03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
دباؤڈال کرطلاق نامہ پردستخط کرنے سے طلاق کاحکم
84588طلاق کے احکاممدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم

سوال

میں نے ایک طلاق یافتہ عورت سے شادی کی،جوہرلحاظ سے اچھی ہے،اس خاتون کی ایک  بیٹی بھی ہے،جس سے مجھے کوئی مسئلہ نہیں،لیکن میرےگھروالے مجھے بہت تکلیف دیتے ہیں،میری بیوی کومارتے بھی رہتے ہیں،مارپٹائی کاکام اس وقت ہوتاتھا جب میں کام پرہوتاتھا،گھروالی نے مجھے کبھی نہیں بتایا،مجھے یہ بات ہمسایوں سےپتہ لگی،کیونکہ میں گاؤں میں رہتاہوں،گاؤں میں ہربات کاسب کوپتہ چل جاتاہے،میں نے گھرمیں بات کی تولڑائی جھگڑے شروع ہوگئے،سب کہتے طلاق دواس کو،میری اہلیہ اورمجھے بہت زیادہ ذہنی طورپرپریشان کیاجانے لگا،میری فیملی  نے میری گھروالی کوکرنٹ لگانی کی بھی کوشش کی،لیکن اللہ نے اس دن کرم کیا،اس کے بعدمیں نے بیوی کوان کےگھربھیج دیا،اس کے جانے کے بعدگھروالے مجھے اورتنگ کرنے لگے،گھروالے ایک دن کہنے لگے کہ اسے واپس لے کرآؤ،مجھے ڈرتھاکہیں نقصان نہ پہنچادیں،اس وقت میری بیوی حاملہ بھی تھی،میں لےآیا،میری بیوی کوغلط دوائی دی،لیکن اللہ نے حفاظت فرمائی،اس کے بعدمیں واپس گھرچھوڑآیا،لیکن میری والدین ہروقت مجھے کہتے طلاق دو،ہروقت گھرمیں لڑائی اوردباؤ کہ طلاق دو،کبھی دھمکی کہ بیوی کواوربچہ کوقتل کردیں گے،ابونے دوستوں کے ذریعہ بھی طلاق دینے پرمجبورکیا،میرے ابوکےدوستوں نے کہاکہ اس پرجھوٹاپرچہ کروادو،ایسے نہیں مانے گا،یہ بھی کہاکہ پولیس سےگرفتارکروادیتے ہیں،میں زورزبردستی سے تنگ آچکاتھا،ایک دن اسی پریشرمیں آکر میں نے طلاق نامہ پردستخط کردئیے کہ کہیں مجھے یامیری بیوی کویہ نقصان نہ پہنچادیں،زبان سے میں طلاق کے الفاظ نہیں بولے اورنہ ہی طلاق کی نیت کی،مجھے یہ معلوم کرناہے کہ کیااس حالت میں طلاق ہوجاتی ہے؟

تنقیح:سائل نے فون پربتایاہے:میرے چچااورابوکے دوستوں نے پہلے مجھ پردباؤڈالاکہ تمہیں جیل میں ڈالوادیں گے،جھوٹامقدمہ اورایف آئی آرکٹوادیں گےاورسائل کواس طرح کے نتائج پیش آنے کایقین بھی تھا،پھرمجھے ساتھ لیکر گئے اورطلاق نامہ بنوایا اوردستخط کروالئے،اس وقت میں ان کے دباؤ میں تھا،لیکن زبان سے میں نے طلاق کے الفاظ استعمال نہیں کئے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

طلاق نامہ پر زبردستی دستخط کرنے کی تفصیل جوسوال میں درج ہے،اگریہ واقع کے مطابق ہے تواس صورت میں صرف تحریری  طلاق لینے یادستخط کرنے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،وہ خاتون بدستورآپ کے نکاح میں ہے۔فیملی کاآپ کو بغیرکسی معقول وجہ کےطلاق دینے پرمجبورکرنااوردباؤڈالناناجائزاورسخت گناہ ہے،ان کواس گناہ پرصدق دل سے معافی مانگنی چاہیے اوراللہ کے عذاب سے ڈرناچاہیے۔

حوالہ جات

وفی رد المحتار (ج 25 / ص 76):

( كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا ) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن ، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال. “

وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق للنسفي (ج 16 / ص 252):

وفي المحيط قال مشايخنا: إلا إذا كان الرجل صاحب منصب يعلم أنه يتضرر بضرب سوط أو حبس يوم فإنه يكون إكراها وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الاكراه لما يجئ به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الالم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه ،لانه يختلف باختلاف أحوال الناس، فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديدوحبس مديد، ومنهم من يتضرر بأدنى شئ كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملا من الناس أو بحضرة السلطان.

وفی البحر الرائق شرح كنز الدقائق (ج 9 / ص 138):

لو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق ؛لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا كذا في الخانية ، وفي البزازية أكره على طلاقها فكتب فلانة بنت فلان طالق لم يقع۔

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

    ۱۱/صفر ۱۴۴۶ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب