03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی ناراضگی کی وجہ سےتحریری طلاقنامہ پر دستخط کرنے کاحکم
84235طلاق کے احکامتحریری طلاق دینے کا بیان

سوال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!میری شادی کو ایک سال ہوگیا ہے ،اس ایک سال کے عرصہ میں میری بیوی کی، گھر میں کسی سے نہیں بنی ،شادی اور ولیمہ والے دن ہال میں لڑائی ہوئی،اس کے کچھ مہینہ بعد میری بیوی کی بچہ دانی میں رسولی ہوگئی تھی،جس سے اختلافات اور بڑھ گئے  ،میرے گھر والوں کا ماننا تھا کہ یہ پہلے سے تھی اور آپریشن کے بعدبچے نہیں ہوں گے،اور تم دوسری شادی کے لیے تیار رہنا،ابھی عید سے کچھ دن پہلے میری اور بیوی میں لڑائی ہوئی، تو گھروالوں نے زبردستی اس کو گھر بھیج دیا اور مجھے اس کےگھر جانے سے  منع کردیا ،اس کے بعد والد نے غصہ میں میری رضامندی کے بغیر طلاق نامہ بنوایا اور مجھ سے دستخط کرنے کا بولا،میں نے منع کردیا ،والد گھر چھوڑ کر چلے گئے،اور مجھ سے بولاکہ آج سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے،جو کرنا ہے کرو،میں بہت پریشان ہوگیا ،دوسرے دن بھائی سے بات ہوئی تو انہوں نے بولا میں ان کو لے آؤں گا،پر دستخط کرنے پڑیں گے،مجبور ہوکر مجھے دستخط کرنےپڑے(میں نے یہ طلاق نامہ پڑھا نہیں تھا ،بس اس پر ایک نظر ڈالی تھی،اور مجھے یہ ضرورپتہ تھاکہ یہ طلاق نامہ ہے)میں نے بولاکہ ابھی ان کے گھر نہ بھیجیں،میری طرف سے مختلف بہانے بنائے گئے ،تاکہ وہ ان کے گھر نہ بھیجیں،اور معاملات صحیح ہوجائیں،ان کی دودکانوں میں ہمارا کاروبار ہے،میں  نےیہ بھی کہا کہ وہ دکان خالی کرالیں گے تو مال کہاں رکھیں گے!مجھے تعویذ والے نے بھی یہ کہا تھا کہ پریشان نہ ہوں ،میں کام کررہا ہوں،والد خود بولیں گے کہ لڑکی کو گھر لے آؤ،میں نے دستخط صرف اس لیے کیے تھے کہ والد کی وقتی ناراضگی ختم ہوجائے، ابھی پانچ دن پہلے انہوں نے طلاق نامہ لڑکی کے گھر والوں کوTCS کے ذریعہ بھیج دیا،میں اپنے آپ کو مطمئن نہیں کرپارہاکہ طلاق دینے کا حق شریعت نے مجھے دیاہے اور میں نے اپنے حق سے نہیں دی ،اس لیے طلاق نہیں ہوئی ،براہ مہربانی میری راہنمائٰی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر ظن غالب یایقین ہوکہ طلاق نامہ پر دستخط نہ کیے تو والد ناراض ہوکر گھرسے نکلنے کے بعد واپس نہیں آئیں گے،اوریہ امر آپ کے لیے قابل برداشت نہ ہوگا ،نیز دستخط کرتےوقت  طلاق کی نیت بھی  نہیں تھی اور نہ ہی زبان سے طلاق کےکوئی الفاظ ذکر کیےہیں ،تو اس صورت میں دیانةً طلاق واقع نہیں ہوئی ہے، دیانةً کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کی بیوی اس طلاقنامے کو دلیل بناکر طلاق کا دعوی نہیں کرتی تو طلاق نہیں ہے،تاہم اگرآپ کو اس بات پریقین تھاکہ طلاق نامے پردستخظ نہ کرنےکی صورت میں ایساکچھ نہیں ہوگا، والد کا گھر چھوڑدینا وقتی طور پر صرف دباؤڈالنے کی حدتک ہے،یا آپ نے زبان سے طلاق کے الفاظ کہے ہیں توایسی صورت میں طلاق نامےمیں مذکورہ طلاقیں واقع ہوجائیں گی،چونکہ طلاق نامہ میں تین طلاقیں دی گئی ہیں،لہذاایسی صورت میں تین طلاق مغلظہ واقع ہوجائیں گی،اوربیوی شوہرپرحرام ہوجائےگی۔بیوی کے لیے حکم یہ ہے کہ اگر بیوی کو آپ کی طرف سے طلاقنامہ ملنے کے بعد آپ سے اس بات پر قسم لے کر اطمینان حاصل ہوکہ آپ نے شدید دباؤمیں آکر دلی رضامندی کے بغیر دستخط کیے ہیں تو اس کے لیے آپ کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہےاور اگر اس کو آپ کے واقعی مجبور ہونے کا دلی اطمینان نہ ہو تواس کےلیے آپ کے ساتھ رہنا اور آپ کو اپنے اوپر قدرت دینا شرعا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

"حاشية رد المحتار" 3 / 271:

"وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اه ملخصا۔"

"رد المحتار" 10 / 458:

"وفي البحر: أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق ، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق ،لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ۔"

"رد المحتار" 6 / 128:

"(و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال۔" 

سید نوید اللہ

دارالافتاء،جامعۃ الرشید

07/ محرم 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید نوید اللہ

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب