03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حج کے دوران نیو منیٰ میں مزدلِفہ   کے وقوف  کا حکم
84613حج کے احکام ومسائلحج کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

حج کے ایام میں سعودی حکومت نے منیٰ کے قیام کی جگہ کو مزدلفہ کی حدود میں شامل کیا ، جس کو نیو منیٰ کا نام دیا گیا ہےاور یہ دراصل مزدلِفہ کی حدود کے اندر ہے،زیادہ تر پاکستان سے جو لوگ پرائیویٹ جاتے ہیں، ان کا قیام اسی نیو منیٰ میں ہی ہوتا ہے، اسی طرح عرفات سے  واپسی پر مزدلفہ کے وقوف کے لیے لوگ بالکل مزدلفہ اورمنیٰ کی حدود پر جا کر قیام کرتے ہیں، تاکہ وقوفِ مزدلِفہ  کے فوراً بعد رمی جمرات کے لیے چلے جائیں اور رش سے بچ جائیں ، جبکہ آج کل کے اعتبار سےمزدلفہ اورمنیٰ کی یہ  حدود نیو منیٰ  اور منیٰ کی حدود ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ

 ۱- جو لوگ اس جگہ(مزدلفہ اورمنیٰ کی   حدودمیں) وقوفِ  مزدلفہ کرتے ہیں تو کیا ان کا یہ وقوف صحیح ہے؟ کیونکہ پہلے وہ مزدلفہ کی حدود تھیں، لیکن اب حاکمِ وقت نے انہیں نیو منیٰ قرار دے دیا ہے۔

 ۲-کیا حاکمِ وقت کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ منیٰ، مزدلفہ اورعرفات کی حدود کو کم زیادہ کر سکے؟

 ۳- اگر اختیار ہے تو کیا پھر لوگوں کا مزدلفہ کا وقوف صحیح ہو گا، جو انہوں نے حدودِ مزدلفہ اور منیٰ میں کیا جو کہ اب نیو منیٰ بن چکا ہے؟

 ۴- اور اگر مزدلفہ کا وقوف صحیح ہوگا تو پھر جو لوگ نیو منی میں قیام کرتے ہیں، ان کا ۱۰,۱۱,۱۲ ذی الحجہ کو قیام کیسے صحیح ہوگا؟

 کیونکہ منیٰ کا قیام سنت مؤکدہ ہےاور چنداقوال واجب کےبھی ملتے ہیں،منیٰ میں رش اتنا ہوتا ہےکہ کسی دوسرے خیمے میں جاکررات گزارنا ممکن نہیں ہوتا،اور انتظامی اعتبار سےبھی وہاں کے منتظمین ایسا نہیں کرنے دیتے،  اس صورت میں یہ دونوں باتیں کیسے جمع ہوسکتی ہیں کہ کوئی ایک جگہ پر وقوفِ مزدلفہ بھی کرے اور اسی جگہ پرمنیٰ کا قیام بھی کرے۔            

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

حج اورعمرہ ایک طرف اسلام کی  والہانہ و عاشقانہ عبادتیں ہیں تو دوسری طرف یہ اہلِ اسلام کی شوکت اور شانِ اجتماعیت کا عظیم مظہر  بھی ہیں، ان  کے مناسک یعنی افعال و احکام محبوبانہ اداؤں،عظیم یادگاروں ،پاکیزہ فضاؤں اور مقدس جگہوں سے وابستہ ہیں،اور ان  مشاعرِ مقدسہ جیسےحرمین شریفین،منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ وغیرہ کی حدودبھی  توقیفی ہیں ،جو خود  شارع علیہ السلام نے بیا ن فرمائی ہیں، البتہ یہ بات قابلِ تحقیق ہے کہ  سعودی حکومت نے بظاہر مزدلفہ کی جو حدود منیٰ میں شامل کرکے  انہیں   نیو منیٰ کا نام دیا ،تو کیا  یہ مزدلفہ ہی کی حدود تھیں؟ یا حقیقت میں یہ جگہ منیٰ ہی کا  حصہ تھی اوراب حکومت نے   وہاں کے مشائخ  و  علماء کرام سے تحقیق و مشورہ کے بعداس کی نشاندہی کرکےاسے  نیو

 منیٰ کا نام دیا ہے؟بہر حال سوال میں مذکور تفصیل کےمطابق جوابات بالترتیب یہ ہیں:

۱- جو لوگ نیو منیٰ میں وقوفِ مزدلفہ کرتے ہیں توچونکہ  پہلے وہ مزدلفہ کی حدود تھیں،اس لیے ان کاوہاں پر  وقوفِ مزدلفہ  صحیح ہے۔

۲- یہ حدود توقیفی ہیں،لہٰذا حاکمِ وقت کو اس بات کا اختیارنہیں  کہ وہ منیٰ، مزدلفہ اورعرفات کی حدود کو کم یا زیادہ کر ے،البتہ ان حدود کی نشاندہی کی ضرورت ہوتو اس کا اختیار ہے۔  

۳- حاکم کوان حدود کے کم یا زیادہ  کرنے کا اختیارنہیں، اس لیے حدودِ مزدلفہ و منیٰ اگر واقع میں مزدلفہ ہی کی حدود تھیں تو انہیں نیو منیٰ کا نام دینے کے باوجود اس جگہ وقوفِ مزدلفہ صحیح ہوگا۔واضح رہےکہ دسویں ذی الحجہ کی رات مزدلفہ میں گزارنا خواہ خیمہ میں ہو یا کھلے آسمان کے نیچے سنت موٴکدہ ہے اور وقوفِ مزدلفہ واجب ہے،اگریہ  وقوف نہیں کیا گیا یا کسی دوسری جگہ کیا گیا تو دم واجب ہوگا، البتہ اگر کوئی شخص بہت بیمار یا کمزور ہو یا عورت کثرتِ ازدحام کی وجہ سے یہ وقوف نہ کرسکے تو اس پر دم وغیرہ نہ آئے گا۔  

۴- مزدلفہ کا وقوف تو ان کے مزدلفہ کی حدودمیں ہونے کی وجہ سے صحیح ہوگا،جبکہ خیمے  حاجیوں کی کثرت اور جگہ کی قلت کی وجہ سے مزدلفہ کی حدود(نیومنیٰ)  تک پہنچا دیےگئے ہوں تولوگوں کا اصل منیٰ کی حدود سے باہر اس جگہ قیام بھی بلاکراہت جائز ہوگا، جیسےکہ  مسجد بھر جانے سے نمازیوں کا مسجد سے باہر صف بنانا جائز ہے ،مگرچونکہ منیٰ کی راتیں منیٰ ہی میں گزارنا سنت ہے،اس لیے کوشش ضرور کرنی چاہیے کہ ان راتوں کا کچھ حصہ اصل منیٰ میں گزاریں، تاکہ سنت ادا ہوجائے۔

حوالہ جات

أحكام القرآن للجصاص ط العلمية (1/ 378):

قال الله تعالى: {فإذا أفضتم من عرفات فاذكروا الله عند المشعر الحرام} ولم يختلف أهل العلم أن المشعر الحرام هو المزدلفة وتسمى جمعا.

مسند أحمد ط الرسالة (27/ 316):

حدثنا أبو المغيرة، قال: حدثنا سعيد بن عبد العزيز، قال: حدثني سليمان بن موسى، عن جبير بن مطعم، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:كل عرفات موقف، وارفعوا عن بطن عرنة ، وكل مزدلفة موقف، وارفعوا عن محسر، وكل فجاج منى منحر، وكل أيام التشريق ذبح .]حديث صحيح لغيره وهذا إسناد ضعيف، سليمان بن موسى- وهو الأموي المعروف بالأشدق- لم يدرك جبير بن مطعم، وقد اضطرب فيه ألوانا كما سيأتي في التخريج، وبقية رجاله ثقات رجال الصحيح. [

معجم البلدان  للحموي ،المتوفى: 626هـ (5/ 198،121،120):

المزدلفة:...وهو مكان بين بطن محسر و المأزمين... و حدّه إذا أفضت من عرفات تريده فأنت فيه حتى تبلغ القرن الأحمر دون محسّر وقزح الجبل الذي عند الموقف، وهي فرسخ من منى ... مِنى: بالكسر، والتنوين، في درج الوادي الذي ينزله الحاجّ ويرمي فيه الجمار من الحرم،...وعلى رأس منى من نحو مكة عقبة ترمى عليها الجمرة يوم النحر، ومنى شعبان بينهما أزقّة والمسجد في الشارع الأيمن ومسجد الكبش بقرب العقبة وبها مصانع و آبار وخانات وحوانيت، وهي بين جبلين مطلّين عليها.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار:2/ 511،512):

 (ثم وقف) بمزدلفة، ووقته من طلوع الفجر إلى طلوع الشمس، ولو مارا كما في عرفة، لكن لو تركه بعذر كزحمة بمزدلفة لا شيء عليه... هذا الوقوف واجب عندنا لا سنة، والبيتوتة بمزدلفة سنة مؤكدة إلى الفجر لا واجبة خلافا للشافعي فيهما كما في اللباب وشرحه...(قوله كزحمة) عبارة اللباب إلا إذا كان لعلة أو ضعف، أو يكون امرأة تخاف الزحام فلا شيء عليه اهـ ...فالأولى تقييد خوف الزحمة بالمرأة، ويحمل إطلاق المحيط عليه لكون ذلك عذرا ظاهرا في حقها يسقط به الواجب بخلاف الرجل.

ایضا :2/ 503،520):

(قوله ومكث بها إلى فجر عرفة) أفاد طلب المبيت بها فإنه سنة كما في المحيط، وفي المبسوط: يستحب أن يصلي الظهر يوم التروية بمنى ويقيم بها إلى صبيحة عرفة اهـ ويصلي الفجر بها لوقتها المختار، و هو زمان الإسفار، وفي الخانية بغلس، فكأنه قاسه على فجر مزدلفة والأكثر على الأول فهو الأفضل شرح اللباب...(قوله فيبيت بها للرمي) أي ليالي أيام الرمي هو السنة فلو بات بغيرها كره، و لا يلزمه شيء لباب .

محمدعبدالمجیدبن مریدحسین

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

   13 /صفر/1446ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمدعبدالمجید بن مرید حسین

مفتیان

آفتاب احمد صاحب / مفتی محمد صاحب / سعید احمد حسن صاحب