| 84555 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
میں نے طلاق کی قسم کھائی تھی کہ بہنوئی کے ساتھ ہر تعلق (غمی اورخوشی) کاختم اوروہ ہمارے گھرغمی اورخوشی میں نہیں آئیں گے، کیا گاؤں کہ مشترکہ حجرے میں جو سب کی ملکیت ہے، غمی اورخوشی کے موقع پر اس حجرہ میں آکرشریک ہو سکتے ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب کوئی لفظ قسم اٹھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے تین معانی مراد ہو سکتے ہیں:
لغوی معنی: اہلِ لغت نے اس لفظ کو جس معنی کے لیے وضع کیا ہے، جیسے کوئی شخص کہے کہ اللہ کی قسم میں فلاں کے گھر میں قدم نہیں رکھوں گا تو یہاں قدم رکھنے کا لغوی معنی ننگے پاؤں کو گھر کے دروازے کے اندر رکھناہے، چاہے خود داخل ہو یا نہ ہو۔
عرفی معنی: لوگوں کےعرف میں اس لفظ کا جو معنی مراد لیا جاتا ہے تووہ عرفی معنی کہلاتاہے، جیسے گھر میں قدم رکھنے سے مراد عرف میں داخل ہونا ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی طریقے سے داخل ہو، خواہ جوتا پہن کر یا سواری پر سوار ہو کر وغیرہ،صرف پاؤں رکھنا اور خود داخل نہ ہونا عرفاً داخل ہونا نہیں ہے۔
مقصودی معنی: مقصودی معنی سے قسم اٹھانے والے کی وہ غرض اور مقصد مراد ہے جس کے لیے وہ لفظ بولا گیا ہے، جیسے گھرمیں قدم نہ رکھنے کا مقصد عام طور پرقطع تعلقی اور بول چال ختم کرنا ہوتا ہے۔
فقہائے حنفیہ رحمہم اللہ کے نزدیک قسم کے مسائل میں لفظ کے مذکورہ بالا تین قسم کے معانی میں سے صرف دوسرا معنی یعنی عرفی معنی مراد ہوتا ہے، لغوی معنی اور اس لفظ کا مقصودی معنی مراد نہیں ہوتا ہے۔
مذکورہ بالاتفصیل کی روشنی میں مذکورہ سوال کاجواب یہ ہے کہ بہنوئی کے غم اورخوشی کے موقع پر گھرمیں آنے اورحجرے میں تعزیتی مجلس میں اس کے ساتھ ملنے بیٹھنے دونوں سے طلاق ہوجائے گی،کیونکہ مذکورہ جملہ کاعرفامطلب ہوتاہے کہ میں کسی بھی طرح غم اورخوشی میں اس کے ساتھ تعلق نہیں رکھوں گا ،اس سےصرف گھرمیں داخل ہوکرخوشی اورغمی میں شریک ہونامراد نہیں ہوتا ہے،لہذابہنوئی کے غم اورخوشی میں شرکت اورآپ کے اس کے ساتھ ملنے بیٹھنے سے آپ کی بیوی پرطلاق واقع ہوجائے گی۔
حوالہ جات
فی رد المحتار (ج 14 / ص 12):
الأيمان مبنية على الألفاظ لا على الأغراض ( قوله الأيمان مبنية على الألفاظ إلخ ) أي الألفاظ العرفية بقرينة ما قبله ،واحترز به عن القول :ببنائها على عرف اللغة أو عرف القرآن ففي حلفه لا يركب دابة ولا يجلس على وتد ، لا يحنث بركوبه إنسانا وجلوسه على جبل وإن كان الأول في عرف اللغة دابة ، والثاني في القرآن وتدا كما سيأتي وقوله : لا على الأغراض أي المقاصد والنيات ، احترز به عن القول ببنائها على النية .فصار الحاصل أن المعتبر إنما هو اللفظ العرفي المسمى ، وأما غرض الحالف فإن كان مدلول اللفظ المسمى اعتبر وإن كان زائدا على اللفظ فلا يعتبر ، ولهذا قال في تلخيص الجامع الكبير وبالعرف يخص ولا يزاد حتى خص الرأس بما يكبس ولم يرد الملك في تعليق طلاق الأجنبية بالدخول ومعناه أن اللفظ إذا كان عاما يجوز تخصيصه بالعرف كما لو حلف لا يأكل رأسا فإنه في العرف اسم لما يكبس في التنور ويباع في الأسواق ، وهو رأس الغنم دون رأس العصفور ونحوه ، فالغرض العرفي يخصص عمومه ، فإذا أطلق ينصرف إلى المتعارف ، بخلاف الخارجة عن اللفظ كما لو قال لأجنبية: إن دخلت الدار فأنت طالق ، فإنه يلغو ولا تصح إرادة الملك أي إن دخلت وأنت في نكاحي وإن كان هو المتعارف لأن ذلك غير مذكور ، ودلالة العرف لا تأثير لها في جعل غير الملفوظ ملفوظا .إذا علمت ذلك فاعلم أنه إذا حلف لا يشتري لإنسان شيئا بفلس فاللفظ المسمى وهو الفلس معناه في اللغة والعرف واحد ، وهو القطعة من النحاس المضروبة المعلومة فهو اسم خاص معلوم لا يصدق على الدرهم أو الدينار فإذا اشترى له شيئا بدرهم لا يحنث وإن كان الغرض عرفا أن لا يشتري أيضا بدرهم ولا غيره ولكن ذلك زائد على اللفظ المسمى غير داخل في مدلوله فلا تصح إرادته بلفظ الفلس ، وكذا لو حلف لا يخرج من الباب ، فخرج من السطح لا يحنث ، وإن كان الغرض عرفا القرار في الدار وعدم الخروج من السطح أو الطاق أو غيرهما ، ولكن ذلك غير المسمى ولا يحنث بالغرض بلا مسمى ، وكذا لا يضربه سوطا فضربه بعصا لأن العصا غير مذكورة ، وإن كان الغرض لا يؤلمه بأن لا يضربه بعصا ولا غيرها ، وكذا ليغدينه بألف فاشترى رغيفا بألف وغداه به لم يحنث وإن كان الغرض أن يغديه بما له قيمة وافية وعلى ذلك مسائل أخرى۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۷/صفر ۱۴۴۶ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


