03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کی تقسیم پر بڑے بھائی کے اعتراض کا حکم
82720ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

مسمی حاجی محمد ادریس نے اپنی ملکیت میں موجود دکانیں اپنے تین بیٹوں میں تقسیم کی ہیں،ہدایت اللہ ادریس کو ایک دکان بمع گودام و سامان کے دی ہے،نواز ادریس کو ایک دکان کا مال اور بارہ لاکھ نقد کیش دیا ہے،جبکہ مسمی کفایت اللہ کو ایک خستہ حال دکان اور ایک خالی پلاٹ دیا ہے،یہ سب انہوں اپنے ہوش وحواس میں کیا ہے۔

تمام بھائیوں نے اباجان کے اس فیصلے کو سراہا اور خوشی کا اظہار کیا،اسٹام پیپر پر دستخط بھی کئے،اس کے بعد کفایت اللہ نے اپنی خستہ حال دکان تعمیر کرلی تو دکان چلنے لگی،گاہک آنا شروع ہوگئے تو دو سال بعد بڑے بھائی نے جھگڑنا شروع کردیا کہ ہمارے والد صاحب نے انصاف کے ساتھ فیصلہ نہیں کیا،شریعت میں باپ کے اس فیصلے کا اعتبار نہیں ہے،حاجی محمد ادریس خود زندہ ہیں اور اپنی تقسیم پر قائم ہیں،آیا ہدایت اللہ جو بھائیوں میں سے بڑے ہیں اپنے والد کی اس تقسیم کو فسخ کرسکتے ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

شریعت نے زندگی میں ہر شخص کو اپنے ملک میں موجود مال میں تصرف کا حق دیا ہے،لہذا مذکورہ صورت میں ان بھائیوں کی خوشی اور رضامندی سے والد صاحب نے جس بھائی کو جو کچھ ہبہ کرکے اس کے قبضے میں دے دیا ہے وہ اس کی ملکیت بن چکا ہے،اب جب ایک بھائی کی محنت سے دکان ترقی پذیر ہے تو بڑے بھائی کا اعتراض کرنا شرعا درست نہیں۔

حوالہ جات

"درر الحكام شرح مجلة الأحكام "(3 / 210):

"كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير ".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

12/رجب1445ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب