03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
12سالہ لڑکی کاوالدین کی اجازت کےبغیر30سالہ لڑکےکےساتھ کورٹ میں جاکرنکاح  کرنا
84300نکاح کا بیاننکاح کے منعقد ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں

سوال

 سوال:السلام علیکم  ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

مسئلہ یہ ہےکہ اگرلڑکی کی عمر12سال ہواوروہ گھروالوں کی مرضی کےخلاف گھرسےبھاگ کر،ایک 30 سالہ شخص کےساتھ کورٹ میں جاکراپنی  عمر 20سال بتاکرکورٹ میں نکاح کرلےاور3سال کےبعد اس آدمی کےچنگل سےآزاد ہوکرگھرآئےاورپھرکہےکہ میں دھوکےسےپھنس گئی تھی اورمشکل سےواپس آئی ہوں،اوراب مزید اس کےساتھ نہیں رہناچاہتی ،لیکن وہ آدمی اس لڑکی کو طلاق نہیں دتیاتومذکورہ صورت میں کیاحکم ہے؟

کیا12سالہ لڑکی کانکاح ہوگیاتھا؟

اگرنکاح ہوگیاتھاتوطلاق کےلیےکورٹ جاناہوگا؟

لڑکی کافرقہ سنی ہےاورلڑکےکافرقہ شیعہ ہے۔

اسلام اورقرآن کی روشنی میں ع اس مسئلہ کاحل بتائیں  کہ یہ نکاح (جو کورٹ میں ہواہے)شرعامعتبرہےیانہیں ؟اوربعدمیں خلع کاکیاطریقہ ہوگا؟

تنقیح:سائل نےوضاحت کی ہےکہ لڑکےکاتعلق شیعہ مکتبہ فکرسےہے،ماتم وغیرہ میں شریک ہوتاہے،نمازبھی شیعوں کےساتھ پڑھتاہے۔

والدکاکہناہےکہ جس وقت نکاح ہوا،اس وقت بچی بالغہ نہیں تھی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہےکہ نابالغہ کاکیاہوانکاح باتفاق ائمہ اربعہ درست نہیں،نیز شیعہ مسلک سےتعلق رکھنےوالاشخص اگرکفریہ عقائد نہ رکھتاہوتوبھی وہ سنی لڑکی کاکفونہیں،اورغیرکفومیں بالغ لڑکی کاکیاہوانکاح بھی راجح قول کےمطابق منعقدنہیں ہوتا۔

اس تفصیل کی روشنی میں صورت مسئولہ میں خوداپنانکاح کرنےوالی لڑکی نکاح کےوقت بالغہ  تھی یانابالغہ،بہرحال اس کاکیاہوانکاح شرعامنعقدنہیں ہوا،لہذااس نکاح کوختم کرنےکےلیےشرعاطلاق وغیرہ کسی چیز کی ضرورت نہیں۔

حوالہ جات

"رد المحتار"9 / 443:

ونظم العلامة الحموي ما تعتبر فيه الكفاءة فقال : إن الكفاءة في النكاح تكون في ست لها بيت بديع قد ضبط: نسب وإسلام كذلك حرفة          حرية وديانة مال فقط

"بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع "6 / 119:

( فصل ) : ومنها الدين في قول أبي حنيفةوأبي يوسف حتى لو أن امرأة من بنات الصالحين إذا زوجت نفسها من فاسق كان للأولياء حق الاعتراض عندهما ؛ لأن التفاخر بالدين أحق من التفاخر بالنسب ، والحرية والمال ، والتعيير بالفسق أشد وجوه التعيير ۔

"الدر المختار للحصفكي" 3 / 62:

(ويفتى) في غير الكف ء) بعدم جوازه أصلا) وهو المختار للفتوى (لفساد الزمان)

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

14/محرم الحرام  1446ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب