| 83361 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
اگرمیاں بیوی کے درمیان اختلاف ہو جائے، لڑکا طلاق بھی نہ دے تو ایسی صورت میں عدالت سےفسخ نکاح /خلع کی ڈگری لینے کاشرعی طریقہ کارکیاہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید دو باتیں جاننا ضروری ہیں:
پہلی بات: بغیر کسی عذر اورمجبوری کے شوہر سے خلع یا طلاق کا مطالبہ کرنا درست نہیں، ایسی صورت میں عورت کو کسی طرح بھی فسخِ نکاح کا حق حاصل نہیں ہے، نہ کوئی عدالت عورت کو فسخِ نکاح کی ڈگری دینے کی شرعا مجاز ہے، اگر کوئی عدالت اس صورت میں بلا وجہ فسخ کی ڈگری جاری کر دے تو شرعا اس کی کوئی حیثیت نہ ہوگی، البتہ اگر شوہر کی طرف سے ظلم اور زیادتی ہو اور میاں بیوی کے درمیان نباہ مشکل ہو اور شوہرطلاق اور خلع دینے پر بھی رضامند نہ ہو تو ایسی صورت میں عورت شرعی طریقہٴ کار کے مطابق عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے۔
دوسری بات: عدالت کا محض مدعی کے دعوی کے مطابق فیصلہ جاری کرنا دنیا کے کسی نظام میں معقول نہیں ہے اور شریعت میں بھی اس کا تصور نہیں ہے، لہذا کسی بھی دعوی کے ثبوت کے لیے معتبر دلائل ہونا ضروری ہیں اورمالیاتی حقوق کی طرح نکاح بھی ایک لازمی حق ہے، اس لیے نکاح کے دعوی میں بھی عدالت کو وہ تمام قرائن اور ثبوت پیشِ نظر رکھنا ضروری ہیں جو کسی مالیاتی مقدمے میں لازمی سمجھے جاتے ہیں، اگر عدالت حقوق کے فیصلوں سے متعلق شرعی قانون شہادت وغیرہ کی پیروی نہیں کرے گی تو اس کا فیصلہ کالعدم تصور ہو گا۔
اس تمہید کے بعد سوال کا جواب یہ ہے کہ مجبوری کی صورت میں جب شوہر خلع یا طلاق نہ دے رہا ہو تو عورت درج ذیل شرائط کے ساتھ عدالت سے فسخِ نکاح کی ڈگری لے سکتی ہے:
- فسخِ نکاح کی شرعی وجہ موجود ہو، جیسےشوہر کا مفقود یعنی گم ہو جانا، نان ونفقہ نہ دینا یا ظلم وتشدّد کرنا وغیرہ۔
- عورت یا اس کا وکیل دعوی دائر کرتے وقت دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتوں (یہ گواہ عورت کے اصول یعنی آباؤ اجداد اور فروع یعنی اولاد وغیرہ میں سے نہیں ہونے چاہئیں) کی گواہی کے ذریعہ اپنے دعوی یعنی فسخِ نکاح کی شرعی وجہ کو عدالت میں ثابت کرے اور بہتر یہ ہے کہ عدالت کے طریقہٴ کار کو پورا کرتے ہوئے اپنا حلفیہ بیان(Affidavit) بھی عدالت میں جمع کروائے، تاکہ اگر کسی وجہ سے کوئی ایک گواہ موقع پر نہ مل سکے تو بقیہ ایک گواہ اور مدعیہ کےحلفیہ بیان کے مطابق فیصلہ درست اور نافذ ہو جائے، کیونکہ مالکیہ کے نزدیک دد گواہوں کا ہونا ضروری نہیں، بلکہ ایک گواہ اور مدعیہ کی قسم یعنی حلفیہ بیان کی بنیاد پر کیا گیا فیصلہ بھی درست ہوتا ہے۔
- اگر فسخِ نکاح کی وجہ مثلاظلم وتشددیا نان ونفقہ نہ دینے پر موقع کے گواہ موجود نہ ہوں یا گواہ تو موجود ہوں، مگر وہ عدالت میں گواہی دینے کے لیے تیار نہ ہوں تو ایسی صورت میں شہرت حقیقيہ (حقیقیہ کا مطلب یہ ہے کہ کثیر تعداد میں لوگوں کے درمیان وہ وجہ مشہور ہو) یا شہرتِ حکمیہ (حکمیہ کا مطلب یہ ہے کہ گواہی دینے والے شخص نے کم از کم دو آدمیوں سے سنا ہو کہ فلاں شخص واقعتاً اپنی بیوی کے ساتھ ظلم وزیادتی وغیرہ کرتا ہے) کی بنیاد پر بھی گواہی دی جا سکتی ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ گواہی تو کسی چیز کے ثبوت کے لیے ہوتی ہے ایسی صورت میں نان ونفقہ کی نفی یعنی نہ دینے پر کیسے گواہی قائم کی جا سکتی ہے؟ تو اس کا جواب یہ کہ بعض صورتوں میں نفی پر بھی گواہی دی جا سکتی ہے،چنانچہ علامہ طرابلسی رحمہ اللہ نے معین الحکام اورعلامہ شمس الحق افغانی رحمہ اللہ نے معین القضاة میں نفی پر گواہی کی تین صورتیں ذکر فرمائی ہیں، ان میں سے ایک امرِ منفی ( جس کی نفی کی گئی ہو، جیسے مفلس کے پاس مال نہ ہونا وغیرہ) کا ظنِ غالب سے معلوم ہونا بھی ہے۔
نوٹ:یادرہے کہ ہماری عدالتوں میں عام طور پر خلع کے فیصلوں میں گواہی طلب نہیں کی جاتی، بلکہ محض عورت کے مطالبہ پر ڈگری جاری کر دی جاتی ہے، ایسی صورتِ حال میں درخواست دہندہ کو چاہیے کہ دعوی پیش کرتے وقت اسٹامپ پیپر پر دو گواہوں کا تحریری بیان بھی پیش کر دے یا جج کے سامنے حاضری کے وقت عدالت کی طرف سے گواہی کے مطالبہ کا انتظار کیے بغیر خود ہی یہ کہہ دےکہ میرے پاس اس دعوی پر یہ گواہ موجود ہیں، ان کا بیان بھی سنا یا قلمبند کرلیا جائے، پھر جج اگر کسی ایک گواہ سے بھی دعوی کی تصدیق کروا لے تو ایک گواہ اور مدعیہ کی قسم یعنی حلفیہ بیان کے مطابق فیصلہ درست ہو جائے گا، کیونکہ مسلمان عدالت کا فیصلہ مذاہبِ اربعہ میں سے کسی بھی مذہب کے مطابق ہو تو وہ شرعاً نافذ ہوتا ہے۔
حوالہ جات
التنوير شرح الجامع الصغير (3/ 531) مكتبة دار السلام، الرياض:
"إن المختلعات والمنتزعات هن المنافقات". (طب) عن عقبة بن عامر. (إن المختلعات) في النهاية: المختلعات هن المنافقات يعني اللاتى يطلبن الخلع والطلاق من أزواجهن من غير عذر، يقال خلع امرأته خلعا وخالعها مخالعة واختلعت هي منه
فهي خالع. (والمنتزعات) بالنون فمثناة فوقية فزاء فعين مهملة جمع منتزعة من انتزعت الشيء عن الشيء أبعدته عنه أي التي بعدت نفسها عن زوجها وهو أعم من الأول. (هن المنافقات) لأنهن تظهرن بذلك كراهة الزوج وفي الباطن أنهن يردن سواه يتزوجن به بعد الاختلاع. (طب) عن عقبة بن عامر) الجهني وإسناده حسن.
الكافي في فقه أهل المدينة (2/ 909) مكتبة الرياض الحديثة، الرياض:
باب اليمين مع الشاهد: قال مالك وأصحابه يقضي باليمين مع الشاهد في كل البلاد ويحمل الناس عليه ولا يجوز خلاف ما قالوه من ذلك لتواتر الآثار به عن النبي صلی اللہ علیہ وسلم وعن السلف والخلف من أهل المدينة والعمل المستفيض عندهم بذلك وقد ذكرنا الآثار في كتاب التمهيد ولم يلجأ شيوخنا فيه إلى أصل من أصول أهل المدينة وسلکوا فيه سبيل أهل العراق واستتروا فيه بالليث بن سعد وهم يخالفونه كثيرا إلى رأيهم بغير بينة ولا يرونه حجة والله المستعان.
مسائل في اليمين مع الشاهد كل ما جازت فيه شهادة المرأتين مع الرجال جازت فيه اليمين مع الشاهد الواحد العدل وذلك فيما عدى الأبدان من سائر الأموال.
بداية المجتهد ونهاية المقتصد (4/ 252) دار الحديث – القاهرة:
وأما ثبوت الحق على المدعى عليه بنكوله فإن الفقهاء أيضا اختلفوا في ذلك، فقال مالك، والشافعي وفقهاء أهل الحجاز وطائفة من العراقيين: إذا نكل المدعى عليه لم يجب للمدعي شيء بنفس النكول، إلا أن يحلف المدعي أو يكون له شاهد واحد........... ومن حجة مالك أن الحقوق عنده إنما تثبت بشيئين: إما بيمين وشاهد، وإما بنكول وشاهد، وإما بنكول ويمين.
التوضيح في شرح مختصر ابن الحاجب (7/ 562) مركز نجيبويه للمخطوطات:
وكل جرح فيه قصاص فإنه لا يقتص فيه بشاهد ويمين، وكل جرح لا قصاص فيه مما هو متلف كالجائفة والمأمومة وشبههمافالشاهد واليمين فيهما جائزة؛ لأن العمد والخطأ فيها إنما هو أموال. وفي الديات: من أقام شاهدا عدلا على جرح عمدا أو خطأ فليحلف معه يمينا واحدة، ويقتص في العمد ويأخذ العقل في الخطأ، قيل لابن القاسم: لم قال مالك ذلك في جراح العمد وليست بمال؟ فقال: كلمت مالكا في ذلك فقال: إنه لشيء استحسناه وما سمعنا فيه شيئا، وقد تبين لك بهذا السياق رجحان ما في الشهادات، وزاد في البيان ثالثا بأنه يقضى بالشاهد مع اليمين فيما صغر من الجراح لا فيما عظم منها كقطع اليد وشبهه، وهو قول ابن الماجشون وروايته، واختاره سحنون.
معين الحكام فيما يتردد بين الخصمين من الأحكام (ص: 114) دار الفكر،بيروت:
في القضاء بشهادة النفي:
قال القرافي: اشتهر على ألسنة الفقهاء أن الشهادة على النفي غير مقبولة، وفيه تفصيل، فإن النفي قد يكون معلوما بالضرورة، أو بالظن الغالب الناشئ عن الفحص، وقد يعرى عنهما. فهذه ثلاثة أقسام:
القسم الأول: تجوز الشهادة به اتفاقا، كما لو شهد أنه ليس في هذه البقعة التي بين يديه فرس ونحوه، فإنه يقطع بذلك، وكذلك يجوز أن يشهد أن زيدا لم يقتل عمرا بالأمس؛ لأنه كان عنده في البيت لم يفارقه، وأنه لم يسافر لأنه رآه في البلد، فهذه شهادة صحيحة بالنفي. القسم الثاني: تجوز الشهادة به: أعني بالنفي مستندا إلى الظن الغالب، وذلك في صور منها التفليس، فإن الحاصل فيه إنما هو الظن الغالب؛ لأنه يجوز عقلا حصول المال للمفلس وهو يكتمه.
الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (8/ 6080) دار الفكر - سوريَّة – دمشق:
اتفق الفقهاء على أن المدعي إذا قدم شاهدين على دعواه وقبلت شهادتهما، حكم له بما ادعى. وعلى أنه إذا عجز عن البينة وطلب تحليف المدعى عليه، وحلف، رفضت دعواه. واختلفوا بعدئذ على رأيين فيما إذا نكل المدعى عليه عن اليمين، هل يقضى للمدعي بنكول صاحبه عن اليمين، أم ترد اليمين إلى المدعي، فيقضى له بيمينه وشاهد واحد يقدمه للشهادة؟ قال الحنفية والحنابلة: يقضى بالنكول في الأموال، وقال الجمهور: لا يقضى بالنكول، وترد اليمين على المدعي.
معين القضاة للشيخ شمس الحق الأفغاني (31) مير محمد كتب خانه كراتشي:
مادة:141: الأصل في الشهادة على النفي لا تقبل لأن الشهادة تنبئي عن المشاهدة المترتب عليها العلم بالمشهود إلا أنها تقبل في صو رمخصوصة: الأولى إذا كان النفي معلومابالتواتر مثلا أن فلانالم يكن في هذه البلدة وقت كذا، وإن زيدا لم يقتل عمرابالأمس والثانية أن تكون النفي معلوما بالظن الغالب كالشهادة على التفليس بأنه ليس له مال، والشهادة على حصر الورثةوأنه ليس له وارث غيره والثالثة النفي إذا وقع في الشرط فيجوز إثباته بالبينة كقول الرجل إن لم أدخل الدار اليوم فهي طالق أو فهو حر فشهدا على نفي الدخول تقبل.
المختصر الفقهي لابن عرفة (9/ 383) مؤسسة خلف أحمد الخبتور للأعمال الخيرية:
قوله باليمين مع الشاهد ظاهرة أنها من جهة واحدة..........ابن حبيب: روى مطرف يجوز اليمين مع الشاهد في الحقوق والجراح، عمدها وخطئها، وفي المشامتة ما عدا الحدود.
معين القضاة والمفتين للشيخ شمس الحق الأفغاني (39) مير محمد كتب خانه كراتشي:
مادة:196: الأصل في الشهادة أن تكون مبنية على معاينة الشاهد بنفسه إلا أن بعض الأشيا مما يتعذر على كثير من الناس مشاهدتها فيها بالتسامع لئلا تضيع حقوق الناس، لكن الشهادة بالتسامع إنما تقبل إذا اشتهرت لدى الشاهدبأحد طريقي الشهرة إما الشهرةحقيقية كالمتواتر أو حكمية وهي أن تكون بشهادة عدلين أوعدل وعدلتين والأمور التي فيها الشهادةبالتسامع عشرة.
الأم للشافعي (7/ 207) دار المعرفة، بيروت:
[باب في الأقضية] (قال الشافعي - رحمه الله تعالى -) : أخبرنا مالك عن جعفر بن محمد عن أبيه «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - قضى باليمين مع الشاهد» (قال الشافعي - رحمه الله تعالى -) : فأخذنا نحن وأنتم به.
المجموع شرح المهذب (20/ 257) دار الفكر، بيروت:
وما يثبت بالشاهد والمرأتين يثبت بالشاهد واليمين، لما روى عمرو بن دينار عن أبن عباس رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى بيمين وشاهد، قال عمرو ذلك في الاموال واختلف أصحابنا في الوقف فقال أبو إسحاق وعامة أصحابنا يبنى على القولين فإن قلنا ان الملك للموقوف عليه قضى فيه بالشاهد واليمين لانه نقل ملك فقضى فيه بالشاهد واليمين كالبيع، وان قلنا انه ينتقل إلى الله عز وجل لم يقض فيه بالشاهد واليمين لانه ازالة ملك إلى غير الآدمى فلم يقض فيه بالشاهد واليمين كالعتق.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
17/محرم الحرام 1446ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


