03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
خریدارقبضہ کے لئے فروخت کنندہ کاوکیل بن سکتاہے؟
84305خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں نے زید سے ادھارچینی خریدی(مارکیٹ ریٹ سے زیادہ پر)پھرمیں نے ان کوکہاکہ چینی مجھے چترال میں حوالہ کرنا،اس نے کہاجہاں آپ چاہیں گے آپ کومل جائے گی،میں چترال گیا،زیدنے وہاں کسی اوردکاندارکوکہاکہ چینی اس کودیدو اورپیسہ اس نے اس دکاندارکوبھیج دئیے،میں نے اس دکاندارسے کہاجتنے پیسے اس نے آپ کودئیے ہیں اس میں سے آدھے مجھے دیدواورباقی کی چینی مجھے دیدو،اس نے ایساہی کیا،کیاایساکرناجائزتھا؟

تنقیح:سائل نے بتایاہے عقدکے وقت نہ ہی پیسے دئیے گئے اورنہ ہی چینی یعنی دونوں چیزیں ادھارپرتھیں،بس اتنی بات طے ہوئی تھی کہ جب مجھے ضرورت ہوگی تومجھے آپ چینی دینے کے پابندہوں گے،وقت طے نہیں کیاگیاتھا۔

2.پہلے فروخت کنندہ(زید) نے کچھ پیسہ رکھ کرچترال والے دکاندارسے معاملہ کیااورمجھے کہاکہ اس سے چینی آپ لے لیں،میں نے زیدکوبتائے بغیرچترال والے دکاندارسےبات کرکے کچھ پیسے واپس لے لئے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زیدکاچترال والے دکاندارسے چینی خریدکرآپ کولینے کاکہنایہ بیع قبل القبض(قبضہ سے پہلے فروخت کرنا)ہے،جوکہ جائزنہیں،اگردکاندارکوزیدکی طرف سے قبضہ کاوکیل مانیں تب بھی یہ معاملہ درست نہیں،کیونکہ ایک ہی شخص فروخت کنندہ بھی ہواورخریداربھی تویہ درست نہیں،بہرصورت یہ معاملہ درست نہیں ہوا،اس دوسرے معاملہ کوختم کرکے دوبارہ سے معاملہ کرناضروری ہے۔

اس کی صحیح صورت یہ تھی کہ زید نے جس سے چینی خریدی تھی اس کے علاوہ کسی اوربندہ کو یاخودآپ کو اپنے لئےقبضہ کاوکیل بناتااوروہ قبضہ کرنے کے بعد آپ کوچینی حوالہ کرتا اورآپ کوقبضہ کے وکیل بنانے کی صورت میں آپ زیدکی طرف سے قبضہ کرکے اس کواطلاع دیتے اورپھراپنے لئے قبضہ کرتے،اس طرح یہ معاملہ درست ہوتا،نیزاگرآپ  کوچینی کی مقدارمیں کمی بیشی کروانی تھی توآپ زیدسے بات کرتے،کیونکہ آپ کاعقدزیدسے ہواہے،اس دکاندارسے نہیں۔

حوالہ جات

فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (ج 11 / ص 254):

 القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض ؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم {نهى عن بيع ما لم يقبض }

وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق  (ج 22 / ص 379):

والأصل أن الواحد لا يتولى طرفي العقد في الرهن ولا البيع

وفی المبسوط للسرخسي (ج 28 / ص 58):

 الواحد لا يتولى طرفي العقد من الجانبين في البيع والشراء كالوكيل وهذا لأنه يؤدي إلى تضاد الأحكام۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۱۵/محرم الحرام۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب