03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
میں نے “طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی” کا حکم
84109طلاق کے احکامصریح طلاق کابیان

سوال

میری بیوی اور میرے درمیان جھگڑا ہوا، میں نے اس کو بہت سمجھایا، مگر وہ نہ سمجھی، پھر میں اس کو سمجھانے کے لیے اس کی والدہ کے گھر چھوڑ آیا، دس بارہ دن گزرنے کے بعد میں نے اس کی والدہ کو فون کیا اور کہا کہ میری بیوی سے بات کرواؤ، تاکہ معلوم کوں کہ اس کی رضامندی کیا ہے؟ وہ میرے ساتھ رہنا چاہتی ہے یا نہیں؟ اس پر اس کی والدہ نے کال کاٹ دی، دوبارہ میں نے کال کی تو اس کے والد نے بات کی تو میں نے بطور دھمکی اس کے والد سے طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی بول دیا۔ میرا ارادہ طلاق دینے کا نہیں تھا، کیونکہ وہ پانچویں کے حمل سے ہے۔ اس مسئلے میں رہنمائی فرمائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں آپ کے اپنے سسر کو "طلاق دی، طلاق دی، طلاق دی" کے الفاظ کہنے سے آپ کی بیوی  پر  تین طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، حرمتِ مغلظہ کا مطلب یہ ہے کہ اب فریقین کے درمیان  رجوع نہیں ہو سکتا اور  موجودہ صورتِ حال میں دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا اور یہ اہلِ السنة والجماعت یعنی حنفیہ، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کا متفقہ مسئلہ ہے، اس لیے اب  اسی حالت میں آپ دونوں کا اکٹھے رہنا ہرگز جائز نہیں۔ اور عورت عدت گزارنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے،  البتہ اگر یہ عورت   آپ سے دوبارہ  نکاح کرنا چاہے تو اس کی صورت یہ ہو سکتی ہے کہ عورت عدت گزارنے کے بعد غیرمشروط طور پرکسی اور شخص سے نکاح کرے اور وہ شخص عورت  کے ساتھ ہمبستری بھی کرے، پھر وہ اپنی رضامندی سے عورت کو طلاق دیدے یا وہ وفات پا جائے تو اُس خاوند کی عدت گزارنے کے بعد فریقین باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ نہیں۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5261) دار طوق النجاة:

حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، قال: حدثني القاسم بن محمد، عن عائشة، أن رجلا طلق امرأته ثلاثا، فتزوجت فطلق، فسئل النبي صلى الله عليه وسلم: أتحل للأول؟

قال: «لا، حتى يذوق عسيلتها كما ذاق الأول»

 صحيح البخاري (7/ 43، رقم الحدیث: 5264) دار طوق النجاة:

وقال الليث: حدثني نافع، قال: كان ابن عمر، إذا سئل عمن طلق ثلاثا، قال: «لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

الفتاوى الهندية (1 / 473) دار الفكر، بیروت:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية ولا فرق في ذلك بين كون المطلقة مدخولا بها أو غير مدخول بها كذا في فتح القدير ويشترط أن يكون الإيلاج موجبا للغسل وهو التقاء الختانين هكذا في العيني شرح الكنز.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

24/ذوالحجة 1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب