| 84367 | خرید و فروخت کے احکام | سلم اور آرڈر پر بنوانے کے مسائل |
سوال
میں نے فاطمہ ویژن نامی عینک ساز سے عینک بنوائی جو میرے شاگرد کا دوست ہے۔ اس نے عینک کی قیمت 7500 بتائی ،میں نے کہا کہ یہ تو بہت مہنگی ہے، اس نے کہا کہ ہم مخصوص شیشے لگاتے ہیں ،جن کی عام مارکیٹ کی بنسبت زیادہ قیمت بنتی ہے۔ میں نے آرڈر دے دیا۔
میں نے اس دن تحقیق کی تو وہی عینک 3700روپے میں بن رہی تھی ۔ میں نے فون پر چند گھنٹہ بعد آرڈر کینسل کروایا تو تسلی دی کہ ہم تبلیغی جماعت کے ساتھی کے ساتھ کیسے زیادتی کر سکتے ہیں ۔ بہر حال میں نے عینک خرید کر پوری رقم 7500 ادا کر دی۔
بعد میں بالکل وہی عینک 3700میں دوسرے دکان والے سے بنانے کا معلوم کر کے پہلے دکان والے سے شکوہ کیا تو جواب ملا کہ اسلام میں جائز منافع خوری کی کوئی حد نہیں ہے۔اگر تین ہزار میں بنتی ہے تو میں نے جائز منافع وصول کیا ہے ،جبکہ اسلام میں جائز منافع کی کوئی حد نہیں ہے ۔ کیا یہ دھوکہ دہی کے ساتھ ساتھ ناجائز منافع خوری کے زمرے میں آتا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
غلط بیانی کرکے اور دھوکہ دے کرغیرمعمولی طور پر مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر چیز بیچنا ناجائز ہے۔صورت مسئولہ میں مارکیٹ ریٹ سے زیادہ لی گئی قیمت کی رقم دکاندار کے لیے حرام ہے اور آپ کو عینک واپس کر کے اس کی پوری قیمت لینے کا اختیار ہے، البتہ مارکیٹ ریٹ سے زیادہ لی گئی رقم باہمی رضامندی سے واپس لے کر عقد کوبرقرار رکھنا جائز ہے۔
واضح رہے کہ اگر خریدار کو دھوکہ دیئے یا اس کی مجبوری کا غلط فائدہ اٹھائے بغیر فریقین باہمی رضامندی سے مارکیٹ ریٹ سے زیادہ قیمت پر عقد کرلیتے ہیں تو یہ جائز ہے اور "اسلام میں جائز منافع خوری کی کوئی حد نہیں " اس صور ت پر محمول ہے ۔ دھوکہ دہی اور غلط بیانی کی صورت میں اس کو بطور دلیل پیش کرنا درست نہیں ۔
حوالہ جات
مجلة الأحكام العدلية (ص: 76):
(المادة 392) وإذا انعقد الاستصناع فليس لأحد العاقدين الرجوع وإذا لم يكن المصنوع على الأوصاف المطلوبة المبينة كان المستصنع مخيرا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 142):
(و) اعلم أنه (لا رد بغبن فاحش) هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين (في ظاهر الرواية) وبه أفتى بعضهم مطلقا كما في القنية ثم رقم وقال (ويفتى بالرد) رفقا بالناس وعليه أكثر روايات المضاربة وبه يفتى ثم رقم وقال(إن غره) أي غر المشتري البائع أو بالعكس أو غره الدلال فله الرد (وإلا لا) وبه أفتى صدر الإسلام وغيره ثم قال (وتصرفه في بعض المبيع) قبل علمه بالغبن (غير مانع منه) فيرد مثل ما أتلفه ويرجع بكل الثمن على الصواب.
نعمت اللہ
دارالافتاء جامعہ الرشید،کراچی
21 /محرم/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | نعمت اللہ بن نورزمان | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


