| 84267 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
عورت بیوہ ہے،اولاد میں دوبیٹیاں ہیں،مرحوم کے والدین نہیں ہیں،جبکہ دو بھائٰی اور دو بہنیں ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
والد مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا سامان چھوڑا ہےاوراسی طرح مرحوم کا وہ قرض جو کسی کے ذمہ واجب ہو، يہ سب مرحوم کا ترکہ ہے،اس میں سب سے پہلے کفن دفن کے معتدل اخراجات(اگر کسی نے اپنی طرف سے بطور احسان نہ کیے ہوں تو) نکالے جائیں،پھر اگر میت پر قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائے،اگر انہوں نے وارث کے علاوہ کسی کے لیے وصیت کی ہوتو ایک تہائی سے وہ ادا کی جائے،اس کے بعد بقیہ مال ورثہ میں تقسیم کیاجائے،بقیہ میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی:۔
کل مال کے 144 حصے بنائیں جائیں،جن میں سے 18حصے بیوی کو اورہر بیٹی کو 48 حصے دیے جائیں،(دونوں بیٹیوں کا مجموٕعی حصہ 96 بن جائےگا۔)بچنے والے 30 حصے اس طرح تقسیم کیے جائیں کہ ہر بھائی کو دوحصے اورہر بہن کو ایک حصہ مل جائے،اس طرح ایک بھائی کو 10 اورایک بہن کو 5 حصے مل جائیں گے۔
|
نمبر |
وارث |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
1 |
بیوی |
18 |
12.5 |
2 |
بیٹی |
48 |
33.33 |
3 |
بیٹی |
48 |
33.33 |
4 |
بھائی |
10 |
6.94 |
5 |
بھائی |
10 |
6.94 |
|
|
بہن |
5 |
3.47 |
|
|
بہن |
5 |
3.47 |
حوالہ جات
سید نوید اللہ
دارالافتاء،جامعۃ الرشید
10/محرم1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید نوید اللہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


