورٹ سے سیل ایگریمنٹ کروا کے دستخط کیے اور انگوٹھے لگائے اور قبضہ میرے حوالے کیا اور فریقِ دوم نے یہ ذمہ داری بھی اٹھائی کہ اگر کوئی دعویدار نکلا تو میں ذمہ دار ہوں گا اس میں سے فریق اول نے کچھ اپنے پاس رکھا،باقی پلاٹ فروخت کر دیا ۔
فریق سوم حاجی مراد کو دو سال گزرنے کے بعد جب سروے زمین بھی نہ ملی اور رقم بھی نہ ملی تو میرے پلاٹ کے پہلے حصے پر دعوی کیا کہ یہ پلاٹ میں نے خریدا تھا، لہذا یہ پلاٹ میرا ہے جس پر فریق اول نے کہا آپ اس پلاٹ سے اقالہ کر چکے ہیں اور اس پر حکم نے فیصلہ بھی کیا ہے اور اس میں سے آپ نے رقم بھی واپس کی ہے، لہذا آپ کا اس پلاٹ پر دعوی درست نہیں ۔ جس پرفریق اول نے فریق دوم کےخلاف اداروں میں شکایت درج کی، وہاں سے بھی فریق سوم کو مثبت جواب نہیں ملا ، اس کے بعد فریقِ سوم حاجی مراد نے فریق اول کو برادری کے فیصلہ کرانے پر مجبور کیا تو علاقہ کے معززین نے دونوں فریقوں کو ایک حاکم پر اتفاق کرنے کہا، اس پر فریق سوم نے اپنی رضاو خوشی سے حاکم خان نوحانی کو اپنا حکم منتخب کیا، جس پر فریق اول نے بھی اعتماد کا اظہار کیا، بعد میں اس کی تاریخ مقرر کی گئی، 26 جون 2022ءعلاقہ کے ایم پی اےساجد جوکھیو کے ڈیرے پر فیصلہ رکھا گیا، فیصلے میں تینوں فریق شریک ہوئے ، جس میں کثیر تعداد میں لوگ شریک تھے ۔ تینوں فریقوں نے اپنا مدعا بیان کیا، حکم نے ہر فریق سے دو دو مشیر بھی لیے اور وہ حکم کے ساتھ مجمع سے الگ بیٹھے، تقریبا ایک گھنٹے تک غور و خوض کے بعد وہ سارے ایک فیصلہ پر متفق ہوئے ۔پھر وہ مجمع میں آئےاور تینوں فریقوں سے یہ کہا کہ ہم سارے اس بات پر متفق ہوں گے یہ پلاٹ فریق اول کا ہے اور فریق سوم کا دعوی درست نہیں ہے۔
باقی جو فریق سوم کی رقم ہے وہ فریق دوم پر ہے، لہذا فریق دوم کے ساتھ جو ان سرداروں نے فیصلہ کیا، اس فیصلے کی بنا پر فریق دوم رقم دینے کے پابند ہوں گے۔، اس فيصلہ پر آخر میں دعا کرائی گئی، مذکورہ فیصلہ کی ویڈیو بھی موجود ہے اور اس کے گواہ بھی موجود ہیں۔
ایک ماہ بعد فریقِ سوم نےسول کورٹ میں پٹیشن داخل کروائی اور درخواست میں آٹھ الزامات لگائے اور دو سال تک کورٹ کی کاروائی چلتی رہی، دو سال کے بعد کورٹ کےجج صاحبان نے یہ فیصلہ دیا کہ یہ پلاٹ فریق اول کا ہے اور یہ پلاٹ اسی ہی کا رہے گا، اس کے بعد یہ اپیل میں چلا گیا اور وہاں بھی جج حضرات نے کورٹ کے سابقہ فیصلہ کو برقرار رکھا، ابھی اس معاملے کو تقریبا دو سال گزر گئے ہیں اور پلاٹ کا اکثر حصہ بھی فریق اول نے فروخت کر دیا اور باقی حصہ میں تعمیرات کر دی ہیں۔
حل طلب امور:
-1فریق سوم حاجی مراد گبول نےجب فریقِ دوم شاہد گبول اوراحسان گبول کے ساتھ اقالہ کر لیا، جس کے فریقین بھی معترف ہیں اور حکم کا فیصلہ بھی یہی تھا کہ فریقِ سوم کا اس پلاٹ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور فریق دوم اس کی رقم مع جرمانہ ادا کرنے کے پابند ہوں گے ۔کیا اس کے بعد فریق سوم کا اس پلاٹ سےکوئی تعلق ہو سکتا ہے؟
-2پھر فریقِ سوم نے فریقِ اول سے مطالبہ کیا کہ ہمارے ساتھ فیصلہ کرو ۔ فریقین نے سردار حاکم خان نوحانی کو اپنا حکم بنایا اور اس پر حکم نے دونوں فریقوں سے پوچھا کہ کیا آپ مجھے اختیارات دیتے ہیں؟ تاکہ میں اس کے بعد فیصلہ سناؤں جس پر دونوں فریق متفق ہوئے اور اس فیصلہ کے وقت کافی تعداد میں لوگ موجود تھے ، حکم نے جو فیصلہ سنایا وہ یہ کہ اس پلاٹ کے ساتھ فریق سوم کا کوئی تعلق نہیں اور یہ پلاٹ فریق اول کا ہے اور رہے گا، فریق ِسوم کی جو رقم اقالہ کے بعد کی ہے وہ فریقِ دوم سے فریقِ سوم خود وصول کرے گا فریقِ اول کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی ۔
-3فریقِ سوم نےاس کے بعد سول کورٹ میں کیس کیا، وہاں بھی عدالت عالیہ نے فریق سوم کو یہی جواب دیا کہ پلاٹ کے ساتھ آپ کا کوئی تعلق نہیں اور یہ پلاٹ فریق اول کا رہے گا ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا قاضی کے اس فیصلے کے بعد اس طریقے سے ان کا اس پلاٹ میں حق بنتا ہے؟ حالانکہ قاعدہ یہ ہے کہ قضاءالقاضی لا ينقض کہ قاضی کے فیصلہ کو نہیں توڑا جا سکتا ۔کیا قاضی کے فیصلہ کے بعد بھی فریق سوم کواس پلاٹ پر دعوی کرنے کا کوئی حق بنتا ہے؟ان تین چیزوں کا مفتیان کرام شریعت کی رو سے جواب عنایت فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1،2،3۔۔۔سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق جب فریقِ سوم اور دوم کے درمیان باہمی رضامندی سے جرگہ بلایا گیا، جس میں ثالث یعنی فیصلہ کرنے والوں نے پلاٹ کے عوض فریق دوم کو ایک کروڑ مع جرمانہ پچیس لاکھ واپس کرنے کا کہا اور ساتھ یہ بھی فیصلہ کیا کہ اس پلاٹ کے ساتھ حاجی مراد کا کوئی تعلق نہیں ہوگا، پھر اس فیصلہ کے تناظر میں حاجی مرادیعنی فریقِ سوم نے فریق دو م سے 50 لاکھ روپےوصول بھی کیے۔ تو شرعی اعتبار سے اقالہ (سودے کو ختم کرنا) کے پائے جانے کی وجہ سے اسی وقت اس کا پلاٹ سے حق ختم ہو گیا،کیونکہ اگر فریقِ سوم اس پر راضی نہیں تھا تو وہ پچاس لاکھ روپیہ واپس نہ لیتا، لہذا اس کے بعد اس کا یہ دعوی کرنا کہ اس پلاٹ کے ساتھ میرا حق متعلق ہے درست نہیں، خصوصا جبکہ اس کے دو سال بعدفریقین کی جانب سے حاکم خان نوحانی کو اپنا حکم منتخب کرکے26 جون 2022ءعلاقہ کے ایم پی اےساجد جوکھیو کے ڈیرے پر جو جرگہ رکھا گیا اس میں بھی طویل غور وفکر کے بعد حکم یعنی ثالث نے یہی فیصلہ کیا کہ فریقِ سوم کا اس پلاٹ کے ساتھ کوئی حق متعلق نہیں ہے، پھر ایک ماہ بعد فریقِ سوم نےسول کورٹ میں پٹیشن داخل کروائی تو عدالت نے بھی سابقہ فیصلوں کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ فریقِ سوم کا یہ دعوی درست نہیں ہے۔
البتہ فریقِ دوم پر لازم ہے کہ وہ فریقِ سوم کو اس کی بقیہ رقم پچاس لاکھ روپے بھی واپس کرے، قدرت کے باوجود رقم کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا ہرگز جائز نہیں ہے، اس پر قرآن وحدیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔ نیز اگر فریقِ دوم نے فریقِ سوم کو اس کا حق ادا نہ کیا تو آخرت میں اس کا حساب دینا پڑے گا اور کسی کا ناجائز حق دبانے کا وبال بہت سخت ہے۔ البتہ پچیس لاکھ جرمانہ کی رقم ادا کرنا فریقِ دوم کے ذمہ لازم نہیں، کیونکہ اقالہ پہلے ثمن (سودے میں فریقین کے درمیان طے شدہ قیمت) کے عوض ہی ہوتا ہے۔
حوالہ جات
البناية شرح الهداية (8/ 224) دار الكتب العلمية – بيروت:
(الإقالة جائزة في البيع بمثل الثمن الأول) ش: لا خلاف للأئمة الأربعة - رحمهم الله - في جواز الإقالة ولكن خلافهم أنها فسخ أو بيع على ما يأتي، والدليل على جوازها الحديث الذي يأتي ولأن الإقالة رفع العقد والعقد حق المتعاقدين وقد انعقد بتراضيهما فكان لهما رفعه دفعا للحاجة.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 55) دار احياء التراث العربي – بيروت:
والأصل أن الإقالة فسخ في حق المتعاقدين بيع جديد في حق غيرهما إلا أن لا يمكن جعله فسخا فتبطل، وهذا عند أبي حنيفة رحمه الله وعند أبي يوسف رحمه الله هو بيع إلا أن لا يمكن جعله بيعا فيجعل فسخا إلا أن لا يمكن فتبطل. وعند محمد رحمه الله هو فسخ إلا إذا تعذر جعله فسخا فيجعل بيعا إلا أن لا يمكن فتبطل.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
7/محرم الحرام1445ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


