03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
وراثتی مکان کی رقم کسی ایک وارث کو دینا
84329میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

کیا یہ شرعی طور پر جائز ہے کہ مرحوم کی  پوری جائیداد سے حاصل ہونے والی رقم ایک شخص کو منتقل کردی جائے اور وہ شخص اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرے، کیونکہ اس نے عمارت پر رنگ و روغن مرمت وغیرہ پر پیسے خرچ کیے ہیں؟یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ تمام وارثان میں بیٹی اس بات پر متفق نہیں ہے کہ رقم کو ایک شخص کو منتقل کی جائے جو اپنی مرضی سے غلط حصے کرے۔ قرآن و سنت کی روشنی میں جواب درکار ہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ میں ہر وارث کا شرعی حصہ واضح طور پر بیان کیا گیا ہے، اس لیے تقسیم سے پہلے میت کے ترکہ میں تمام ورثاء اپنے شرعی حصوں کے مطابق حق دار اور شریک ہوتے ہیں، لہذا کسی ایک یا بعض ورثاء کا ترکہ کی رقم پر قبضہ کر کے اپنی مرضی سے اس کو تقسیم کرنا یا دیگر ورثاء کی رضامندی کے بغیر اس میں تصرف کرنا  ہرگز جائز نہیں، قرآن وسنت میں کسی کا مال ناحق دبانے پر سخت وعیدیں آئی ہیں، لہذا ترکہ پر قابض بیٹے کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے والد مرحوم کا ترکہ تمام ورثاء کے درمیان ان کے شرعی حصوں کے مطابق جلد از جلد تقسیم کر دے، تاکہ ہر شخص اپنے حصہ سے نفع اٹھا سکے۔

البتہ اس شخص نے ترکہ کی عمارت پر جو رنگ روغن وغیرہ کروایا ہے تو وہ ترکہ کی رقم سے اپنے اخراجات وصول کرنے کا حق رکھتا ہے، بشرطیکہ اس نے یہ اخراجات واپس لینے کے ارادے سے یہ رنگ وغیرہ کروایا ہو۔

حوالہ جات

صحيح مسلم (4/ 1997) دار إحياء التراث العربي – بيروت:

 عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «أتدرون ما المفلس؟» قالوا: المفلس فينا من لا درهم له ولا متاع، فقال: «إن المفلس من أمتي يأتي يوم القيامة بصلاة، وصيام، وزكاة، ويأتي قد شتم هذا، وقذف هذا، وأكل مال هذا، وسفك دم هذا، وضرب هذا، فيعطى هذا من حسناته، وهذا من حسناته، فإن فنيت حسناته قبل أن يقضى ما عليه أخذ من خطاياهم فطرحت عليه، ثم طرح في النار»

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (4/ 488) دار إحياء التراث العربي:

 ومن عمر دار زوجته بماله أي بمال الزوج بإذنها أي بإذن الزوجة فالعمارة تكون لها أي للزوجة لأن الملك لها وقد صح أمرها بذلك والنفقة التي صرفها الزوج على العمارة دين له أي للزوج عليها أي على الزوجة لأنه غير متطوع فيرجع عليها لصحة الأمر فصار كالمأمور بقضاء الدين۔

 وإن عمّرها أي الدار لها أي للزوجة بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة لها أي للزوجة وهو أي الزوج في العمارة متبرع في الإنفاق فلا يكون له الرجوع عليها به وإن عمر لنفسه بلا إذنها أي الزوجة فالعمارة له أي للزوج لأن الآلة التي بنى بها ملكه فلا يخرج عن ملكه بالبناء من غير رضاه فيبقى على ملكه فيكون غاصبا للعرصة وشاغلا ملك غيره بملكه فيؤمر بالتفريغ إن طلبت زوجته ذلك كما في التبيين لكن بقي صورة وهي أن يعمر لنفسه بإذنها ففي الفرائد ينبغي أن تكون العمارة في هذه الصورة له والعرصة لها ولا يؤمر بالتفريغ إن طلبته انتهى.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

16/محرم الحرام 1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب