| 84464 | خرید و فروخت کے احکام | قرض اور دین سے متعلق مسائل |
سوال
تین ماہ پہلے میرے ایک دوست کی والدہ نے مجھ سے پندرہ لاکھ روپے لیے، جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ہم نے کچھ مشینیں اپنے کاروباری معاملات کے لیے ڈسکاؤنٹ پر منگوائی ہیں اور پندرہ لاکھ روپے کی اشد ضرورت ہے، آپ چاہیں تو بطورِ ضمانت ہمارے فلیٹ کی فائل رکھ لیں جس کی مالیت 45 لاکھ ہے، اور چاہیں تو یہ فلیٹ رکھ لیں اور باقی رقم آپ بلڈر کو ادا کر دینا۔اس پر میں نے صاف منع کر دیا کہ فلیٹ سے میرا کوئی لینا دینا نہیں، میں آپ کو رقم دے رہا ہوں اور تین ماہ بعد رقم ہی واپس لوں گا ،اور میں نے کوئی فائل وغیرہ بطور ضمانت بھی نہیں رکھی ۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے، ہم تین ماہ بعد اصل رقم کے ساتھ کچھ نفع بھی بطور مٹھائی آپ کو دیں گے، نفع کی رقم طے نہیں کی گئی کہ کہیں سود کے زمرے میں نہ آئے۔
جب ادائیگی کا وقت نزدیک آیا تو میں نے پیغام بھیجا کہ کیا میری رقم وقت پر مجھے مل جائے گی؟ اس پر مجھے یقین دہانی کروائی گئی کہ رقم مقررہ وقت پر ادا کر دی جائے گی، اس بھروسےپر میں نے ایک فلیٹ خریدنے کے لیے بک کروا لیا اور بیعانہ کی مد میں ایک لاکھ روپے دے دیے، پھر جب مقررہ وقت پر میں نے اپنی قرض کی رقم واپس لینے کے لیے قرض خواہ سے مطالبہ کیا تو انہوں نے مجھ سے مزید ایک ماہ کا وقت مانگ لیا اور میری رقم ادا نہیں کی، جس کی وجہ سے میں وہ فلیٹ نہ خرید سکا ،اور اس کے نتیجے میں بیعانہ کے طور پر دی ہوئی ایڈوانس رقم ایک لاکھ روپے بھی ضبط ہو کر ضائع ہو گئی، میں نے ان سے کہا کہ میری یہ رقم جو آپ کی وجہ سے ضائع ہوئی یہ آپ ادا کریں ، ان کا کہنا ہے کہ یہ تو سود میں آجائے گا ،آپ بھی اس سے بچیں اور ہمیں بھی سودی معاملات میں نہ لائیں۔ اب سوال یہ ہے:
1- کیا یہ سارا معاملہ سودکا ہوگااور میرے مطالبہ کے بغیر وہ اپنی خوشی سے جو رقم دیں ،کیا وہ بھی سود کے زمرے میں آئے گی ؟نیز کیا میں اضافی رقم کے بجائے کسی اور چیز کی ڈیمانڈ کر سکتا ہوں، مثلاً کوئی بائیک یا دیگر اشیاء؟
2- انہوں نے اپنے" بیوٹی پارلرجم" کی مشینری ٪50 ڈسکاؤنٹ پر خریدنے کے لیے مجھ سے رقم لی تھی، تو کیا اس ہونے والے نفع میں میرا حصہ بنتا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ قرض پر کسی بھی قسم کا مشروط اضافہ سود ہے، لہذا صورتِ مسئولہ میں :
1-اگرقرض پر بطورِ مٹھائی دیا جانے والا نفع مشروط ہےتو چاہےاس کی مقدار متعین ہو یا غیرمتعین، یہ سود ہوگا،
البتہ آپ کے مطالبہ اور کسی بھی قسم کے جبر کے بغیرقرض خواہ اپنی خوشی سے یہ نفع یا رقم دے تو اس کا لینا اگرچہ سود اور ناجائز نہیں،مگرپھر بھی نامناسب ہے،کیونکہ قرض کا مقصد قرض خواہ سے اس کے بدلے کچھ اضافی لینا یا اس سےکمائی کرنا نہیں،بلکہ اس کا تعاون و خیرخواہی اوراس سے ہمدردی ہے۔اسی طرح قرض دینے کی وجہ سےاضافی رقم کے بجائےبائیک وغیرہ کا مطالبہ یا فلیٹ کی بکنگ کے معاملہ میں ہونے والے نقصان کی تلافی کا قرض خواہ سے مطالبہ کرنا بھی درست نہیں، کیونکہ قرض خواہ کے مزید وقت مانگنے پر آپ نے خودہی انہیں مہلت دی،لہٰذا اب قرض خواہ سے اس نقصان کی تلافی کروانا سود کے زمرے میں آئے گا ۔
2-چونکہ یہ رقم بطورِ شرکت یا مضاربت نہیں، بلکہ قرض کے طور پر دی گئی ،اس لیے "بیوٹی پارلرجم" کی مشینری خریدنے سے حاصل ہونے والے نفع میں آپ کا حصہ نہیں بنتا۔باقی آپ کی جورقم ایک لاکھ روپے بطورِ بیعانہ ضبط ہوگئی ،اس کا تعلق اُسی دوسرے خریداری کے معاملہ سے ہے، اور اس میں جمہور فقہاء کرام کے ہاں بیعانہ کی رقم ضبط کرنا جائز نہیں،لہٰذا آپ اس معاملہ کے دوسرے فریق سے اس رقم کی واپسی کا شرعا مطالبہ کر سکتے ہیں،اور ان پرآپ کا یہ حق آپ کو واپس لوٹانا ضروری ہے،ورنہ وہی گناہگار ہوں گے۔
حوالہ جات
اعلاء السنن ،ادارۃ القرآن کراتشی (14/512،513):
عن علی امیر المؤمنین-رضی اللہ عنہ- مرفوعا:کل قرض جر منفعۃ فھو ربا...صححہ امام الحرمین کما فی "التلخیص "ایضا.وقال الموفق فی" المغنی":وکل قرض شرط فیہ الزیادۃ فھو حرام بلا خلاف ... ولانہ عقد ارفاق وقربۃ، فاذا شرط فیہ الزیادۃ اخرجہ عن موضوعہ.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:5/ 165):
لو أقرضه طعاما بشرط رده في مكان آخر (وكان عليه مثل ما قبض) فإن قضاه أجود بلا شرط جاز و يجبر الدائن على قبول الأجود ،وقيل لا بحر. وفي الخلاصة :القرض بالشرط حرام والشرط لغو.
نيل الأوطارللشوكاني اليمني ،المتوفى: 1250هـ، (5/ 182):
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: نهى النبي - صلى الله عليه وسلم - عن بيع العربان . رواه
أحمد والنسائي وأبو داود وهو لمالك في الموطا. وحديث الباب يدل على تحريم البيع مع العربان، وبه قال الجمهور، وخالف في ذلك أحمد فأجازه وروي نحوه عن عمر وابنه. ويدل على ذلك حديث زيد بن أسلم المتقدم وفيه المقال المذكور، والأولى ما ذهب إليه الجمهور.
محمدعبدالمجیدبن مریدحسین
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
29/محرم/1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمدعبدالمجید بن مرید حسین | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


