| 84294 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
میں اختر منیر ولد میاں محمد شیرین گل آباد پشاور کا رہائشی ہوں۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ میرا بیٹا عدنان جب جرمنی میں مقیم تھا تو اس وقت اس کی دماغی حالت بہت خراب تھی، ایک دفعہ چلتی ہوئی گاڑی سے اپنے موبائل کو بھی پھینکا تھا۔ جرمنی میں ہسپتال میں داخل ہو گیا تھا، اس وقت اپنے بدن پر کپڑے نہیں چھوڑتا تھا، کئی دفعہ ہسپتال سے بھاگ گیا تھا، جرمنی کی پولیس نے کئی دفعہ واپس کیا۔ پھر وہ ٹھیک نہیں ہوا، لیکن ہسپتال سے چلا گیا۔ اس بات کی گواہی عدنان کا بہنوئی صابر دیتا ہے جو جرمنی میں مقیم ہے۔ وہ دماغی طور پر پر بہت بے حال تھا، اس نے اپنا پاسپورٹ، پیسے اور دوسرے ضروری کاغذات بھی پھاڑ دئیے تھے۔ اس کے بعد ہم نے کسی طریقے سے اس کو پاکستان بلا لیا، وہ اسلام آباد ائیر پورٹ پر ہم سے کہیں گم ہو گیا، میرا ایک دوست ایف آئی اے میں تھا، ہم نے اس کو اس کی تصویر بھیجی، اس نے پھر میرے بیٹے کو تلاش کیا۔
اس کے بعد میں اپنے بیٹے کو پشاور کے مختلف پیروں کے پاس دم درود کے لیے لے کر گیا اور پھر ڈاکٹر خالد مفتی کے پاس لے گیا، ڈاکٹر صاحب نے اس کو شارٹ دیئے اور ہائی ڈوز ادویات لکھ کر دیں، وہاں سے میں اپنے بیٹے کو گھر لے آیا۔ اسی دن میرے بیٹے کی خالہ گھر آئی اور اپنے موبائل سے میرے بیٹے کے سسر کو فون کیا، موبائل کی آواز کو تیز کردیا تھا، لاؤڈ سپیکر آن تھا، میرے بیٹے کے سسر نے میرے بیٹے کے سامنے گالم گلوچ اور تلخ کلامی شروع کی اور کہا کہ اس جیسے دماغی مریض کو میں اپنی بیٹی نہیں دے سکتا، میں اپنی بیٹی کا نکاح قائم نہیں رکھ سکتا، اس نے طلاق کا مطالبہ کیا کہ میری بیٹی مریم بی بی کو طلاق دیدو، میرے بیٹے عدنان نے تین دفعہ یہ الفاظ " مریم بی بی مجھ پر طلاق ہے" کہہ دئیے، اس وقت وہ بے حال تھا۔ پھر چند مہینے وہ زیرِ علاج رہا، لیکن ٹھیک نہیں ہوا، اس کے بعد وہ اپنی بہن کے ساتھ جرمنی چلا گیا۔
جس ڈاکٹر سے میرے بیٹے کا علاج چل رہا تھا، وہ اس بات کی گواہی دینے کے لیے تیار ہے۔ اس ڈاکٹر سے علاج کی رسیدیں اور رپورٹیں آپ کو بطورِ ثبوت بھیج دی ہیں۔
تنقیح: سائل کے بیٹے عدنان سے وٹس ایپ کے ذریعے بات ہوئی، اس نے بتایا کہ ہمارا نکاح ہوا تھا، لیکن رخصتی نہیں ہوئی تھی، نہ ہی ہم کبھی تنہائی میں اکٹھے ہوئے تھے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ مفتی سوال کے مطابق جواب دیتا ہے، غلط بیانی کر کے فتویٰ لینے سے کوئی حرام حلال نہیں ہوتا، بلکہ وہ بدستور حرام ہی رہے گا اور غلط بیانی کا وبال بھی سائل پر آئے گا۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر مذکورہ بالا ساری تفصیل درست ہے، جس وقت آپ کے بیٹے نے طلا ق کے یہ الفاظ " مریم بی بی مجھ پر طلاق ہے" تین دفعہ کہے تھے، اس وقت بیماری کی وجہ سے اس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا، اس وقت آپ کے آس پاس موجود لوگ اس کی گواہی دیتے ہوں تو ایسی حالت میں کہے گئے ان الفاظ سے اس کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے اور ان دونوں کا نکاح قائم ہے۔ لیکن اگر اس وقت اس کا دماغی توازن ٹھیک تھا تو پھر اس کی بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی ہے، جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا، البتہ وہ دونوں باہم رضامندی سے گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر پر دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں۔
حوالہ جات
الأصل للشيباني ط قطر (4/ 553):
وإذا خلع المعتوه امرأته أو طلقها فذلك باطل لا يجوز، وهو بمنزلة الصبي في ذلك، وهي امرأته. وكذلك المجنون الذي يجن ويفيق إذا فعل ذلك في حال جنونه، وإذا فعل ذلك في حال إفاقته فهو جائز عليه. وكذلك المغمى عليه من مرض أو ذهاب عقل من مرض أو غيره، فإنه لا يجوز عليه خلع ولا طلاق.
فتاوى قاضيخان (1/ 176):
وإن كان يجن ويفيق لا ينفذ تصرفه في نفسه وماله في حالة جنونه وينفذ ذلك في حالة الإفاقة.
بدائع الصنائع (4/ 55):
المجنون الذي يجن في حال ويفيق في حال فما يوجد منه في حال إفاقته فهو فيه بمنزلة سائر العقلاء وما يوجد منه في حال جنونه فهو بمنزلة المجنون المطبق اعتبارا للحقيقة.
رد المحتار (3/ 244):
والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول، بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل، كما هو المفتى به في السكران على ما مر.
ولاينافيه تعريف الدهش بذهاب العقل، فإن الجنون فنون، ولذا فسره في البحر باختلال العقل وأدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش. ويؤيد ما قلنا قول بعضهم: العاقل من يستقيم كلامه وأفعاله إلا نادرا والمجنون ضده. وأيضا فإن بعض المجانين يعرف ما يقول ويريده ويذكر ما يشهد الجاهل به بأن عاقل ثم يظهر منه في مجلسه ما ينافيه، فإذا كان المجنون حقيقة قد يعرف ما يقول ويقصده، فغيره بالأولى، فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته.
وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته، فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها؛ لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح، كما لا تعتبر من الصبي العاقل.
عبداللہ ولی غفر اللہ لہٗ
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
14/محرم الحرام/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبداللہ ولی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


