03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثتی مکان کی تقسیم کا طریقہ
84405میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے سسر صاحب کا انتقال ہوا، انہوں نے ترکہ میں ایک مکان چھوڑا، اس گھر کی تقسیم کس طرح ہو گی؟ ان کے ورثاء میں تین بیٹے، تین بیٹیاں اور ایک بیوہ شامل ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نےبوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا، چاندی، نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جوساز وسامان چھوڑا ہےاوران کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب ہو، يہ  سب ان کا ترکہ ہے۔اس میں سے ان کے کفن دفن کے متوسط اخراجات نکالنے،ان کے ذمہ واجب الاداء قرض ادا کرنے اور کل ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک ان کی جائز  وصیت پر عمل کرنے کے بعد جو ترکہ باقی بچے اس میں سے چوتھا حصہ مرحوم کی بیوہ کو آٹھواں حصہ دینے کے بعد بقیہ ترکہ ان کے بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان اس طرح تقسیم کریں کہ ہر بیٹے کو بیٹی کی بنسبت دوگنا حصہ دیا جائے گا، لہذا پیچھے ذکر کیے گئے حقوق ادا کرنے کے بعد باقی ترکہ کو بہتر(72) حصوں میں برابر تقسيم كر كے مرحوم کی بیوہ کو نو (9) حصے، ہربیٹے کوچودہ(14) حصے اور ہر بیٹی کو سات (7) دیے جائیں گے، تقسیم ِ میراث کا نقشہ یہ ہے:

نمبر شمار

ورثاء

عددی حصہ

فیصدی حصہ

1

بیوہ

9

12.5%

2

بیٹا

14

19.444%

3

بیٹا

14

19.444%

4

بیٹا

14

19.444%

5

بیٹی

7

9.722%

6

بیٹی

7

9.722%

7

بیٹی

7

9.722%

حوالہ جات

القرآن الكريم: [النساء: 12]

وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

السراجی فی المیراث:(ص:19)، مکتبۃ البشری:

وأما لبنات الصلب فأحوال ثلاث: النصف للواحدۃ، والثلثان للإثنین فصاعدا، ومع الابن للذکر مثل حظ الأنثیین وھو یعصبھن.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

21/محرم الحرام 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب