03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 والدہ  کی جائیدادمیں بھی سارےبیٹےمیراث کےحصوں کےمطابق حقدارہونگے
83998میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

 مسئلہ واضح فرمادیں کہ  جس طرح والد کے مال میں سارے بیٹے وارث ہو سکتے ہیں کیا اس طرح والدہ کے حصہ میں سب برابر کے شریک ہونگے؟

 

                     

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

جس طرح والدکےمال میں تمام بیٹےوراثت کےحصےکےبقدرشریک ہوتےہیں،اسی طرح والدہ کےانتقال کےبعد ان کی ملکیتی جائیداد بھی اس وقت موجود ورثہ میں تقسیم ہوگی،لیکن یہ والدہ کےانتقال کےبعدہی ہوگا،اس سےپہلےتووالدہ کواپنی ملکیت میں مکمل تصرف کااختیار ہے۔

حوالہ جات

۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

24/ذیقعدہ        1445ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب