03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
غلطی سے داڑھی کی روئیں کٹوانے کا حکم
84415جائز و ناجائزامور کا بیانناخن ،مونچھیں اور ،سر کے بال کاٹنے وغیرہ کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ داڑھی سے پہلے جو ہلکے ہلکے بال آتے ہیں، جنہیں "روئیں" بھی کہا جاتا ہے، اگر وہ بلا قصد غلطی سے کٹ جائیں تو کیا وہ داڑھی کاٹنے کے زمرے میں آئے گا؟ اگر ہاں،تو کیا گناہ بھی ملے گا، جبکہ وہ   بلا ارادہ غلطی سے کٹے ہیں۔

تنقیح: سائل نےاستفسار پر  وضاحت  کی کہ  داڑھی کے جو ہلکے ہلکے بال تھے،جنہیں"روئیں" سنتا آیا ہوں،وہ حجام نے  بغیر پوچھے مشین سے ساری کاٹ لیں،مجھےان کے داڑھی ہونے کا شک ہوا،لیکن پہلے کبھی اتفاق نہیں ہوا تھا تو حجام کو منع نہیں کر سکا،جبکہ وہ حجام بھی نیا  تھااور اس سے پہلے واسطہ نہیں پڑا تھا۔               

                                                                                                                                     

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

داڑھی کی حد ایک کنپٹی  کے سامنے (کان کے ساتھ ابھری ہوئی   جبڑے )کی  ہڈی سے دوسری کنپٹی  کے سامنے کی ہڈی تک ہے،  ان کے نیچے پورا جبڑا اور ریش بچہ (نچلے ہونٹ کے نیچے اور ٹھوڑی کے اوپر اگنے والے بال) بھی داڑھی کا حصہ ہے،جبکہ بالوں کی لمبائی کے اعتبار سے داڑھی  کی مقدار تینوں جانب سے ایک مٹھی کے برابر ہے، جبکہ ایک مٹھی سے زائد بالوں کا کاٹنا مستحب ہے۔صورتِ مسئولہ میں چونکہ داڑھی کی حد میں اگنے والے ہلکے ہلکے بال (روئیں) بھی داڑھی میں داخل ہیں، لہٰذا ان کا مشین یا قینچی وغیرہ سے کٹوانابھی داڑھی کاٹنے کے زمرہ میں آتا ہے، چاہےاپنے قصد اور ارادے سے کٹوائے ہوں یا بلا قصد غلطی سے کٹوائے ہوں،البتہ دوسری صورت میں گناہ اور اس فعل کی شناعت  پہلی صورت سے کم ہوگی،بشرطیکہ اس گناہ  کا دوبارہ ارتکاب کرکے اس پر اصرار نہ  کیا جائے،لہٰذا اس گناہ  کے صادر ہونے پربھی توبہ و استغفار لازم ہے، اور آئندہ اس گناہ کے اعادہ سے سختی کے ساتھ اجتناب ضروری ہے۔

داڑھی تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت،اہلِ اسلام کا قومی شعار اورمرد کی فطری وطبعی خوبصورتی ہے،نبی کریم ﷺنے احادیثِ مبارکہ میں اپنی امت کو داڑھی بڑھانے اور غیرمسلم اقوام یہودوغیرہ کی مشابہت سے بچنےکے لیے ان  کی مخالفت کرنے کی تاکید فرمائی ہے،اس لیے جمہور علماء امت کے نزدیک داڑھی رکھنا واجب ہے، اس کا منڈوانا یا کٹواکر  ایک مٹھی سےکم کرنا دونوں حرام اور گناہِ کبیرہ ہونے کے حکم میں برابر ہیں،اور اس فعلِ حرام  کا مرتکب فاسق اور گناہگار ہے،کیونکہ نبی کریمﷺاور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین سے داڑھی کا ایک مٹھی سے کم کرنا ثابت نہیں ہے۔نیز ایک مٹھی سے کم داڑھی رکھنے پر بعض لوگ مطمئن ہوجاتے ہیں کہ داڑھی کی سنت پر عمل کر لیا، مگر یہ بات  بھی غلط ہے۔

حوالہ جات

   صحيح البخاري (7/ 160):

حدثنا محمد بن منهال، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا عمر بن محمد بن زيد، عن نافع، عن ابن عمر، عن

النبي صلى الله عليه وسلم قال: " خالفوا المشركين: وفروا اللحى، وأحفوا الشوارب " وكان ابن  عمر: إذا حج أو اعتمر قبض على لحيته، فما فضل أخذه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:1/ 100):

 (قوله: جميع اللحية) بكسر اللام وفتحها نهر، وظاهر كلامهم أن المراد بها الشعر النابت على الخدين من عذار وعارض والذقن.وفي شرح الإرشاد: اللحية الشعر النابت بمجتمع الخدين و العارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن، يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض بحر.

ایضا (6/ 407):

وفيه(فی مجتبی:) حلق الشارب بدعة وقيل سنة ولا بأس بنتف الشيب، وأخذ أطراف اللحية و السنة فيها القبضة.

العرف الشذی شرح سنن الترمذی،محمد انور شاہ الکشمیری،دار احیاء التراث (4/ 162):

واما اخذ اللحیۃ فمرفوعا فیخرجہ المصنف رحمہ اللہ ویضعفہ،فانہ نقل عن البخاری انی سمعتہ انہ یقوی عمرو بن ھارون مادمت  عندہ،ثم بلغنی عنہ  بعد ما ذھبت من عندہ انہ یضعفہ،واما عمل السلف فآثار اجلھا ما اخرجہ البخاری:ان ابن عمر کان یاخذ من لحیتہ  بعد الفراغ عن الحج،ای:ما یزید علی القبضۃ ویاخذ من راسہ،واما تقصیر اللحیۃ بحیث تصیر قصیرۃ  من القبضۃ، فغیر جائز فی المذاھب الاربعۃ

العقود الدرية في تنقيح الفتاوى الحامدية (1/ 329):

(سئل) في شهادة محلوق اللحية هل تقبل أم لا؟(الجواب) : لم أجد نقلا صريحا في المسألة مع ضيق الوقت وكثرة الأشغال فإن كان حلق اللحية يخل بالمروءة يمنع القبول وإلا فلا ... وفي البحر عن ابن وهبان في مسألة الخروج إلى قدوم الأمير أنه ينبغي أن يكون ذلك على ما اعتاده أهل البلد فإن كان من عادة أهل البلد أنهم يفعلون ذلك ولا ينكرونه ولا يستخفونه فينبغي أن لا يقدح اهـ فعلى هذا فإن كان ممن يعتادون الحلق ولا يعدونه رذيلة بينهم لا يخل بمروءته فتقبل شهادته لكن قد يقال إن الإدمان على الصغيرة مفسق كما في البحر. وقد ذكر العلائي في الدر المختار من الحظر والإباحة عن المجتبى والبزازية :إذا قطعت شعر رأسها أثمت ولعنت وإن بإذن الزوج؛ لأنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، ولذا يحرم للرجل قطع لحيته والمعنى المؤثر التشبه بالرجال اهـ

 وقال العلائي في كتاب الصوم قبيل فصل العوارض: إن الأخذ من اللحية وهي دون القبضة كما يفعله بعض المغاربة ومخنثة الرجال لم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود والهنود ومجوس الأعاجم اهـ،  فحيث أدمن على فعل هذا المحرم يفسق، وإن لم يكن ممن يستخفونه ولا يعدونه قادحا للعدالة و

المروءة، فكلام المؤلف  غير محرر فتدبر.

بوادرالنوادر،حکیم الامۃ مولانا اشرف علی تھانوی،ادارہ اسلامیات لاہور(2/443):

قال حکیم الامۃ رحمہ اللہ بعد نقل قول العلائی:قلت(الاحقر):قولہ:" لم یبحہ احد "نص فی الاجماع فقط.ازالقاسم ربیع الثانی ۱۳۳۱ھ.

  محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

   دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

        27/محرم/1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب