| 84278 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
سوال:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
ایک عالم دین مسجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے ہیں، بچپن میں قرآن پاک حفظ کیاپھردرس نظامی میں آگئے، کراچی کے ایک بڑے جامعہ سے دورہ حدیث شریف کیا اور ایک جامعہ میں تخصص فی الافتاء کیا، پھر 12 سال سے درس نظامی کی تدریس میں مصروف ہو گئے، اس دوران پورا عرصہ تراویح میں قرآن پاک نہیں سنا سکے، البتہ یومیہ ایک پارہ قرآن کریم کی تلاوت کامعمول ہے، مسجد کی کمیٹی میں سےبعض کااصرار ہے کہ امام صاحب تراویح میں قرآن پاک سنائیں ورنہ انکی چھٹی کرا دیں، حالانکہ امامت کے لیے تقرری کے وقت غیر مشروط تقرری کی گئی تھی۔
امام صاحب کا کہنا یہ ہے کہ لمبا عرصہ تراویح میں نہ سنانے کی وجہ سے اب تراویح میں سنانا مشکل ہے۔ کیا صرف اس بنیاد پر ایک عالم دین کو امامت سے معزول کرنا درست ہے؟ جبکہ وہ اپنے فرائض بحسن خوبی انجام دے رہےہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
امام کی تقرری کےوقت اگرتراویح میں قرآن سنانےکی شرط نہیں لگائی گئی تھی توایسی صورت میں بعدمیں امام کوتراویح پر مجبور کرنااورخاص اسی وجہ سےامام کوامامت سےمعزول کرناشرعادرست نہیں ،مسجدکمیٹی کےحضرات کوچاہیےکہ شروع میں جومعاہدہ ہواہے،اس کےمطابق فیصلہ کریں۔
ہاں اگرتقرری کےوقت باقاعدہ تراویح پڑھانےکی شرط لگائی گئی تھی،اورامام نےاس وقت اس کوتسلیم بھی کرلیاتھاایسی صورت میں بعدمیں امام کاتراویح پڑھانےسےانکارکرناجائزنہیں ہوگا،امام کی طرف سےانکارکی صورت میں مسجدکمیٹی کےلیے ایسےامام کو امامت سےشرعامعزول کرنےکااختیار ہوگا۔
یہ توصولی جواب ہےکہ معاہدہ کےاعتبارسےدونوں کواس کی پاسداری کرنی چاہیے،لیکن امام اورمسجدکمیٹی دونوں کوچاہیےکہ اس طرح کےمسائل کو باہم بیٹھ کر مشاورت کےذریعہ حل کیاکریں۔
مثلاپہلی صورت میں اگرچہ معاہدہ کی روسےشرعاامام پرتروایح میں قرآن سنانالازم نہیں،لیکن امام چونکہ حافظ بھی ہےاورتلاوت کامعمول بھی ہے،اس لحاظ سےرمضان شروع ہونےسےدوتین مہینےپہلےسےتیاری شروع کردےتو تروایح میں سنانا اس کےلیےآسان ہوجائےگااورمسجدکمیٹی کامسئلہ بھی حل ہوجائےگا۔
اوردوسری صورت میں اگرچہ مسجدکمیٹی شرعاامام کومعزول کرسکتی ہے،لیکن مسجدکمیٹی کو چاہیےکہ اگرامام اپنی دیگرذمہ داریاں بحسن وخوبی انجام دےرہاہے،توصرف تراویح نہ سنانےکی وجہ سےاس کومعزول نہ کرے،بلکہ مشاورت سےکوئی درمیانی صورت نکالی جائے۔
حوالہ جات
وقال اللہ تعالی فی سورۃ بنی اسرائیل: آیت نمبر 34 :واوفوبالعہدان العہدکان مسئولا۔
"تفسير ابن كثير " 5 / 74:وقوله [تعالى] (3) : { وأوفوا بالعهد } أي الذي تعاهدون عليه الناس والعقود التي تعاملونهم بها، فإن العهد والعقد كل منهما يسأل صاحبه عنه { إن العهد كان مسئولا } أي: عنه۔
"صحیح البخاری" 1/303:قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: المسلمون عندشروطہم ۔
محمدبن عبدالرحیم
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
10/محرم الحرام 1446ھج
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمّد بن حضرت استاذ صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


