03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عربی سیکھنے کے لیے گفتگو میں قرآنی آیات پڑھنے کا حکم
84530ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

سوال یہ ہے کہ  کوئی بندہ قرآنی عربی بولنے کی غرض سے عربی بول چال میں قرآنی آیات کا استعمال کرتا ہے ، جیسے  کوئی کسی کو کہہ دے: وأنا معکم أينما کنتم ،اور اس آیت سے اس کی نیت قرآنی آیت کی تلاوت نہ ہو۔یا کوئی کہہ دے کہ ولا تحسبن المشرفین  غافلین عما یفعل الطلاب إنما يؤخرھم لیوم تشخص فیہ الأبصار، اور اس آیت سے اس کا مقصد قرآنی آیت کی تلاوت نہ ہو بلکہ قرآنی عربی میں بول چال سیکھناہو۔ اور اس کی نیت میں بھی کسی قرآنی آیت میں  تغییر بالکل نہ ہو۔اس میں کسی حد تک گنجائش ہے ؟رہنمائی فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی کام یا واقعہ کے پیش آنےکے بعد قرآن کریم کی آیات مبارکہ کو اس پر منطبق کرتے ہوئے پڑھنا اگر بطور استشہاد اور تمثیل ہو اور اس میں کسی قسم کا استہزا یا مزاح نہ ہو تو اس کی گنجائش ہے،لیکن آیات قرآنیہ کو اس طرح اپنی گفتگو کا حصہ بنانا جائز نہیں کہ ان کو اللہ تعالی کی مراد اور مقصود سے  پھیر کر کسی اور غرض کے لیے بولا جائے ، بلکہ  اس میں  اگر استہزا اور مزاح شامل ہو تو نوبت کفر تک پہنچنے کا اندیشہ ہے،لہذا  سوال میں مذکورہ طریقے پر قرآنی آیات کو اللہ تعالیٰ کی مراد سے پھیر کر ذاتی گفتگو میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے ۔

حوالہ جات

كان  رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطبنا إذ جاء الحسن والحسين عليهما قميصان أحمران يمشيان       ويعثران، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم من المنبر فحملهما ووضعهما بين يديه، ثم قال: " صدق الله {إنما أموالكم وأولادكم فتنة} [التغابن: 15] نظرت إلى هذين الصبيين يمشيان ويعثران فلم أصبر حتى قطعت حديثي ورفعتهما.(سنن الترمذی:رقم الحدیث:3774، (5/ 658)

قال لمن يقرأ القرآن و لايتذكر كلمةً: {والتفت الساق بالساق} [القيامة: 29] ، أو ملأ قدحا، وجاء به وقال: {وكأسا دهاقا} [النبأ: 34] ، أو قال: {فكانت سرابا} [النبأ: 20] بطريق المزاح، أو قال عند الكيل والوزن: {وإذا كالوهم أو وزنوهم يخسرون} [المطففين: 3] بطريق المزاح، أو قال لغيره دستار: {ألم نشرح} [الشرح: 1] بستة يعني أبديت العلم، أو جمع أهل موضع، وقال: {فجمعناهم جمعا} [الكهف: 99] ، أو قال: {وحشرناهم فلم نغادر منهم أحدا} [الكهف: 47] ، أو قال لغيره: كيف تقرأ و النازعات نزعًا بنصب العين، أو برفعها و أراد به الطنز، أو قال لرجل أقرع: أشتمك فإن الله تعالى قال: {كلا بل ران} [المطففين: 14] ، أو دعا إلى الصلاة بالجماعة فقال: أنا أصلي وحدي إن الله تعالى قال: {إن الصلاة تنهى} [العنكبوت: 45] ، أو قال لغيره: تفشيله يجوز فإن التفشيل يذهب بالريح قال الله تعالى: {ولا تنازعوا فتفشلوا وتذهب ريحكم} [الأنفال: 46] كفر في هذه الصور كلها.(الفتاوی الھندیۃ : 2/ 267 (

محمد ادریس

دارالافتاء جامعۃ الرشید،کراچی

5 ٖصفر1446ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد ادریس بن محمدغیاث

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب