03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی بینک سےقسطوں پر خریدی ہوئی گاڑی آگے بیچنے کا حکم
84318خرید و فروخت کے احکامخرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

احمد نے کنوینشل بینک (پنجاب بینک) سے گاڑی لی ہے ،ابھی اس کی کچھ قسطیں ادا کی ہیں ،لیکن وہ گاڑی آگے عمر کو بیچنا چاہ رہا ہے اس طرح کہ جو رقم احمد نے بینک کو ادا کی ہے، عمر وہ رقم احمد کو ادا کر دے اور گاڑی کی باقی اقساط جو بینک کو ادا کرنی ہیں ،وہ خریدار یعنی عمر بینک کو ادا کرتا رہے۔ تو کیا عمر کا احمد سے اس طریقہ پر گاڑی خریدنا جائز ہے؟

 تنقیح : سائل نےزبانی بتایا کہ  احمد نے پنجاب بینک کے سودی برانچ سے گاڑی قسطوں پرلی ہے ، قسطوں کی مکمل ادائیگی  تک  کاغذات بینک  کے پاس  رہیں گے۔سائل کے بھائی نے بینک سے بیچنے کا پوچھا تو کہا  گیا کہ قسطیں بروقت ادا کریں ، آگے   بیچنے  کی اجازت ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سودی بینک" کار فائنانسنگ"  کے لیے  سودی قرض دیتاہے جو کہ قسطوں میں ادا کرنا ہوتا ہے ۔ سودی قرض لینے  کی وجہ سے احمد نے  گناہ کبیرہ اور حرام کا ارتکاب کیاہے ، البتہ وہ رقم حلال ہے۔لہذا   احمد کا اس  رقم سے  گاڑی خریدنا او ر اس کو استعمال کرنا جائز ہے، تاہم بینک کی طرف سے   قسطوں  کی مکمل  ادائیگی سے پہلے  گاڑی کو آگے بیچنے کی اجازت نہیں ہوتی اور بینک نے بطور گروی  گاڑی کے   کاغذات اپنے پاس   روکے ہوتے ہیں ، اس لیے مکمل قسطوں کی ادائیگی سے پہلے بینک آف پنجاب کی اجازت کے بغیر احمد کااس کو آگے بیچنا جائز نہیں ، چاہے قسطوں پر ہو یا نقد پر ۔

اگر  بینک آف پنجاب کے متعلقہ برانچ    نے احمد کے بھائی کو  آگے بیچنے کی اجازت مرکزی بینک کے اصولوں کے مطابق دی ہے تو قسطوں کی مکمل ادائیگی سے پہلے گاڑ ی کو  نقد یاقسطوں پر   آگے بیچنا جائز ہے ۔ تاہم قسطوں پر بیچنے کی صورت میں یہ لازم ہے کہ  قسطوں کی ادائیگی  کی مدت معلوم ہو اور   بینک کی  بقیہ قسطیں احمد خود اداکرے ،     عمر کے ذمہ اس کی   شرط  نہ لگائی جائے ،  لیکن اگر  متعلقہ برانچ نے  مرکزی بینک سے اجازت لیے بغیر اس  کے اصولوں کے خلاف    کسی بھی وجہ سے اجازت دی ہے تو اس صورت میں قسطوں کی  مکمل ادائیگی سے پہلے اس کو  آگے بیچنا ناجائز ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 396) :

وأما حكم القرض فهو ثبوت الملك للمستقرض في المقرض للحال، وثبوت مثله في ذمة المستقرض للمقرض للحال، وهذا جواب ظاهر الرواية.

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 412):

قال: "الرهن ينعقد بالإيجاب والقبول ويتم بالقبض"... ثم يكتفي فيه بالتخلية في ظاهر الرواية؛ لأنه قبض بحكم عقد مشروع فأشبه قبض المبيع وعن أبي يوسف رحمه الله أنه لا يثبت في المنقول إلا بالنقل؛ لأنه قبض موجب للضمان ابتداء بمنزلة الغصب، بخلاف الشراء؛ لأنه ناقل للضمان من البائع إلى المشتري وليس بموجب ابتداء والأول أصح.

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 432):

قال: "وإذا أعار المرتهن الرهن للراهن ليخدمه أو ليعمل له عملا فقبضه خرج من ضمان المرتهن" لمنافاة بين يد العارية ويد الرهن "فإن هلك في يد الراهن هلك بغير شيء" لفوات القبض المضمون "وللمرتهن أن يسترجعه إلى يده"؛ لأن عقد الرهن باق إلا في حكم الضمان في الحال.ألا ترى أنه لو هلك الراهن قبل أن يرده على المرتهن كان المرتهن أحق به من سائر الغرماء، وهذا؛ لأن يد العارية ليست بلازمة والضمان ليس من لوازم الرهن على كل حال.

الهداية في شرح بداية المبتدي (4/ 429):

"وإذا باع الراهن الرهن بغير إذن المرتهن فالبيع موقوف" لتعلق حق الغير به وهو المرتهن فيتوقف على إجازته، وإن كان الراهن يتصرف في ملكه كمن أوصى بجميع ماله تقف على إجازة الورثة فيما زاد على الثلث لتعلق حقهم به "فإن أجاز المرتهن جاز"؛ لأن التوقف لحقه وقد رضي بسقوطه "وإن قضاه الراهن دينه جاز أيضا"؛ لأنه زال المانع من النفوذ والمقتضي موجود وهو التصرف الصادر من الأهل في المحل.

درر الحكام شرح مجلة الأحكام (/1159) :

والبيع بشرط الحوالة كالبيع بشرط الكفالة. أعني إذا تبايع اثنان على أن يحول المشتري منهما البائع على إنسان آخر لاقتضاء الثمن منه فهذا الشرط كشرط البيع بالكفالة والبيع صحيح استحسانا؛ لأن تحويل المشتري للبائع بثمن المبيع على شخص آخر ما يضمن الثمن ويؤكد أداءه الذي هو من مقتضيات العقد. وإذا باع إنسان من آخر متاعا على أن يحول البائع على المشتري من يقبض الثمن منه فالبيع فاسد.

مثال ذلك: لو باع إنسان من آخر متاعا وشرط في البيع أن يقبض الثمن من المشتري إنسان غيره فالبيع فاسد؛ لأن حوالة البائع ليست للاستيثاق من ثمن المبيع وتأكيد مقتضى العقد بل لاستيفاء الثمن فقط بزازية " وهندية ".

    نعمت اللہ

دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی

16   /محرم/1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نعمت اللہ بن نورزمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب