03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حجِ تمتع کرنے والے کا تلبیہ پڑھتے وقت زبان سے صرف حج کے الفاظ کہنا
84250حج کے احکام ومسائلحج قران اور تمتع کا بیان

سوال

میں اپنی بیوی کے ساتھ 2011ء میں پاکستان سے حج کرنے گیا، میں احرام کی حالت میں جہاز میں سوار ہوا۔ دورانِ پرواز میقات تک پہنچنے سے قبل پائلٹ کے اعلان پر میں نے اور میری بیوی نے حج کرنے کی نیت کرلی اور تلبیہ پڑھا، بعد میں احساس ہوا کہ میں نے اور میری بیوی نے تو حجِ تمتع کرنا تھا، کہیں یہ حجِ قران کی صورت نہ بنی ہو، اس لیے ہم دونوں نے اسی حالت میں عمرہ کی نیت کرلی، مگر میرے اوپر شدید دباؤ آیا، اپنے ساتھی حاجی سے اس کیفیت کا ذکر کیا، اس نے کہا ہم مکہ پہنچ کر مقامی عالم سے مشورہ کرلیں گے۔ مکہ پہنچنے کے بعد میں اور میری بیوی حرم شریف میں عالم کے پاس پہنچے اور اسے اپنی کیفیت بتائی، انہوں نے بتایا کہ کراچی سے حاجی حضرات حجِ قران کرنے آتے ہیں تو عموما عمرہ کرنے کے بعد وہ اپنی نیت بدل لیتے ہیں، آپ بھی عمرہ کرنے کے بعد احرام اتار کر حجِ تمتع کی طرح حج کرلیں۔ آج سے دو سال پہلے میں نے حرم کی حدود میں دو عدد بکرے احتیاطاً دم کے طور پر ذبح کرائے، ایک میری طرف سے اور ایک میری بیوی کی طرف سے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارا حج صحیح ہوگیا تھا؟ میری اور میری بیوی کی ازدواجی زندگی پر تو کوئی اثر نہیں پڑا ؟

تنقیح: سائل نے فون پر بتایا کہ گھر سے جاتے ہوئے ہمارے ذہن میں حجِ تمتع کا ارادہ تھا، یعنی  کہ پہلے عمرہ کریں گے، پھر حلال ہوں گے اور اس کے بعد حج کا احرام باندھیں گے، جیسے عام طور پر یہاں سے جانے والے کرتے ہیں۔ جہاز میں پائلٹ کے اعلان کے بعد ہم نے زبان سے حج کی نیت کہی اور تلبیہ پڑھا، جبکہ دل میں وہی بات تھی کہ تمتع کی ترتیب پر پہلے عمرہ کریں گے، اس کے بعد احرام اتار دیں گے، پھر بعد میں حج کا احرام باندھیں گےحلال ا۔ پھر مجھے شبہہ ہوا کہ جب پہلے عمرہ کرنا ہے تو عمرہ کی نیت کرنی چاہیے تھی، ہمارا حج کہیں قران تو نہیں ہوا، اس لیے دباؤ میں آگیا اور اسی حالت میں عمرہ کی نیت کرلی کہ پہلے عمرہ کریں گے، اس کے بعد حلال ہوں گے اور پھر حج کریں گے، اب یہ یاد نہیں کہ عمرہ کی یہ نیت میقات سے گزرنے سے پہلے کرلی تھی یا گزرنے کے بعد، کیونکہ اس وقت کبھی ایک بات ذہن میں آتی تو کبھی دوسری، آخر میں یہ سوچا کہ مکہ جا کر مشورہ کرلیں گے۔ مکہ مکرمہ پہنچ کر عملاً ہم نے حجِ تمتع کے طریقے پر پہلے عمرہ کیا، اس سے حلال ہوئے اور پھر حج کے لیے الگ احرام باندجھ کر حج کیا اور تمتع کا دم ادا کردیا۔ دو سال پہلے جو دو دم دئیے وہ جہاز میں نیت میں آگے پیچھے ہونے کی وجہ سے احتیاطاً دیدئیے کہ اگر اس کی وجہ سے کوئی کمی بیشی ہوئی ہو تو وہ دم سے پوری ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں جب آپ میاں بیوی دونوں کا ابتدا سے حجِ تمتع کا ارادہ تھا اور میقات سے پہلے بھی تلبیہ کہتے وقت دل میں تمتع کے طریقے پر پہلے عمرہ، پھر حج کرنے کا ارادہ تھا، البتہ زبان سے صرف حج کے الفاظ ادا کیے تو آپ کا یہ احرام دل کی نیت کے مطابق عمرہ کے لیے ہوگیا تھا، اگرچہ بہتر یہی تھا کہ آپ زبان سے بھی عمرہ کی نیت کا اظہار کرتے، تاکہ دل کی نیت اور زبان کے الفاظ ایک دوسرے کے مطابق ہوتے، چنانچہ اس کے بعد جب آپ نے زبان سے صراحتاً عمرہ کی نیت کہی تو یہ دل میں پہلے سے موجود نیت کا اظہار تھا۔ لہٰذا آپ نے مکہ مکرمہ جا کر تمتع کے طریقے پر حج ادا کر کے ٹھیک کام کیا تھا، آپ پر کوئی دم وغیرہ لازم نہیں ہوا تھا۔    

حوالہ جات

فتح القدير (2/ 438):

وعن أبي يوسف ومحمد رحمهما الله خرج يريد الحج فأحرم لا ينوى شيئا فهو حج بناء على جواز أداء العبادات بنية سابقة. …… ولو لبى بالحج وهو يريد العمرة أو على القلب فهو محرم بما نوى لا بما جرى على لسانه، ولو لبى بحجة وهو يريد الحج والعمرة كان قارنا.

عيون المسائل للسمرقندي الحنفي (ص: 65):

 نية الحج والعمرة:

326. قال أبو حنیفة: لو أن رجلاً لبى بعمرة وهو يريد الحج، أو لبى بالحج وهو يريد العمرة، أو لبى بهما وهو يريد إحداهما، فذلك على ما نوى.

الفتاوى الهندية (1/ 223):

وإذا لبى وهو يريد القران أو الإفراد فهو كما نوى وإن لم يتكلم بهما في إحرامه، كذا في الإيضاح. عن محمد إذا خرج الرجل إلى السفر يريد الحج فأحرم ولم تحضره النية قال: هو حج……ولو لبى بالحج وهو ينوي العمرة أو لبى بالعمرة وهو ينوي الحج فهو كما نوى، ولو لبى بحجة وهو ينوي العمرة والحجة كان قارنا كذا في محيط السرخسي.

بدائع الصنائع (2/ 144):

ويستحب أن يذكر الحج والعمرة أو هما في إهلاله، ويقدم العمرة على الحج في الذكر إذا أهل بهما، فيقول: لبيك بعمرة وحجة؛ لما روينا عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: أتاني آت من ربي وأنا بالعقيق فقال: صل في هذا الوادي المبارك ركعتين وقل: لبيك بعمرة وحجة. وإنما يقدم العمرة على الحج في الذكر؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم أمر أن يقول كذلك، ولأن العمرة تقدم على الحج في الفعل فكذا في الذكر.

حاشية ابن عابدين (2/ 482)

في اللباب وشرحه: ويستحب أن يذكر في إهلاله أي في رفع صوته بالتلبية ما أحرم به من حج أو عمرة فيقول: لبيك بحجة، ومثله في البدائع، تأمل.

عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ

  دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

      8/محرم الحرام/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عبداللہ ولی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب